ڈیٹ کے ویڈیو سکینڈلز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرآن مجید میں چھ، سات اقوام کے واقعات کا تذکرہ بہت تفصیل سے کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ فلاں فلاں برائیوں کی وجہ سے یہ قومیں عذابِ الٰہی کی حق دار قرار پائیں اور نیست و نابود کردی گئیں۔ ان واقعات کو بیان کرنے کے بعد بنی نوع انسان کو ان سے ”عبرت“ حاصل کرنے کا کہا گیا ہے کہ ”اے عقل والو! عبرت حاصل کرو! “ اس تناظر میں عقل مند وہی کہلائے گا جو لوگوں کی بربادی سے عبرت حاصل کرتے ہوئے ان کاموں سے دور رہے جن کی وجہ سے وہ لوگ برباد ہوئے ہیں۔ ہم کالم نگاربھی بہت سے واقعات کو اپنے کالم کا حصہ اسی لیے بناتے ہیں کہ قارئین ان سے عبرت حاصل کرتے ہوئے ان کاموں سے دور رہیں مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ بعض لوگ اس حد تک ناسمجھ واقع ہوئے ہیں کہ لوگوں کے واقعات سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور خود وہی کام کرکے ناقابل تلافی نقصان اٹھاتے ہیں۔

میں اکثر اپنی تحریروں میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ڈیٹ پہ جانا، وہاں سرعام بے ہودہ حرکات کرنا اور پھر انتظامیہ یا خود لڑکے کی طرف سے ویڈیو بناکر بلیک کرنا، پھر لڑکیوں کا ہوس کا نشانہ بننا، لڑکیوں اور ان کے خاندان کی بدنامی اور پھر بعض لڑکیوں کا خودکشی کرنا جیسے واقعات بیان کرچکا ہوں۔ مگر پتا نہیں کیوں ان عقل کے اندھوں (خاص کر لڑکیوں ) کو سمجھ نہیں آتی کہ آئے روز ایسے انفراد ی اور اجتماعی واقعات مسلسل اور بہت تیزی سے وقوع پذیر ہورہے ہیں۔

ابھی گزشتہ روز لاہور کے ایک سینما گھر کی چند ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ڈیٹ مارتے نوجوان جوڑوں کو انتہائی غیر اخلاقی حرکات (سرعام اورل سیکس) کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ چند ویڈیوز صرف ایک شو کی ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کب سے یہ کام وہاں چل رہاہوگا اور اگر وہ ساری ویڈیوز وائرل ہوجائیں تو کتنے خاندان برباد ہوں گے، کتنی لڑکیاں بدنامی کے ڈر سے خودکشیاں کریں گی، کتنے گھر اجڑیں گے۔ لڑکے ایسے واقعات پر کبھی خودکشی نہیں کرتے اور نہ ہی ہمارا معاشرہ انہیں طعنے دیتا ہے بلکہ بعض والدین کو تو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ ”جوان ہے ’اگر ایسا کوئی کام کرلیا تو کیا ہوا“ البتہ لڑکیوں کو روز طعنے ملتے ہیں اور آخر وہ روز روز مرنے کی بجائے خود کشی کر کے ایک بار ہی مر جاتی ہیں۔

اس سکینڈل کے بعد بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسی ویڈیوز وائرل کرنا لوگوں کی پرائیویسی لیک کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ ان سے گزارش ہے کہ کیا پبلک مقامات پر ایسی حرکات کرنے کی کوئی جسٹی فکیشن ہے آپ کے پاس؟ کیا ان ویڈیوز کے لیک ہونے سے اب بہت سے لوگ اپنی فیملی کو سینما لے جانے سے انکاری نہیں ہوں گے؟ جولوگ سرعام انتہائی گھٹیا حرکات کرنے والوں پر تنقید کرنے کے بجائے ویڈیوز وائرل ہونے پر تنقید کررہے ہیں تو وہ لوگ پاکستان کو ”سیکس فری کنٹری“ بنانے کی طرف رواں دواں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر کبھی سڑک کنارے کوئی پریمی جوڑا اگر ایسی حرکات کر رہا ہے اور آپ کو برالگ رہا ہے تو آپ اسے منع کرکے ان کو ڈسٹرب مت کریں بلکہ آنکھیں نیچی کرکے گزرجائیں۔ اے عقل کے اندھو! کچھ تو خیال کرو!

مزید یہ کہ یہ پاکستان کا کوئی پہلا سکینڈل نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کئی اجتماعی سکینڈل رونما ہوچکے ہیں۔ مثلاًآج سے دس بارہ سال پہلے پاکستان کے چند پوش شہروں (راولپنڈی) میں ”نیٹ کیفے سکینڈل“ بہت مشہور ہوا تھا جس میں نیٹ کیفے کے مکیبن میں انتظامیہ کی جانب سے خفیہ کیمروں کی مدد سے سینکڑوں لڑکے لڑکیوں کی پورن ویڈیوز بنائی گئی تھیں اور اس پر بہت سی لڑکیوں نے خودکشی بھی کی تھی۔ اس کے بعد عدالتی حکم سے نیٹ کیفے میں چاروں طرف سے بند کیبن بنانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ یہ ویڈیوز آج بھی یوٹیوب اور پورن سائٹس پر موجود ہیں اور مسلسل دیکھی جارہی ہیں۔ عبرت حاصل کرنے کے لیے یوٹیوب پر ”نیٹ کیفے سکینڈل“ لکھ کر ان ویڈیوز کے ابتدائی حصے دیکھے جاسکتے ہیں اور ویڈیوز کے باقی انتہائی غیر اخلاقی حصے یوٹیوب کی پالیسی کی وجہ سے وہاں موجود نہیں ہیں۔

اسی طرح کا ایک اور سکینڈل چند (غالباًتین ) سال پہلے کراچی میں آئس کریم پارلر میں بھی رونما ہوا تھا۔ ویلنٹائن کے موقع پر ”خود ساختہ جوڑے“ ڈیٹنگ کے لیے وہاں آئے تو ان کی رومانس اور پیار کی ویڈیوز انتظامیہ نے خفیہ کیمروں کی مدد سے بنا لیں جن کے ذریعے سے انہیں بلیک میل کیاگیا۔ پھر ان میں سے ایک لڑکی نے بہادری دکھائی اور اے آر وائے کے مشہور پروگرام ”سرعام“ کو اس سارے واقعہ کی اطلاع دی اور پھر اقرارالحسن نے اس پر ایک پورا پروگرام کیا جس میں یہ سب کچھ بے نقاب کیا گیا۔

آئس کریم پارلر کی انتظامیہ نے سرعام ٹیم کو بتایا کہ ان ویڈیوز کے ذریعے وہ لڑکوں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور لڑکیوں سے پیسے کے ساتھ اپنے بھوک مٹانے کا سامان بھی۔ اور پھر یہ ویڈیوز پورن سائٹس کو اچھے خاصے داموں میں بیچ دی جاتی ہیں۔ یہ پروگرام بھی یوٹیوب پر موجود ہے جوعبرت کے لیے دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ تو وہ سکینڈلز ہیں جواجتماعی نوعیت کے ہیں اور میڈیا میں رپورٹ ہوجاتے ہیں یا ذرائع سے ہمیں ان کی خبر مل جاتی ہے جبکہ ہزاروں انفرادی واقعات ایسے بھی ہوں گے جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ان کیسز میں لڑکی بلیک میل ہوتی رہتی ہے یا پھر یہ سوچ کر خودکشی کرلیتی ہے کہ اس کے والدین کی عزت پرحرف نہ آئے یا بعض اوقات جب والدین کو پتا چلتا ہے تو وہ اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنی بیٹیوں کو مار دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے کے واقعات آئے روز اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

قارئین! عقل مند وہی کہلاتا ہے جو اپنی اور دوسروں کی غلطیوں سے عبرت حاصل کرتا ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ اتنے واقعات رونماہونے کے باوجود بھی اب بھی نوجوان لڑکے اور خاص کر لڑکیوں کو ہوش نہیں آیا اور وہ مسلسل اپنی عزت نیلام کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور مسلسل ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ میری تمام لڑکیوں سے گزارش ہے کہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں اور کسی کے ٹریپ (چکنی چپٹی باتوں ) میں آکر کسی صورت ڈیٹ پر مت جائیں، ورنہ کل آپ کے ساتھ بھی وہی ہوسکتا ہے جوپہلے سینکڑوں لڑکیوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔

والدین سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور اعلیٰ تعلیم کے بجائے ان کی جلد ازجلدشادی کو یقینی بنائیں تاکہ ان واقعات میں کمی آسکے اور یہ یاد رکھیں کہ رسول اللہ کے فرمان کے مطابق اگر جوان اولاد کی شادی نہیں کی جاتی اور وہ گناہ میں پڑجاتا ہے تو اس کے گناہ کا بوجھ والدین کے کندھوں پر ہوگا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •