کیا آپ منی کے قطروں کو ناپاک سمجھتے ہیں؟ [ صرف ذہنی بالغوں کے لیے ]

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا ایک پاکستانی مریض یوسف ’جو ایک ہنستا کھیلتا مسکراتا شوخ نوجوان تھا‘ جب کل میرے کلینک میں آیا تو قدرے خجل قدرے حیران اور قدرے پریشان دکھائی دے رہا تھا۔

’ آج آپ کچھ کھوئے کھوئے دکھائئی دے رہے ہیں‘ میں نے کہا

’ ڈاکٹر سہیل! میں چند ہفتوں سے ایک نئے نفسیاتی مسئلے کا شکار ہوں‘

’کس قسم کا نفسیاتی مسئلہ؟ ‘ میں متجسس تھا

’ میں آج کل ایک جنسی تضاد کا شکار ہوں۔ کئی دنوں سے نہ بھوک لگتی ہے نہ ہی نیند آتی ہے۔ کچھ احساسِ گناہ کا بھی شکار ہوں‘

’ اپنا مسئلہ ذرا تفصیل سے بتائیں تا کہ میں اس کی تہہ تک پہنچ سکوں‘

’ ڈاکٹر سہیل! آپ جانتے ہیں کہ میری بیوی نینسی ایک گوری کینیڈین عورت ہے‘

’ جی ہاں میں جانتا ہوں‘

’ وہ ایک اچھی بیوی ہے اور ہر طریقے سے مجھے خوش رکھتی ہے‘

’ کیا آپ کا اشارہ جنسی مسرت کی طرف ہے؟ ‘

’جی ہاں۔ وہ خوابگاہ میں ایک WILD LOVER ہے‘

’ تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ ‘

’وہ دہنی مباشرت بہت پسند کرتی ہے‘

’تو کیا آپ ORAL SEX پسند نہیں کرتے؟ ‘

’ نہیں میں بھی پسند کرتا ہوں‘

’ تو پھر مسئلہ کیا ہے۔ آپ کھل کر بات نہیں کر رہے؟ ‘

’میرا سوال سن کر یوسف قدرے شرمایا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے۔ اس کی آنکھیں جھک گئیں‘

میں بھی خاموش رہا اوراس کے اگلے جملے کا انتظار کرتا رہا۔

اس نے تھوک نگل کر کہا ’چند ہفتوں سے جب نینسی دہنی مباشرت کرتی ہے تو اس کے بعد مجھے KISS کرنا چاہتی ہے‘

’ تو اس میں کیا برائی ہے؟ ‘

’ڈاکٹر صاحب آپ جانتے ہیں کہ منی ناپاک ہوتی ہے اس لیے دہنی مباشرت کے بعد میں نینسی کو KISS نہیں کر سکتا۔ ‘

’ لیکن وہ منی آپ کی ہی ہے کسی اور کی تو نہیں؟ ‘

’ ڈاکٹر صاحب۔ یہی تو مسئلہ ہے۔ یہی تو تضاد ہے۔ اسی لیے تو میں آپ سے مشورہ کرنے آیا ہوں‘

’یوسف صاحب اب جبکہ آپ نے کھل کر مسئلہ بیان کر دیا ہے کیا میں بے تکلفی سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟

’ضرور پوچھیے؟

’ آپ سے کس نے کہا ہے کہ منی ناپاک ہوتی ہے؟ ‘

’ڈاکٹر صاحب سب ہی کہتے ہیں۔ جب میں چودہ سال کا تھا تو میرے والد صاحب ایک شام مجھے اپنے کمرے میں لے گئے کہنے لگے میں تم سے جنسی تعلیم کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں لیکن خود بات کرنے کی بجائے انہوں نے میرے ہاتھوں میں بہشتی زیور دیا اور کہاں فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھ لو‘ اور پھر خود کمرے سے باہر چلے گئے۔

’ تو کیا آپ نے وہ صفحے پڑھے؟ ‘ میں نے پوچھا

’ جی ہاں‘

’ تو کیا لکھا تھا؟ ‘

’ لکھا تھا کہ جب نوجوان لڑکوں کو رات کو شہوانی خواب آتے ہیں اور منی کے قطروں کا اخراج ہوتا ہے تو وہ ناپاک ہو جاتے ہیں اور دوبارہ پاک ہونے کے لیے غسل فرض ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب لڑکیوں کو حیض آتا ہے تو وہ مسجد نہیں جا سکتیں کیونکہ وہ بھی ناپاک ہو جاتی ہیں۔ ‘

اس کے بعد کمرے میں یوسف کافی دیر تک خاموش رہا جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہو۔ پھر کہنے لگا

’ ڈاکٹر سہیل آپ کی منی کے قطروں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ‘

’ اب میں آپ سے بے تکلفی سے بات کرتا ہوں۔ میری نگاہ میں منی پیشاب کی طرح کثیف اور ناپاک نہیں بلکہ لعابِ دہن اور دودھ کی طرح پاک اور صاف رطوبت ہے۔ اسی لیے مغربی عورتیں اسے LOVE MILK کہتی ہیں اور دہنی مباشرت کے دوران وفورِ جذبات سے پی جاتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں

SEMEN IS A SECRETION NOT AN EXCRETION

’ ڈاکٹر سہیل آپ درست فرما رہے ہیں۔ نینسی بھی ایسا ہی سوچتی ہے لیکن آپ میرے مسئلے سے واقف ہیں۔ میرے سب پاکستانی دوست منی کے قطروں کو ناپاک سمجھتے ہیں لیکن اپنی بیویوں سے دہنی مباشرت کے متمنی بھی رہتے ہیں۔ اور ان کی بیویاں اسے ناپاک اور بے حیائی سمھ کر انکار کر دیتی ہیں۔ ۔ میرا ایک دوست تو ہر مہینے ایک طوائف سے صرف دہنی مباشرت کرنے جاتا ہے۔ ‘

’ یوسف صاحب۔ اب آپ بہشتی زیور کو بھول جائیں۔ اور اپنے نقطہِ نظر کو بدلنے کی کوشش کریں۔ ‘

’ میں کوشش کروں گا‘

’ اگلے سیشن میں آپ نینسی کو بھی ساتھ لا سکتے ہیں تا کہ ہم مل کر اس موضوع پر تبادلہِ خیال کریں‘

’یہ ایک اچھا خیال ہے‘

خواتین و حضرات! جب ہم جنسی تعلیم کے موضوع پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ چاہے وہ لڑکوں کے شہوانی خواب ہوں اور چاہے لڑکیوں کا پہلا حیض ہو اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے نوجوان بچوں اور بچیوں سے ان موضوعات پرکھل کر بات کریں۔ ان سے بے تکلفی سے مکالمہ کریں۔ ان کے سوال سنیں اور ان سوالوں کے تسلی بخش جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ تا کہ ہمارے جوان بچے ایک صحتمند رومانوی اور ازدواجی زندگی گزار سکیں۔

اگر انہیں سہی جنسی تعلیم نہ ملی تو وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔ میری نگاہ میں نوجوانوں کو جنسی تعلیم دینا اور انہیں اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ کرنا والدین اور اساتذہ کی سماجی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے اخباروں ’رسالوں‘ انٹرنیٹ میگزین ’ریڈیو اور ٹی وی پر ماہرین کے خصوصی پروگرام کرنے چائییں تا کہ انسانی جسم اور جنس کی نفسیات کے بارے میں تعلیم عام ہو۔ جب ایسا ہوگا تو بازاروں کی سڑکوں پر حکیموں کے‘ بچپن کی غلط کاریوں ’کے اشتہار کم ہوں گے۔

دنیا میں آج بھی نجانے کتنے لوگ بہشتی زیور کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ پچھلی ایک صدی میں سائنس طب اور نفسیات نے ہمارے علم میں بہت اضافہ کیا ہے تا کہ سب انسان چاہے وہ گورے ہوں یا کالے امیر ہوں یا غریب جوان ہوں یا بوڑھے مغرب میں بسنے والے ہوں یا مشرق میں رہنے والے۔ ایک صحتمند زندگی گزار سکیں۔ محبت کی زندگی میں کامیاب ہو سکیں اور اپنے ازدواجی تعلقات سے پوری طرح محظوظ ہو سکیں اور اگر ضرورت ہو تو اپنے قریبی ڈاکٹر اور ماہرِ نفسیات سے مشورہ بھی کر سکیں۔

۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 255 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail