صاحبِ فیض اور بے فیض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی سیاست کا ہمیشہ سے یہ طرہْ امتیاز رہا ہے کہ کوئی اچانک ”صاحب فیض“ ہو جاتا ہے اور کچھ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے ”بے فیض“ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے خاندان والوں کے ساتھ فیض اور بے فیض کا کھیل تقریباً 35 سال سے جاری ہے۔ شریف فیملی کو جس جگہ سے فیض حاصل ہوا تھا وہیں سے ان کی ”بے فیضی“ شروع ہوئی ہے۔

یہ محض اتفاق ہے یا اسلام آباد جیسا شہر بسانے والوں کی دور اندیشی ہے کہ جڑواں شہروں کو ملانے والے چوک کا نام بھی فیض آباد ہی رکھا گیا ہے جس نے بھی شہر اقتدار میں راولپنڈی کی طرف سے داخل ہونا ہو تو اسے فیض آباد کی زیارت ضرور کرنا پڑتی ہے۔ مولانا خادم حسین رضوی نے بھی میاں نواز شریف کے خلاف فیض آباد چوک میں دھرنا دے کر ”فیوض و برکات“ حاصل کرنے میں کافی شہرت حاصل کی تھی اور معاملہ سپریم کورٹ تک چلا گیا تھا۔

پاکستان کی آج کل سیاست میں میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کی اولادوں کا ستارہ اس قدر گردش میں ہے کہ انہیں کہیں ”فیض“ مل ہی نہیں پا رہا حالانکہ ان کے لئے ایفیڈرین کیس میں جیل جانے والے حنیف عباسی کمال مہارت سے ”فیض“ پا کر گھر کو سدھار گئے ہیں۔ سیاسی لوگوں کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کا تعلق چونکہ راولپنڈی سے تھا اس لئے انہیں فیض آباد سے زیادہ شناسائی تھی اس لئے وہ جلد فیض یاب ہونے میں کامیاب ہوئے۔ فیض یاب ہونا یا بے فیض ہونا ہر شہری کی زندگی میں بہت اہم ہوتا ہے کچھ لوگ ساری زندگی جنگلوں، بیلوں میں ٹکریں مارتے رہتے ہیں انہیں فیض نصیب نہیں ہوتا لیکن کچھ ایسے بھی خوش نصیب ہوتے ہیں وہ شاپنگ کے لئے آبپارہ جاتے ہیں اور کسی بزرگ سے انہیں فیض مل جاتا ہے۔

ہمارے کئی بڑے شاعروں نے بھی فیض کے حوالے سے شاعری کی ہے بلکہ نامور انقلابی شاعر فیض احمد فیض تو ”فیض“ پر اس قدر یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے اپنے نام کے آگے اور پیچھے ”فیض“ لگا کر اسے محفوظ کیا ہوا تھا۔ نامور پنجابی شاعر میاں محمد بخش نے ایک موقع پر ”فیض“ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ

” نیچاں دی آشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا

ککر نے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا ”

پھر آگے چل کر میاں محمد بخشؒ نے اس پر مزید روشنی ڈالی اور کہا کہ

”دنیا تے جو کم نہ آوے اوکھے سوکھے ویلے

اس بے فیضے سنگی کولوں بہتر یار اکیلے ”

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ”صاحبِ فیض“ لوگ کتنے اہم ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ہر طرف ”بے فیضے“ لوگ ہی نظر آئیں گے۔ کسی پر بیرون ملک جائیدادوں کا کیس ہے۔ کوئی منی لانڈرنگ کی زد میں ہے اور کچھ نے ”مال ڈنگر“ کے ذریعے بھی مال بنا کر کرپشن کی نئی دنیا آباد کیے رکھی۔

میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو ”فیض“ مل سکتا تھا لیکن ان کے مشیروں نے اصرار کیا کہ ”بے فیض“ ہو کر زیادہ مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے چنانچہ میاں نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف اور دیرینہ ساتھی چودھری نثار علی خان کی طرف سے ”فیض“ کی اہمیت بیان کرنے کے باوجود تصادم کا راستہ اختیار کیا اور اب ”بے فیضی“ کے عالم میں کوٹ لکھپت جیل میں ”فیض“ ملنے یا اہلخانہ کے ملنے کے منتظر رہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ بھی اسی ”بے فیض“ کیفیت کی زد میں ہیں وگرنہ انہیں گرفت میں لانے کے لئے سانحہ ماڈل ٹاؤن ہی کافی تھا لیکن ”بے فیضی“ کی وجہ سے منشیات فروشی جیسے منحوس کیس میں گرفتار ہیں۔

یہی حال پیپلزپارٹی کا بھی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سچل سرمست اور لال شہباز قلندر کی دھرتی سے تعلق رکھنے والے آصف علی زرداری یہ اندازہ نہیں لگا پائے کہ اگر محترمہ بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد زرداری خاندان کا نصیب جاگ سکتا ہے تو کسی کا دل دکھا کر ”بے فیض“ بھی ہوا جا سکتا ہے۔ حضرت سچل سرمست کے مزار اور لال شہباز قلندر کے دربار سے فیض پانے کے لئے لوگ دور دور سے آتے ہیں لیکن ان دونوں درباروں کے نگران ”فیض“ کی حقیقت کھو چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو تو شاید اب ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مزاروں سے بھی ”فیض“ نہ مل پائے۔

حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں میثاق جمہوریت کے رشتے میں جڑی ہوئی جماعتیں ہیں اور دونوں ہی اس وقت ”بے فیض“ ہیں۔ اس سے بڑھ کر ”بے فیضی“ اور کیا ہو سکتی ہے کہ دونوں جماعتوں اور اتحادیوں کے پاس سینیٹ میں 64 ممبران ہونے کے باوجود چیئرمین سینیٹ کو نہیں ہٹایا جا سکا۔ بھرپور اکثریت ہونے کے باوجود میر حاصل بزنجو کچھ ”حاصل“ نہیں کر پائے۔ البتہ اس تجربے سے انہیں یہ معلوم ضرور ہوا کہ ”فیض“ کتنا اہم ہے اور بے فیض لوگ ممبران زیادہ ہونے کے باوجود کوڑے کا ڈھیر ثابت ہوئے۔

بے فیض ٹولے میں آج کل مولانا فضل الرحمان بھی شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمان چونکہ دینی آدمی ہیں اس لئے فیض کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اقتدار میں معتبر ہونے کے لئے ”فیض“ کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ سیاست کے سفر میں فیض بالکل اسی طرح ہمراہ ہونا ضروری ہے جس طرح مسافر بسوں پر روٹ ہمراہ ہے کا بورڈ لگا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان گزشتہ ایک سال سے موجودہ حکومت کو ختم کرنے اور نئے الیکشن کا بے فائدہ مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اس مطالبے کے پیچھے درحقیقت ان کی خواہش ہے کہ انہیں پھر سے وہ ”سیاسی فیض“ نصیب ہو جائے جس کے بل بوتے پر وہ تقریباً 18 سال اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔

فیض کی طاقت اور اہمیت کا اندازہ لگانا ہو تو پی ٹی آئی کی سادہ اکثریت کے سہارے کھڑی اس طاقتور حکومت کو ہی دیکھ لیں۔ ناقدین اس حکومت کو گزشتہ 12 سالوں کے بعد مضبوط ترین حکومت قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ صاحب فیض ہیں۔ اور ”صاحب فیض“ جس دھڑے میں بھی ہوں انہیں زیر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور کچھ لوگ اقتدار میں تو ہوتے ہیں لیکن بے فیض ہوتے ہیں اس لئے ذلیل و خوار ہوجاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 60 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat