کیا زندگی جینا مشکل لگ رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہوسکتا ہے کہ آپ آج کل زندگی میں مشکل حالات سے دوچار ہوں۔ کسی ناکامی، حادثے، اردگرد کے ماحول یا پھر ماضی کے کسی پچھتاوے کی وجہ سے بہت افسردہ ہوں۔ کہیں دل نہ لگ رہا ہو۔ کہیں مسکرانا زبردستی لگتا ہو تو کہیں رونا جلدی آجاتا ہو۔ من کے اندر بھی اداسی ہو اور باہر بھی بے زاری سی کیفیت۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی جینے میں دلچسپی ختم ہوتی جارہی ہو، تو جناب پھر میرا یہ بلاگ آپ ہی کے لیے ہے۔

ذرا دیکھتے ہیں کہ اس طرح کی ذہنی کیفیت سے کیسے باہر آیا جاسکتا ہے۔ تو اس کے لیے درج ذیل صرف پانچ باتوں کو بغور پڑھتے اور سمجھتے، ان پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش آپ کے لیے مفید رہے گی۔ یقین رکھیے کہ یہ صرف کتابی باتیں نہیں، بلکہ مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کی آزمودہ ہیں۔

1۔ اپنے آپ کو نارمل انسان سمجھیں

سب سے پہلے تو یاد رکھیے کہ ایسا سب محسوس کرنے والے آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپ کے آس پاس بہت سارے لوگ ٹھیک ایسی ہی ذہنی کیفیت کا شکار ہیں۔ فرق پڑتا ہے تو صرف اپنی باتوں اور حلیے سے ظاہر کرنے کا۔ جہاں اکثر لوگ ہائے ہائے کی دہائی دیتے کم ہمتی کا مظاہرہ کرتے ملتے ہیں، وہیں پر اپنے آپ سے جنگ کرتے مگر بلند حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے والے بھی نظر آئیں گے۔ آپ کس گروپ میں ہیں، اس کا خود اندازہ لگالیں۔ مگر جس طرف بھی ہیں، یہ یاد رکھیے کہ ایسا ہونا کوئی غیر فطری یا معیوب بات نہیں۔ یہ سب کیفیات ہم انسانوں کے لیے ہی ہیں۔ روبوٹ ہوتے تو اور بات تھی۔

2۔ موجودہ لمحات میں رہنے کی کوشش کیجئے

آپ ابھی کیا کررہے ہیں؟ یہ بلاگ پڑھ رہے ہیں ناں۔ تو پھر بھی توجہ ادھر ادھر کیوں بھٹکا رہے ہیں؟ اپنا مکمل دھیان اور سوچوں کا مرکز اس بلاگ کے ہر لفظ میں رکھیں۔ لاشعور میں بھی یہی چل رہا ہو کہ یہ سب آپ اپنی زندگی میں بہتری لانے کے لیے پڑھ رہے ہیں۔ تو صاحبو اپنا ہر کام سرانجام دیتے یہی کوشش کرنی ہے کہ ذہن نہ تو ماضی میں جائے اور نہ ہی کل کی سوچے۔ ہمیں اپنی سوچوں کو گھیر گھار کر موجودہ لمحے میں رکھنا ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں، مگر اتنا مشکل بھی نہیں۔ صرف مشق کی ضرورت ہے۔ اگر صرف ادائیگیِ نماز و تلاوتِ قرآن کے وقت ہی اپنے ذہن کو حاضر رکھنا شروع کردیں تو یہی عادت باقی سب کاموں میں بھی آجائے گی۔

3۔ زیادہ سنجیدگی کو خود سے دور رکھیں

زندگی میں حد سے زیادہ سنجیدگی بھی جینے کا لطف چھین لیتی ہے۔ کسی مسئلہ و پریشانی میں وقتی سنجیدہ پن چلتا ہے، مگر مستقل ایسا بن کر رہنا کسی صورت ٹھیک نہیں ہوتا۔ اس لیے مسکرانے اور خوش رہنے کی کوشش کرنا بہترین ٹانک ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو وقت بھی گزر جاتا ہے، مسئلے بھی حل ہوجاتے ہیں مگر یہ سنجیدگی پھر چہرے و طبیعت سے نہیں جاتی۔ اس لیے مسکرانا کبھی مت بھولیے۔ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، دوستوں سے گپ شپ کریں۔ ہر حال میں شکر گزاری کرتے، خود کو شگفتہ مزاج رکھیں۔

4۔ جو اختیار میں نہیں، اس کی فکر چھوڑ دیں

کوئی شخص اپنے مقصد کو پانے کی بہت کوشش کرتا ہے، پھر بھی کہیں ناکام ہوجاتا ہے یا کسی اچانک حادثے کا شکار ہوجاتا ہے۔ مگر کیا کریں کہ یہی زندگی ہے۔ ہم ہر بات و کام پر مکمل اختیار نہیں رکھ سکتے۔ تبھی تو دنیا کو امتحان کی جگہ کہا گیا ہے۔ فکر اسی کی کیجئے جو موجود ہے یا باقی ہے۔ اسی پر شکر گزاری کرتے ہوئے دوبارہ کوشش میں جت جائیے۔ سانس باقی ہے تو سب باقی ہے۔ یہاں پر امجد اسلام امجد کے خوبصورت الفاظ یاد آرہے ہیں ”کہاں آکے رکنے تھے راستے، کہاں موڑ تھا، اسے بھول جا۔ وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ، جو نہیں ملا اسے بھول جا“۔

5۔ کوئی کھیل کھیلنے میں حصہ لیں

یہ ہماری بڑی کوتاہی ہے کہ ہم نے کھیل کو صرف بچپن یا اوائل جوانی تک محدود کردیا ہے۔ روزگار میں مصروف ہونے کے بعد تو لوگ اسپورٹس کو صرف دیکھنے کی حد تک رہ جاتے ہیں۔ اور ہمیں اسی عادت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ چاہے آپ عمر کے کسی بھی حصے میں ہیں، اپنے آپ کو کھیل کھیلنے سے مت روکیں۔ میں نے آج تک کسی اسپورٹس میں مصروف شخص کو زندگی سے اکتایا ہوا نہیں پایا۔ اس کی پہلی بنیادی وجہ ہے جسم کا بھرپور حرکت میں رہنا۔ جس سے ذہن کو تازگی ملتی ہے اور دوسری بڑی وجہ کھیل میں مقابلہ بازی۔ اور یہی چیز عام زندگی میں درپیش چیلنجز کا بخوبی مقابلہ کرنے میں بھی کام آتی ہے۔

تو دوستو یہ ہیں وہ آزمودہ پانچ باتیں، جن پر عمل کرنے سے زندگی میں دوبارہ سے دل لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی اچھے مشغلے میں مصروف ہوجانا، روزمرہ کے امور میں تبدیلی، سیر و تفریح کرنا، اچھی کتب و فلم دیکھنا وغیرہ جیسی مزید اچھی عادتیں اپنانا تو ساتھ ساتھ چلتا ہی رہتا ہے۔ چلئے پھر ابھی سے، اپنی زندگی گزرانے کے بجائے، جینا شروع کریں، جینا شروع کریں، ایک اچھی سی مسکراہٹ کے آغاز کے ساتھ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •