صلاح الد ین! یہ کربلا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سمجھ میں نہیں آتا ہنسوں یا روؤں!

ہاتھ میں تسبیح، زبان پہ ریاست مدینہ کی مثالیں، اقتدار کی کرسی پہ براجمان اور تجاہل عارفانہ۔ بے خبری سی بےخبری کہ آخر پولیس کے شعبے میں کچھ بہتری کیوں نہیں آئی ابھی تک۔ کیا عمدہ مذاق ہے ہم سے بھی اور اپنے آپ سے بھی!

حاکم وقت ہو اور یہ بے بسی!

ایک بات تو طے ہے کہ اقتدار کی غلام گردشیں یا تو زہریلی ہیں اور یا پھر نشیلی جو وہاں پہنچنے والوں کو مفلوج کر دیتی ہیں اور سلب ہوئے اعصاب کے ساتھ وہ اپنے ہاتھ پاؤں زبان کو اپنی مرضی سے حرکت نہیں دے پاتے۔

ساہیوال کا واقعہ ہوا!

پولیس، بے شمار دیکھتی آنکھوں کے سامنے ننھے معصوم بچوں کی موجودگی میں ماں باپ اور بہن کو خون میں نہلا کے چلی گئی۔ پورا معاشرہ چیخ اٹھا لیکن جو احتساب کرنے والے تھے، ان کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی۔ وہ خان و بزدار حکومت کی شاندار کارکردگی کی قسط نمبر ایک تھی۔

دوسری طرف پولیس کا محکمہ تہ و بالا کر دیا گیا جب خاتون اول کی صاحبزادی کو کوئی شکایت ٹھہری۔ ایسا معلوم ہوا کہ وارث ڈرامے کی کوئی تازہ قسط چل گئی۔ دنیا چودھریوں کے گرد گھومتی ہے اور اس چاہت میں کچھ کمی کمین ختم ہو بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ پاکستان کے عوام کمی کمین جیسے کیڑے مکوڑے ہی تو ہیں جنہیں مارنے کے بعد دل جوئی کے لئے ایک پھولوں کا گلدستہ ہی کافی ہے۔

خان و بزدار حکومت کی دوسری قسط صلاح الدین کی موت کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ بازو پہ کندہ صورت حال چیخ چیخ کے بتا رہی ہے کہ میں نہیں ہوں تم جیسا عالی دماغ۔ میں تو زندگی کے راستوں کا گمشدہ تھکا ماندا مسافر ہوں۔ لیکن پولیس کے ان شاہ دولوں کو کہاں سمجھ آتی ہے جن کا اپنا دماغ کہیں افزایش کے ابتدائی مرحلوں پہ رک چکا ہے۔ جن کی رگوں میں سنسنی پھیلتی ہے جب کوئی شکار سامنے آئے اور اعصاب تازہ دم ہوتے ہیں جب وہ کسی کا لہو پی چکتے ہیں۔ خون آشام درندوں کے منہ کو لگا ہوا انسانی لہو!

صلاح الدین کا کیمرے میں منہ چڑانا اور معصومیت سے یہ پوچھنا کہ کہاں سے سیکھ لیا تم نے ؟ ایک زناٹے دار طمانچہ ہے ان سب کے منہ پہ جو اشرف المخلوقات ہونے کے دعوے دار ہیں۔ ان سب بونے قامت لوگوں کو دکھاتا ایک آئینہ ہے جو ایک انسانی جان کو غریبی کے پلڑے میں تول کے اس کے جسم کا ریشہ ریشہ الگ کرنے میں نہیں ہچکچاتے۔

کاش صلاح الدین زندہ ہوتا تو ہم اس کے سوال کا جواب دیتے۔ صلاح الدین، مظلوموں اور بے قصوروں کو زندگی سے محروم کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ حیران کیوں ہوتے ہو، یہ تو کربلا کی روایت ہے۔ یہی تو ہے ہم مسلمانوں کی تاریخ، ہم ایک ہاتھ میں قرآن تھام کے تلاوت کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے گلا کاٹ دیا کرتے ہیں۔ بے گناہ پہ طاقت اور تشدد کی بد ترین مثال کربلا اور اس ریت پہ چلنے والے آج بھی موجود!

سب کچھ سب کے سامنے ہے! حکومت کے بازی گر بھی اور باتیں بگھارنے والے بھولے بادشاہ بھی۔ اب تک قوم کو جان لینا چاہئے کہ یہ گفتار کے غازی ہیں جو طاقت کا منبع ہونے کے باوجود ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟

حضور ! تسبیح پھیرنے کی طرف توجہ کم کیجیے۔ کنٹینر سے نیچے اتر آئیے اور زمین پہ قدم رکھ کے دیکھئے کہ آپ کے پچھلے بیس سال میں کیے گئے وعدوں کی کیا بھد اڑ رہی ہے کہ ہم جیسے آپ کے چاہنے والے بھی بلبلا اٹھے ہیں۔ یہ تو وہی سب تماشا ہے جو برسوں سے دیکھتے چلے آئے تھے۔

آپ کے کاغذی شیر کا کہنا ہے کہ ستر سال کا کباڑ فوراً نہیں سمیٹا جا سکتا۔ انہیں بتائیے کہ آپ ستر سال کے کباڑ کو سمیٹنے کا دعویٰ کر کے ہی ایک عام آدمی کو انصاف اور عزت کا خواب دکھا کے اقتدار کے ایوان میں آ بیٹھے ہیں۔

 اگر آپ کی حکومت میں بھی کمزور کا لہو ہی بہنا ہے تو خدا کے لئے ریاست مدینہ کا نام لینا بند کیجئے۔ ویسے بھی لہو بکھیرنے کی روایت یزیدی حکومت کی میراث ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •