بیچنے کے لئے جھوٹ بولنا کیوں ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برسوں پرانی بات ہے جب میں یونیورسٹی میں تھی، ایک دوست کہنے لگی کہ مریم تم جانتی ہو کہ میرے خاندان میں تایا، چاچا سب کی ذات تو فلاں ہے مگر ہماری ذات کوئی اور ہے۔ اس وقت مجھے ذات پات کی کچھ اتنی سمجھ نہ تھی، بس کچھ ہوں ہاں کر کے سن لی اس کی بات۔ مزید کہنے لگی، جانتی ہو ایسا کیوں ہے؟ میں جواب میں کوئی سگے سوتیلے سے منسلک کہانی توقع کر رہی تھی مگر اس نے بتایا کہ میرے والد نے اپنی ذات اس لئے تبدیل کر لی ہے کہ ان کی تین لڑکیاں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو ذات انہوں نے اب اپنائی ہے، اس میں اچھے رشتے مل جاتے ہیں۔ بعد میں واقعی ہی میں وہ اپنی تمام بیٹیوں کے اچھی جگہ رشتے کرنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ یہ تو ایک وہ واحد جھوٹ تھا جو میری دوست نے نادانی میں مجھے بتا دیا، اور جانے کتنے جھوٹ بولے گئے اس کے علاوہ۔

بچوں کے رشتے بھی تو بیوپار ہی ہیں آج کل۔

اسی زمانے میں ایک پینٹنگ کی کلاس ہوتی تھی ہماری تو پینٹنگ کرنے کے بعد پوری کلاس کے سامنے پریزینٹیشن دینا پڑتی تھی کہ میں نے فلاں شکل کیوں بنائی، فلاں رنگ کیوں لگایا وغیرہ۔ ایک ہم جماعت اپنی پینٹنگ لے کر آئی تو اس میں نیلا رنگ سب سے نمایاں تھا۔ استاد نے سوال کیا کہ آخر اتنا نیلا رنگ کیوں لگایا تو کچھ چھینپ کر کہنے لگی کہ والد صاحب مالی مشکلات کا شکار ہیں، ابھی مہینے کا اختتام ہے اور نیلے رنگ کے علاوہ میرے رنگوں کے ڈبے میں تمام رنگ ختم ہو چکے تھے ابا کی تنخواہ آنے میں ابھی وقت تھا تو میں نے نیلے رنگ کے استعمال سے ہی اس تصویر کو مکمل کر لیا۔

استاد صاحب نے کہا کہ نہیں، تم ہر معاملے میں سچ نہیں بول سکتی تم نمائش میں لوگوں کو یوں کہو گی کہ میں نے تھائی لینڈ کی سیر کے دوران جب نیلگوں سمندر دیکھا تو اس خوبصورتی نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ وہ نیلا رنگ میں اپنے فن پاروں میں لگائے بغیر نہ رہ سکی۔ اس بات سے لوگ زیادہ مرعوب ہوں گے اور تمہاری تصویر فورا بک جائے گی۔

پچھلے دنوں میں نے بہت جوش و جذبے سے بتایا کہ میں ٹیرو کارڈز سیکھ رہی ہوں، سیکھ چکی ہوں اور اسے بھرپور طریقے سے لے کر چلنا چاہتی ہوں۔ کسی بھی کاروبار میں یہ طریقہ پہلے آتا ہے کہ آپ دیکھیے کہ آپ کا مقابلہ کن لوگوں سے ہے۔ میں نے بھی ڈھونڈا کہ آخر پاکستان میں کون کون ٹیرو کی مدد سے لوگوں کو راستہ سجھا رہا ہے؟ ایک دو خواتین کے نام سامنے آئے۔ ایک خاتون کی یوٹیوب کھولی تو علم ہوا کہ جو کارڈز وہ استعمال کر رہی ہیں، وہ ٹیرو تو ہیں ہی نہیں بلکہ اوریکل کارڈز ہیں۔

یہ کارڈز بھی کسی کی مشکلات سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں مگر ٹیرو کارڈز تو ایک خاص قسم کے 72 کارڈز ہیں اور ہر تصویروں والے کارڈز ٹیرو نہیں کہلا سکتے۔ کسی اور کے بار میں سنا جو کہ کچھ مذہبی معاملات اور ٹیرو کے کارڈز کو ملا کر استعمال کر رہی تھیں۔ ایک خاتون جو آپ کی مشکلات جاننے کے بعد آپ کو حل کے لئے ایک پتھر بیچ دیتی تھیں۔ غرضیکہ ایک بھی سیدھے سبھاؤ سے ٹیرو کے ذریعے رہنمائی کرنے والی خاتون یا صاحب نہیں دیکھے میں نے۔ یہ سب رنگ ڈھنگ دیکھ کر میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ٹیرو کو مشغلے کے طور پر اپنانا تو ٹھیک ہے یا پھر چند دوست احباب کی بلا عوض مدد کے لئے، مگر اسے میں ایک جھوٹ کا ملمع کیے بغیر بیچ نہیں سکتی جو کہ شاید فی الحال میری مجبوری نہیں ہے۔

اس معاشرے میں روزی روٹی کمانا مشکل سے مشکل تر ہو چکا ہے، شاید ان لوگوں کی مجبوریوں کو چھانیں تو علم ہو کہ وہ کن دشوار اور کٹھن سچ کے راستوں پر ناکام ہو کر اس جھوٹ کی پناہ میں چھپے ہیں مگر اس کے باوجود ان جھوٹے شعبدوں سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اس حد تک زوال پذیر اور کھوکھلا ہو چکا ہے کہ وہ کسی سچ کو اس کی اصل روح میں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ جب تک ایک جھوٹ، چمک، منافقت اور شعبدہ بازی کا لیپ نہ کیا جائے۔ چیزیں اور کاروبار تو دور کی بات ہے، اب تو ہم میل جول میں بھی اپنے خریدار ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کو مرعوب کرنے کے لئے جھوٹ اور منافقت کی کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔

یہ لمحہ فکریہ تو ہے، مگر محض چند گنتی کے سوچنے اور کڑھنے والوں کے لئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 62 posts and counting.See all posts by maryam-nasim