بین اسٹوکس: ناکامی سے کامیابی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ ایک دلچسپ کھیل ہے جسے کھیل کر یا دیکھ کر انسان نہ صرف محظوظ ہوتا ہے بلکہ زندگی کے بہت سارے اسباق اور اصول سیکھتا ہے۔ مجھے کرکٹ سے بے حد لگاؤ ہے۔ میں نے گزشتہ کئی سالوں سے کرکٹ کھیلنا تو چھوڑ دیا ہے لیکن کرکٹ میچ کسی بھی ٹیم کا ہو دیکھتا ضرور ہوں۔ اتوار، 25 اگست کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان روایتی ٹیسٹ سیریز ”ایشز“ کے تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے دن کا کھیل جاری تھا۔ انگلینڈ کو یہ میچ ہر حال میں جیتنا تھاکیونکہ اس میچ کو ہارنے کا مطلب 2001 کے بعد پہلی مرتبہ اپنے ہوم گراؤنڈ پرایشز سیریز ہارنا تھا۔

انگلینڈ کو اپنی شکست یقینی نظر آرہی تھی کیونکہ آسٹریلیا نے اسے چوتھی اننگز میں 357 کا پہاڑ جیسا ٹارگٹ دیا تھا۔ یہ ٹارگٹ اس لئے بھی نا ممکن نظر آیا تھا کیونکہ پہلی اننگز میں پوری ٹیم صرف 67 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ انگلینڈ کی اُمیدوں کا محور کپتان جوروٹ بھی آؤٹ ہو چکا تھا۔ جونی بیرسٹو اور جوز بٹلرکے آؤٹ ہونے کے بعد یہ سفر تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ لیکن کسے پتہ تھا کہ انگلینڈ کرکٹ کی تاریخ بدلنے والا ایک ”ہیرو“ کریز پر موجود ہے جو اپنے سٹائل سے ہٹ کر سلو انداز میں بیٹنگ کر رہا ہے (جیسے فوجی اپنے مورچے میں دشمن کے کمزور ہونے کا انتظار کر رہا ہو اور موقع ملنے پر فوراً حملہ آور ہو) ، بین اسٹوکس کے ساتھی بیٹسمین یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوتے گئے اور آخری کھلاڑی اس کاساتھ دینے آیا۔

اب بین اسٹوکس کے پاس موقع تھا کہ وہ آسٹریلوی بولرزپر حملہ کرے (جو یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم یہ مقابلہ جیت چکے ہیں )۔ وہ شاید یہ بھول چکے تھے کہ بین اسٹوکس ورلڈ کپ میں اپنی کرشماتی پرفارمنس دکھا چکا ہے۔ بین اسٹوکس بھی شاید انتظار میں تھا کہ وہ اپنی طوفانی بیٹنگ سے انگلش کرکٹ کی تاریخ کی یادگار اننگر کھیلے گا کہ دُنیا اُسے عظیم انگلش آل رآؤنڈر سر این بوتھم کے ہم پلہ قرار دے گی۔ بین اسٹوکس نے آخری وکٹ کی شراکت میں جیک لیچ کے ساتھ مل کر 76 رنز بنائے۔

بین اسٹوکس نے ناٹ آؤٹ 135 رن بنائے اور اپنی ٹیم کو تاریخی فتح سے ہمکنار کروایا۔ بین اسٹوکس کی اس اننگز کو دُنیا بھر کے کرکٹ پنڈت، سابق کرکٹر، شائقین اور میڈیا نے خوب سراہا۔ گو گل، ٹویٹراور سوشل میڈیا پر بہت ساری ویڈیوز بنائی جارہی ہیں۔ میں صرف بین اسٹوکس کی زندگی اور کھیل سے ایک سبق آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گا۔ آپ کو اگر یاد ہو تو 3 اپریل 2016 میں کولکتہ (انڈیا) میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل ہو رہا تھا۔

ویسٹ انڈیز کو آخری اوور میں جیت کے رنز درکار تھے اور سامنے بیٹسمین کارلس بریتھ ویٹ تھے جو کوئی خاطرخواہ نام نہیں تھا۔ انگلینڈ کی جانب سے بین اسٹوکس آخری اوور کروانے آیا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ویسٹ انڈیز یہ میچ جیت سکتا ہے۔ ہوا کیاکہ بین اسٹوکس کو کارلس بریتھ ویٹ نے 4 گیندوں پر 4 چھکے مارکر نا قابلِ یقین شکست کو فتح میں بدل دیا۔ اس ایک خراب اوور پر بین اسٹوکس کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بین اسٹوکس پر اس کے بعدبھی کئی مشکلات آئیں۔ اُن کا کیریئر بھی داؤ پر لگ گیا۔ ورلڈکپ سے قبل بھی اُن کی پر فارمنس پر کافی خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود بین اسٹوکس نے اپنا فوکس اپنے کھیل کو بہتر کرنے پر مرکوز رکھا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنی ٹیم کو ایسی فتوحات دلاسکا جو اس سے پہلے کبھی کوئی انگلش کھلاڑی نہ کر سکا۔ بین اسٹوکس کی اس پرفارمنس اور شاندار کھیل سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میں ناکامیوں کا سامنا کیے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ ناکامی دراصل ناکامی نہیں بلکہ وہ اس بات کا سگنل ہے کہ ہمیں مزید محنت اور وقت درکار ہے۔ زندگی اور کرکٹ میں بھی ایسے ہی ہو تا ہے، اکثر ہم ابتدائی ناکامی کے ڈر سے مزید محنت اور ہمت کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے کامیابی ہم سے دُور رہتی ہے۔

اس سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ جو ہم سوچ رہے ہوں یا توقع رکھتے ہوں، قدرت ہمیں اس سے بھی بڑے اسٹیج اور انعام ومقام کے لئے تیار کررہی ہے۔ ہم سب کی ذاتی، پروفیشنل اور روحانی زندگی میں کئی مرتبہ ایسے مواقع آتے ہیں جہاں آکر ہم رک جانا چاہتے ہیں کیونکہ ہماری برداشت سے چیز یں زیادہ مشکل ہوتی ہیں۔ لیکن ان مشکلات کو برداشت کرکے ہی جو انسان مسلسل چلتا رہتا ہے وہ کامیابی کو حاصل کرتا ہے۔ اگر آپ بین اسٹوکس کی اس اننگر کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ اپنی نیچرل گیم سے ہٹ کر یعنی کمفرٹ زون سے باہر نکل کر کھیلا۔ اُس کے دوسرے ساتھی بھی اُس کی طرح قابل تھے لیکن وہ اس پریشر کو برداشت نہ کرسکے۔ بین اسٹوکس نے ہمت نہیں ہاری، مسلسل اپنے صحیح وقت کا انتظار کرتا رہا۔ ہم اکثر جلدبازی کرتے ہیں اور اپنے وقت کا انتظار نہیں کرتے۔ زندگی کا اصول ہے کہ جو آخرتک برداشت کرتا ہے وہ ہی جیت حاصل کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •