کیا عزاداری کر کے کربلا کا حق ادا ہو گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال محرم کا چاند نظر آتے ہی دنیا بھر میں فرش عزا بچھا دی جاتی ہے۔ مرثیہ، نوحہ، سلام، مجلس اور ماتم کی صدائیں فضاؤں میں گونجنے لگتی ہیں اور لوگ امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کی یاد میں کاروبار دنیا کو بھلا دیتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے ہر سال ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں اس غم کی شدت جیسے کم ہی نہیں ہو رہی۔ کیسی حیرتناک بات ہے کہ خطیب منبر سے جو مصائب بیان کرتا ہے اس کی ایک ایک تفصیل ہمیں پہلے سے معلوم ہوتے ہوئے بھی جیسے جیسے ذکر مصیبت آگے بڑھتا ہے سننے والوں کی کیفیت بدلتی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے سامعین اس واقعہ کو پہلی بار سن رہے ہوں۔ یہی وجہہ ہے کہ ہزار برس سے زیادہ بیت جانے کے باوجود یہ سانحہ پچھلے سال وقوع پذیر ہوا معلوم ہوتا ہے۔

واقعہ کربلا کے ساتھ لوگوں کے جذباتی تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برصغیر کی نہ جانے کتنی بستیاں چاند رات سے ہی ایک امام باڑے میں بدل جاتی ہیں۔ جدھر دیکھو، ادھر سیاہ علم ہیں، تعزیتی بینر ہیں، پانی کی سبیلیں ہیں، مجالس عزا کی آوازیں ہیں، گریہ اور بین ہے، نوحوں کی صدائیں ہیں، مرثیوں کی بازگشت ہے اور عقیدت کے سلام ہیں۔ سیاہ پوش ماتم داروں کے لمبے لمبے جلوس سینہ و سر پیٹ رہے ہیں اور آنکھیں ان کے غم میں اشکبار ہیں جن کے گھر والوں کو اپنے پیاروں کے لاشوں پر رونے کی اجازت نہیں تھی۔

غم حسین کے ایسے غیر معمولی ماحول کو دیکھ کر جہاں ایک طرف دل عقیدت سے سرشار ہو جاتا ہے اور ان شہیدوں کی عظمت کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے جن کے لئے آج ایک عالم ماتم کناں ہے وہیں ایک سوال ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ کیا اتنا کر دینے بھر سے کربلا کا حق ادا ہو گیا؟

آیت اللہ سید عقیل الغروی نے ممبئی میں اسی سال عشرہ محرم کو خطاب کرتے ہوئے ایک بات کی طرف اشارہ کیا جو نہ جانے کتنے دلوں کی آواز تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ آج بھی دنیا میں ایسے بہت سے بالغ افراد ہیں جو امام حسین کے نام سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ امریکہ کی کسی یونیورسٹی یا کالج میں جاکر کسی نوعمر لڑکے سے معلوم کیجئے کہ کیا وہ امام حسین سے واقف ہے تو شاید اس کو علم نہ ہو۔ آیت اللہ عقیل الغروی نے فرمایا کہ اگر اس دنیا میں ایک آبادی ایسی بھی ہے جو نام حسین سے واقف نہیں ہے تو یہ ہماری جوابدہی بنتی ہے کہ ہم نے دنیا کے ہر انسان تک حسین کا نام اور پیغام کیوں نہیں پہنچایا؟ آیت اللہ عقیل الغروی کا مذکورہ بالا تبصرہ دنیا کے ہر ایک عزادار کے لئے بہت بڑا سوال ہے۔ ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ عزاداری کے اتنے عالیشان اجتماعات کے باوجود بھی اگر پوری دنیا تک پیغام حسینی نہیں پہنچا ہے تو اس میں ہماری کوتاہی یا اسٹراٹیجی کو کتنا دخل ہے؟

ایک اور توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ واقعہ کربلا کو دن رات سننے کے بعد ہم میں سے کتنے لوگ یہ سمجھ پائے ہیں کہ پیغام کربلا کیا ہے؟ امام حسین کے اقدام عمل کی بنیاد یہ اصول تھا کہ ظلم و انصافی کی نہ صرف یہ کہ حمایت نہیں کرنی ہے بلکہ اس کے خلاف سینہ سپر بھی ہونا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ عزاداروں کی اکثریت اس اصول اور امام حسین کے اقدام کی وجہہ سے واقف ہو لیکن کیا صرف واقفیت سے شہادت حسین کا حق ادا ہو جاتا ہے؟ میں کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے خود سمیت ہر ایک کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی دعوت دیتا ہوں کہ عزاداری کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسلیں ظلم و نا انصافی کے خلاف کھڑے ہو جانے کے اصول پر کتنی ثابت قدم ثابت ہوئی ہیں؟

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر امام حسین کا مقصد صرف اتنا تھا کہ ہر سال ان کی شہادت پر ماتم ہو تو مجھے یہ بات کہنے میں کوئی تکلف نہیں ہے کہ انہوں نے بہت معمولی بات کی بہت بڑی قیمت دی تھی، لیکن کیا کربلا میں جو کچھ ہوا وہ کسی معمولی مقصد کے لئے ہو سکتا ہے؟ اگر ہم سب اس عظیم مقصد کو سمجھ لیں جس کی وجہہ سے سپاہ حسینی نے اپنا سب کچھ لٹا دیا تو ہم امام حسین کو زیادہ بہتر خراج عقیدت پیش کر سکیں گے۔

مت بھولئے کہ اصولوں کی خاطر جان دینے کی تاریخ میں بہت سی مثالیں ہیں لیکن ان میں سے کسی بھی واقعہ کو وہ بقائے دوام حاصل نہیں ہو سکا جو کربلا کے حصے آیا۔ کربلا کے واقعہ کے ساتھ اس سے بڑی نا انصافی نہیں ہو سکتی کہ اس عظیم سانحہ کے درس سے دنیا کے کسی ایک فرد کو بھی محروم رکھا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 87 posts and counting.See all posts by malik-ashter