خوش قسمت صلاح الدین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صلاح الدین نامی شخص کو پنجاب پولیس والوں نے جس بے دردی سے قتل کیا ہے اس ظلم پر لکھتے ہوئے ہاتھ کاپنتے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا اس سے پہلے بھی پنجاب پولیس اور ریاستی اداروں کی ایسی بربریت دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتی رہی ہے۔ ابھی تو سانحہ ساہیوال کی تحقیقات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ صلاح الدین کے قتل کی تحقیقات شروع ہوگئی ہے۔ اب تو پاکستانی بچہ بچہ جانتا ہے کہ ایسی تحقیقات کے نتائج کیا نکلنے ہیں۔

ابھی سے جو پولیس افسر ان انکاری ہیں کہ صلاح الدین پر کوئی تشدد نہیں ہوا تو وہ محکمہ اپنے ہی محکمہ کے خلاف کیسے رپورٹ تیار کرسکتا ہے؟ سوالیہ نشان ہے۔ صلاح الدین کے قتل کے بعد پنجاب حکومت کے نمائندہ (حقیقی وزیراعلی ) شہباز گل ٹوئٹ پر ٹوئٹ کیے جارہے ہیں کہ تحقیقات جاری ہیں۔ یہ وہی حکومتی لوگ ہیں جو بات بات پر اپوزیشن پر چڑھ دوڑتے ہیں کہ ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ اس وقت انہیں کوئی قانون، کوئی عدالت نظر نہیں آتی کہ ابھی سے کچھ کہنا مناسب نہیں ابھی تحقیات چل رہی ہیں۔ مگر صلاح الدین کا قتل جو روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ جس کے قاتلوں کے بارے میں پورا پاکستان جانتا ہے ایسے کیس میں بھی ابھی تک تحقیقات ہورہی ہیں۔ ہے نا عجیب بات! تحقیقات سے ہوگا کیا؟

انتہائی آسان الفاظ میں اگر سمجھا دوں تو تحقیقات سے مراد مجرموں کے بچنے کے لئے راستہ نکالنا۔ ویسے تو پاکستان کا پورا عدالتی نظام سوالیہ نشان ہے۔ اس نظام میں تحقیقاتی نظام تو سرے سے بنا ہی مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہے۔ یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے یہ وہ تلخ حقیقت اور کڑوا سچ ہے جس پر کوئی لکھنا اور بولنا نہیں چاہتا۔

اس کی مثالیں ملاحظہ کیجئے۔

سانحہ ماڈل ٹاون جس میں دن دھاڑے 14 لوگ قتل کیے جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک خواتین بھی ہے جس کے منہ میں گولیاں ماری جاتی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے لئے مین اسٹریم میڈیا کی لائیو کوریج میں اتنا بڑا سانحہ ہوجاتا ہے۔ چودہ قتل اور اسی کے قریب لوگ بشمول خواتین زخمی ہوتے ہیں مگر آج تک اس سانحہ کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا کیونکہ تحقیقات ہورہی ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاون کو بھی چھوڑ دیں۔ سانحہ ساہیوال کی بات کرتے ہیں جس کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ تحقیقات چل رہی ہیں۔

اب صلاح الدین کیس ہے جس میں بڑی بے دردی سے صلاح الدین کو قتل کیا جاتا ہے اس کی بھی تحقیقات چل رہی ہیں۔ یہ تحقیقات چلتی رہیں گی جس کی فائل بالآخر سرد خانوں کی نظر ہوجائے گی۔ مگر صلاح الدین کے کیس میں ایک چیز بہت دلچسپ ہے۔ وہ ہے صلاح الدین کا دوران ریمانڈ پولیس والوں سے سوال کہ تم لوگوں نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟ صلاح الدین یہ سوال کرتے ہوئے شدت درد سے بھول گیا ہوگا کہ میں کن سے سوال کر رہا ہوں۔ اگر صلاح الدین کو علم ہوتا کہ مجھے مارنے والے انسانی شکل میں درندے ہیں تو شاید صلاح الدین یہ سوال کبھی نہ کرتا۔ اس سب کے باوجود صلاح الدین بہت خوش قسمت ہے۔

خوش قسمت اس لئے کہ صلاح الدین کی جلی کٹی لاش ورثاء کے حوالے تو کی گئی۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر صلاح الدین کے لئے تھوڑے بہت بولنے والے تو ہیں۔ مگر ان صلاح الدینوں کا کیا ہوگا جن کے لئے آواز اٹھانا بھی جرم ہے۔ جن کے پیاروں کا یہ مطالبہ بھی نہیں ہے کہ ہمارے صلاح الدینوں کے قاتلوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ انہیں کیفرکردار تک پہنچائے جائے۔ وہ تو صرف اتنا مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے صلاح الدین کہاں ہیں۔

ان کے والدین صرف اتنا سوال کرتے ہیں کہ ہمارے صلاح الدینوں کو اللہ نہ کرے اگر قتل کردیا ہے تو کم از کم آخری دیدار کے لئے لاش تو ہمارے حوالے کی جائے۔ ایسی کئی صلاح الدین بڑی بے دردی سے قتل ہوتے آرہے ہیں اور ہورہے ہیں۔ دوران تفتیش کئی صلاح الدینوں نے اسی طرح کے سوال کیے ہوں گے کہ تم لوگوں نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟ تم لوگوں میں درندگی کہاں سے آئی ہے؟ انسان کو اس بے دردی سے ٹارچر کرتے ہوئے تم لوگوں کے ہاتھ نہیں کاپنتے؟

کیا تم لوگ انسان نہیں ہو؟ ایسی کئی سوالات بہت سے گمنام صلاح الدینوں نے بھی کیے ہوں گے۔ صلاح الدین کی طرح ان کا بھی شاید کوئی جرم نہ ہو صرف شک کی بنیاد پر انہیں بھی گرفتار کیا گیا ہو۔ اگر ان کا جرم ہوگا بھی تو اتنا شدید نہ ہو کہ صلاح الدین کی طرح انہیں جرم کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارا جائے۔ مگر وہ گمنام صلاح الدین اس لئے بھی انتہائی بدنصیب ہیں کہ ان کے لئے آواز اٹھانے والے غدار سمجھے جاتے ہیں۔ ان گمنام صلاح الدینوں کے والدین سے ہمدردی کرنے والے ففتھ جنریشن وار کے اصولوں کے تحت دشمن کے سازشی سمجھے جاتے ہیں۔ واقعی صلاح الدین بہت خوش قسمت ہے کہ جس کے قاتلوں کے خلاف بولنے والوں کو غداری کے القابات نہیں دیے جارہے۔

آخری بات صلاح الدین کے لئے ہم کچھ کر تو نہیں سکتے نہ ہی صلاح الدین کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچوا سکتے ہیں۔ ہاں صلاح الدین کے والد، والدہ، بہن، بھائیوں اور جتنے بھی رشتہ دار ہیں انہیں جھوٹی تسلی ضرور دے سکتے ہیں کہ فکر نہ کریں ایک عدالت وہاں بھی لگنے والی ہے۔ جس میں کوئی جھوٹی رپورٹس نہیں پیش کرسکے گا۔ امید رکھیں اور صبر کریں وہاں صلاح الدین کو مکمل انصاف ملے گا۔ صلاح الدین کے والدین اگر یہ تحریر پڑھ لیں تو ان سے گزارش ہے کہ اپنے صلاح الدین کے ساتھ ساتھ ان گمنام صلاح الدینوں کے لئے بھی دعا کیا کریں جو آپ کے صلاح الدین کی طرح آج بھی کسی محافظ سے یہی سوال پوچھ رہے ہوں گے کہ تم لوگوں نے مارنا کہاں سے سیکھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •