مشروط مذاکر ات کی پیشکش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان او ربھارت کے درمیان مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکر ات اور متنازعہ امور پر بات چیت کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ آج کی جمہوری سیاست میں مسائل کو بات چیت کی مدد سے ہی حل کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ سیاسی، سفارتی، ڈپلومیسی کے محاذ پر کی جانے والی کوششوں کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ پاک بھارت بداعتمادی ایک بنیادی مسئلہ ہے او ریہ مسئلہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بجائے پہلے سے موجود فاصلوں میں اور زیادہ بدگمانی او رانتشار کی سیاست کو پیدا کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مسائل حل ہونے کی بجائے جنگی جنون کے ماحول میں تبدیل ہورہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر دونوں ملکو ں کے درمیان بہتر تعلقات کی بحالی میں ایک کوریا بنیادی ایشو ہے۔ کشمیر کے مسئلہ کے حل کے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہونا یا اس کی بحالی کے فیصلہ کو یقینی بنانا مشکل امر لگتا ہے۔

حالیہ دنوں میں کشمیر کے تناظر میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے دونوں ملکوں کے درمیان اور زیادہ مسائل پیدا کردیے ہیں اور لگتا ہے کہ جو بھی کوشیش تعلقات کی بحالی کے لیے ہورہی تھیں وہ پس پشت چلی گئی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان جو پاک بھارت تعلقات کے تواتر سے حامی ہیں او رتواتر کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت کو مذاکر ات کی پیش کش زبانی او رتحریری دونوں صورتوں میں دی تھیں وہ بھی حالیہ کشیدگی کے عمل بھارتی طرز عمل سے خاصے مایوس نظر آتے ہیں۔ اسی مایوسی کے ردعمل میں وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بھارت سے مذاکر ات یا بات چیت کا عمل ممکن نہیں او رنہ ہی اس کا کوئی موجودہ ماحول ہے۔

سیاسی اور سفارتی محاذ پر ڈپلومیسی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس ڈپلومیسی کے محاذ پر مذاکر ات یا بات چیت کا دروازہ بند کرنا یا اس سے مکمل انکاری کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ جنگ او رکشیدگی کے ماحول میں بھی مذاکر ات کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ اس کارڈ کے عمل سے بھی فائدہ اٹھانا ہو تو اس کی بھی حکمت عملی موجود ہونی چاہیے۔ اچھی بات ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر بھارت کو مشروط مذاکر ات کی پیش کش کرکے بند دروازے کو دوبارہ کھولنے یا بھارت کو دستک دی ہے کہ وہ مذاکر ات کی بحالی کے عمل میں آگے بڑھ کر بات چیت کے بند دروازے کو کھول سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے مذاکر ات کی بحالی کو چار شرطوں سے مشروط کیا ہے جن میں

اول مقبوضہ کشمیر سے فوری کرفیو کے خاتمہ کا اعلان، دوئم مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کو ممکن بنانا، سوئم گرفتار قیدیوں کی رہائی، چہارم کشمیری قیادت سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

وزیر خارجہ نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ ہم مذاکر ات کے حامی ہیں او ربات چیت کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں او را س کے لیے مذاکر ات کا عمل براہ راست دو طرفہ بھی ہوسکتا ہے او رہم کسی تیسرے ثالثی فریق کے لیے بھی تیار ہیں۔ پاکستان کی یہ پیش کش عالمی دنیا میں واضح پیغام بھی ہے کہ اس کشیدگی او رجنگ پر منڈلاتے بادلوں میں ہم ابھی بھی مذاکر ات کی بحالی کے حامی بھی ہیں او راسی کی مدد سے مسائل کا حل بھی چاہتے ہیں۔

اگرچہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ موجودہ صورتحال میں نریندر مودی کی حکومت مذاکر ات کی میز سجانے کے عمل میں آگے بڑھے۔ لیکن اس کے باوجود بھارت کو بھی اور دنیا کو بھی یہ باور کروانا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں امن کا خواہش مند ہے، بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجود ہ صورتحال میں دہلی کیا سوچ رہا ہے اور کیا وہ واقعی جنگی ماحول کو ہر صورت مذاکر ات کی میز پر لانا چاہتا ہے۔

اس وقت عالمی سطح پر دو بڑ ی اہم کامیابیاں ہمیں ملی ہیں۔ اول عالمی میڈیا میں جس بڑے انداز میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو بدترین انداز میں دکھایاگیا ہے اس نے بھارت کے سیاسی او رجمہوری چہرہ کو بری طرح بے نقاب کیا ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر عالمی میڈیا او رانسانی حقوق سے جڑے ادارے بھارت کی ننگی جارحیت کو سب کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ دوئم عالمی رائے عامہ بیدار کرنے والے افراد او ر ادارے یا وہاں موجود اہل دانش سے جڑے افراد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنی سنگین تشویش پیش کررہے ہیں او راس تصویر نے عملی طو رپر بھارت کو دفاعی پوزیشن پر بھی کھڑا کردیا ہے۔ پچیس دنوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی موجودگی ہی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں سیاسی او رجمہوری ساکھ کیا ہے اور اس عمل نے پاکستان ڈپلومیسی کے محاذ پر بھارت پر دباؤ بڑھانے میں کافی مدد دی ہے۔

اب جس انداز میں او ائی سی نے بھی بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طو رپر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو کا خاتمہ کرے اور ساتھ کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ، خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمہ پر تحفظات، آئینی تبدیلی بھارت کا یک طرفہ اقدام ہے او راقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پائدارحل نکالا جائے۔ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں، مقبوضہ وادی میں مواصلاتی نظام کی بحالی اور لوگوں کو انسانی حقوق ملنے چاہیے۔

اسی اعلامیہ میں اس نکتہ پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان او ربھارت مسائل کو مذاکر ات کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی امریکی صدر کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کا مسئلہ ہے او ربات چیت کی مدد سے ان مسائل کا حل تلاش کریں گے اور کسی ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں۔

ایک بات واضح ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اگر اسی طرح سے کشیدگی کی طرف بڑھتی رہی او رجس انداز سے وادی میں موت کا سماں ہے تو اس سے بھارت عالمی دنیا میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی سیاست کا اور زیادہ شکار ہوگا۔ خاص طو رپر ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارت او رپاکستان کے وزیر اعظم کی گفتگو اور عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بھی کشمیر ہی ہوگا۔ سیاسی او رسفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر جو کوشیش پاکستان کررہا ہے اس کے بھی آہستہ آہستہ ثمرات سامنے آرہے ہیں اور اب عالمی دنیا میں میڈیا اور اہل دانش کی مدد سے عالمی دنیا سے جڑے حکمرانوں کو بھی جنجھوڑنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔

عالمی دنیا کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ جب وہ یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو بات چیت کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کر نا چاہیے تو اس تجزیہ کی بھی ضرورت ہے کہ کون سا ملک مذاکر ات کا حامی ہے او رکون مسلسل مذاکر ات سے انحراف کررہا ہے۔ یہ جو بھارت کی مذاکر ات کی طرف نہ بڑھنا ہے او رہر مذاکر ت کی کوشش کو خراب کرنا یا ڈیڈ لاک پیدا کرنا ہے اس پر بھی عالمی دنیا کو بولنا ہوگا او ربھارت پر دباؤ بڑھانا ہوگا کہ اس کی یک طرفہ پالیسی یا ہٹ ڈھرمی سمیت کشمیر کے مسائل کا حل نہ تلاش کرنا تعلقات کی بحالی میں بڑ ی رکاوٹ ہے اور یہ عمل جنگ کا ماحول پیدا کرسکتا ہے۔

اصل مسئلہ دو طرفہ تعلقات کی بحالی میں مذاکر ات کے عمل کا آغاز ہے۔ یقینی طورپر دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے بارے میں سخت ترین تحفظات ہیں، لیکن ان تمام تر تحفظات او رمسائل کا تعلق مذاکر ات ہی کی میز سے حل ہوسکتا ہے۔ جب دونوں اطرا ف کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں اور کوئی جنگ نہیں چاہتا تو پھر مذاکر ات کی بحالی ہی واحد کنجی ہے جو مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، اسی طرف دونوں ملکوں کی ریاستوں، حکومتوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کی توجہ ہونی چاہیے کہ ہم کسی نہ کسی شکل میں دونوں فریقین کو مذاکر ات کی میز پر لے کر آئیں او رباہمی عمل سے مسائل کا حل تلاش کریں۔

بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ پاکستان کی جانب سے بار بار مذاکر ات کی پیش کش یا دوستی یا تعلقات کی بحالی کے عمل کو محض پاکستان کی کمزوری سمجھنے کی بجائے اسے ایک مثبت پہلو کے طور پر لے۔ کیونکہ اگر واقعی بھارت پاکستان سے تعلقات کی بہتری چاہتا ہے تو اسے اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے کہ پاکستان مذاکر ات کے عمل میں پیش پیش نظر آتا ہے۔ دونوں اطراف کے لوگ اگر ماضی کا ماتم کرنے کی بجائے یا ایک دوسرے پر ماضی پر مبنی سنگین الزامات لگانے کی بجائے دونوں ممالک مستقبل کی طرف دیکھیں تو بہتری کا امکان موجود ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کویہ سمجھنا ہوگا کہ ماضی کو بنیاد بنا کر محض الزام تراشیوں پر مبنی سیاست سے کچھ نہیں نکل سکے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •