جگجیت کور (عائشہ ) کی کہانی، امبانی، مودی اور پاکستانی میڈیا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن پہلے کا واقعہ ہے کہانی ہے ننکانہ صاحب کے محلہ بالیلہ کی جگجیت کور (عائشہ ) کی۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ عشق و محبت کی داستان ہے۔ جگجیت کور (عائشہ ) جس کی عمر انیس سال ہے مسلمان لڑکامحمد حسان اور جگجیت کور (عائشہ) ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ جگجیت کور نے مذہب اسلام قبول کیا اور محمد حسان سے اٹھائیس اگست کو نکاح کرلیا۔ اس کے بعد یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ اور پاکستان سمیت بھارت، امریکہ، برطانیہ وغیرہ میں سکھ کمیونٹی تک جاپہنچی۔

جس پہ انہوں نے بہت غم و غصہ کا اظہار کیا۔ کیونکہ ایف آئی آر کے مطابق ستائیس اگست کی رات تین بجے چھ بندے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ وہ جگجیت کور کے گھر آئے اور اسے ساتھ لے گئے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق لڑکے کی فیملی کے لوگ مسلح تھے اور لڑکی کو اس کی فیملی کے سامنے زبردستی اغوا کیا۔ اب معاملہ عدالت میں چلا گیا ہے۔ جس میں لڑکی نے ویڈیو بیان میں کہا کہ اس نے سب کچھ اپنی مرضی سے کیا۔ کسی نے کوئی زور زبردستی نہیں کی۔ کسی نے اغوا نہیں کیا۔

اس سٹوری کو کور کرنے والے بھارتی میڈیا ہاؤس انڈیا ٹوڈے کے پاکستانی نمائندہ نے بتایا کہ یہ مقدمہ شاید دنیا بھر میں سکھ کمیونٹی کے لیے شہ سرخی نہ بنتا۔ لیکن یہاں کے مقامی سکھ لیڈرز گوپال سنگھ چاولہ، مہندر سنگھ وغیرہ کے اثروروسوخ پہ اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔

اسی دوران پاکستانی سرکار نے معاملے کو کسی طریقے سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش شروع کردی اور سرحد پار مودی سرکار نے جلتی پر تیل کا کام شروع کردیا۔ انڈین میڈیا کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے فورا لڑکی سے دارالامان لاہور میں ملاقات کی۔ سب کچھ پوچھا کہ کہیں زور زبردستی تو نہیں کی گئی۔ لیکن لڑکی اپنے موقف پر ڈٹی رہی اور کہا مجھے گھر واپس نہیں جانا، یہ سب میری مرضی سے ہوا۔ سرحد کے اس پار بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی نے مودی سرکار کے کرتا دھرتا امیت شاہ سے ملاقات کی اور پاکستانی حکومت سے رابطہ کرنے کا کہا، جو آفیشل کیا گیا کہ لڑکی واپس بھگوان سنگھ فیملی کو کی جائے۔

بھارتی پنجاب کی وزیر ہرمشیت بادل نے بھی خان صاحب پہ سخت تنقید کی، حالانکہ یہ محترمہ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پراگلی صفوں میں تھی۔ جب ایک طرف لاہور میں دنیا بھر سے پچاس، ساٹھ سکھ کمیونٹی کے لوگ گورنر ہاؤس میں موجود تھے جہاں پر وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرنا تھا۔ وہی بھارتی میڈیا بالخصوص بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا انتہائی قریبی دوست جو بھارت کے چار بڑے میڈیا ہاؤسز کا مالک ہے۔ جن کا نام مکیش امبانی ہے ان سے مودی سرکار نے کہا کہ اس سٹوری کو ٹاپ پہ رہنا چاہیے اور ایسا ہی ہوا پاکستان کے خلاف امریکہ، برطانیہ، آسڑیلیا اور کینیڈا وغیرہ میں ریلیاں نکالی گئیں۔

سکھ کمیونٹی کو یہ پروپوگیٹ کیا گیا کہ پاکستان میں سکھ محفوظ نہیں۔ زبردستی اسلام قبول کروایا جاتا ہے۔ مودی کا میڈیا کام دکھا گیا اور محترم عمران کا میڈیا ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہا۔ ان کا مقصد سکھ کنونشن کے ایجنڈے کو کمزور کرنا تھا جہاں وزیراعظم عمران خان نے کشمیر ایشو کو سکھ وفد کے سامنے اجاگر کرنا تھا۔ مودی کے میڈیا کا مقصد تھا کہ پاکستانی سکھ کمیونٹی جو خالصتان کا نعرہ لگاتی ہے وہ بد دل ہوجائے۔

کہ پاکستان میں وہ محفوظ نہیں۔ یہ مودی امبانی کا میڈیا کام کرگیا۔ اور یہاں جہاں سپہ سالار قمر جاوید باجوہ بھر پور کوشش کررہے ہیں کہ کرتارپور راہداری کے منصوبے کو مکمل کیا جائے تاکہ دنیا بھر کی سکھ کمیونٹی پاکستان کے ساتھ جڑے رہیں۔ اس بڑی کوشش پر جانبدار امبانی میڈیا نے گہرے اثرات چھوڑے۔ جب پریشر اتنا بڑھ گیا تو گورنر پنجاب چوہدری سرور نے دونوں فیملیز میں صلح کروائی اور لڑکے کی فیملی نے لڑکی سے اعلان لاتعلقی کردیا۔

اب لڑکی دارلا امان لاہور میں ہے اور اس کیس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ اب لڑکی کی فیملی یہ چاہتی ہے کہ ہر حال میں لڑکی واپس گھر آئے۔ اب لڑکی کی شادی اور مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے کچھ کہنا نامناسب ہوگا کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے۔ اس سارے ماحول میں پاکستانی نژاد سینئر امریکی سیاستدان جو وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقوں میں سے ہیں انہوں نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو فون کیا کہ لڑکی کو سکھ کنونشن کے دوران سکھ وفد کے سامنے لایا جائے تاکہ بھارتی میڈیا کے زور زبردستی والا موقف اور انڈین پروپیگینڈا جو وائٹ ہاؤس تک بھی پہنچ گیا ہے اسے کمزور کیا جائے۔ لیکن! بزدار صاحب نے ایسا نہیں کیا۔

پاکستانی میڈیا اور سٹیک ہولڈرز نے بجائے اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھتے انہوں نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔

جس نے شاید مثبت اثرات چھوڑنے کی بجائے بہت منفی اثرات چھوڑے ! جب سب کچھ گورنر پنجاب کررہے تھے، مقدمہ درج ہوچکا تھا، معاملہ عدالت میں ہے، حتی کہ گورنر صاحب نے صلح کی ویڈیو بیانات سمیت اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پہ شئیر کردی۔ اب اس کے بعد کون سی پردہ داری رہ گئی تھی۔ اگر پاکستانی میڈیا دنیا کے سامنے اس ایشو کا دفاع کرتا اور بتاتا کہ قانون کے مطابق معاملہ حل کیاجارہا ہے تو اتنی سبکی شاید نہ ہوتی۔
نہ جانے پاکستانی میڈیا کو سکھ کا سانس اپنی مرضی کے مطابق کب لینے دیا جائے گا !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •