میرے والد کا ریڈیو اور بدلتا زمانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریڈیو ایک ایجاد ہی نہیں بلکہ بیسویں صدی میں رونما ہونے والے ابلاغی انقلاب کا نام ہے جب ریڈیائی لہروں نے جغرافیائی سرحدوں کو پاٹ کر ہر کان تک رسائی حاصل کی جو اس سے پہلے ممکن نہ تھی۔ یہ ریڈیو ہی تھا جس نے دنیا بھر میں سیاسی اور سماجی انقلابات کے پیغامات ایک سے دوسرے کونے تک پہنچائے۔ شکاگو کے مزدوروں کی قربانیوں کا پیغام روس کے پسے ہوئے طبقات تک پہنچانے اور عظیم جنگوں کی بے پناہ تباہ کاریوں سے دنیا کو با خبر بھی ریڈیائی مواصلاتی نظام کی بدولت ہی ممکن ہوسکا تھا۔

سلسلہ کوہ ہمالیہ، ہندوکش، پامیر اور قراقرم کے سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ واقع گلگت بلتستان میں انگریزوں کی آمد سے قبل ذرائع ابلاغ مفقود تھے اور لوگ دنیا کی ہلچل سے بے خبر۔ گلگت میں مقیم برطانوی فوجی افسران نے سرد جنگ میں دفاعی حکمت عملی کے تحت یہاں ایک ریڈیائی مواصلاتی نظام قائم تو کیا تھا مگر عامتہ الناس اس سے مستفید نہ ہوسکے۔

عام لوگوں کے لئے ریڈیائی مواصلات سے فائدہ اٹھانے کا زمانہ ٹرانسسٹر ریڈیو کی ایجاد کے بعد ہی آیا جب یہ آلہ بھی دیگر ضروریات زندگی کی طرح منڈی میں دستیاب ہوا۔ ٹرانسسٹرریڈیو بھی دو قسم کے ہوتے تھے۔ ایک گھروں میں رکھ کر سنے جانے والے بڑی سائز کے ریڈیو جن کا ائیریل چوکور ہوتا تھا اور آواز اونچی ہوتی تھی۔ دوسرا کاندھے پر لٹکا یا جانے والا ریڈیو جو شوقین لوگ اپنے ساتھ لئے ہر جگہ نظر آتے تھے۔ اس کے بعد جیبی سائز کے ریڈیو بھی آئے جوکرکٹ کی کمنٹری سننے کے لئے زیادہ مقبول ہوئے۔

اسمٰعیلی فرقے کے موجودہ روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان 1960 ء میں اسمٰعیلی آئمہ کی تاریخ کے کسی امام کے گلگت بلتستان اور چترال کے پہلے دورے میں اپنے میزبان راجاؤں اور میروں کے لئے جو تحفہ ترقی یافتہ دنیا سے لے کر آئے وہ ٹرانسسٹر ریڈیو ہی تھا۔ میری معلومات کے مطابق کم از کم پونیال، گوپس، یاسین اور اشکومن کے علاقوں میں یہ کسی ٹرانسسٹر ریڈیو کی پہلی آمد تھی۔

حکومت پاکستان نے 1960 ء کی دہائی میں جب ریڈیائی ابلاغ کو فروغ دیا تو ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے شینا زبان میں پروگرام کا آغاز ہوا۔ شینا پروگرام میں جب جان علی کی ’یا ہے ائ‘ کی اواز گونجتی تھی تو کھیتوں میں کسانوں کے چلتے ہل رک جاتے تھے اور گھروں میں روایتی روٹی (کستہ) بناتے وقت آٹے کے پیڑے پر خواتین کے ہاتھوں کے چوٹ کی آواز مدھم ہوجایا کرتی تھی۔ ایسا ہی کچھ ریڈیو پاکستان پشاؤر سے چترالی زبان کے پروگرام کے نشر ہونے پرہوتا تھا جب محمد حسن کی ’مہ جان‘ کی لے پر بزرگ اپنے کان ریڈیو کے اور قریب لے جاتے یا ریڈیو اپنے کانوں سے پیوست کرتے ہوئے انکھیں بند کرکے گیتوں سے بہنے والے سریلے رس کو اپنے جسم کے نس نس میں اتارنے کی کوشش کرتے تھے۔

1970 ء کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں گلگت بلتستان میں انتظامی اصلاحات متعارف ہوئیں۔ ان اصلاحات کے ذریعے ایف سی آر کا خاتمہ ہوا اور مقامی راجاؤں اور میروں کو فارغ کردیا گیا تو یہ ایک بہت بڑی سیاسی اور سماجی تبدیلی تھی۔ لوگ ریڈیو پر ذوالفقار علی بھٹو کی سحر انگیز تقاریر سنتے اور اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس کی تشریح اور تبصرے کرتے تھے۔ ایک بات جو مسلمہ تھی وہ یہ کہ لوگوں کو بھٹو اور ریڈیو پاکستان دونوں پر اعتبار تھا۔

میرے والد کی صبح کا آغاز ریڈیو سیلون (سری لنکا) کی نشریات کے ساتھ ہوتا تھا جس کو ٹیون کرنامیری ڈیوٹی تھی کیونکہ ان کو خود ٹیون کرکے سیلون سننے کا مزہ نہیں آتا تھا۔ صبح نیم خوابیدہ کیفیت میں محمد رفیع، لتامنگیشکر، طلعت محمود، کشور کمار اور اشا بھوسلے کے مدھر گیت سننا اور چھ بج کر بیس منٹ سے ساتھ بجے تک بی بی سی اور پھر سات بجے ریڈیو پاکستان سے قومی خبریں اور اس کے بعد چائے اور ناشتہ پر وائس آف امریکہ کو سن کر دن آغاز ہوجایا کرتا تھا۔

دن اڑھائی بجے سے ساڑھے تین بجے تک آل انڈیا ریڈیو سے فرمائشی گیتوں کا پروگرام نشر ہوا کرتا تھا جو زیادہ تر دکاندار اور گھروں میں خواتین سنا کرتی تھیں۔ ایک فوجی جوان نے بتایا تھا کہ سیاچن کے محاز پر بھی اگر گولہ باری ہو رہی ہو تو دن کے اس پہر رک جایا کرتی تھی کیونکہ دونوں طرف کے جوان ریڈیو پر اپنے پسند کے گیتوں کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔ آل انڈیا ریڈیو آکاش وانی سے خبریں نشر ہوتی تھیں جن میں کسی کی دلچسپی نہ ہونے کی ایک وجہ ان کا ہندی زبان میں ہونا بھی تھا جس کے کئی الفاظ سر کے اوپر سے گزر جاتے تھے۔

5 جولائی 1977 ء کو مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ ہی خبروں کے بلیک آوٹ کا آغاز بھی ہوا تو والد کی دلچسپی ریڈیو میں گیت سنگیت سے زیادہ ملک میں کسی وقت اچھی خبر کی تلاش میں بڑھ گئی۔ شام آٹھ بجے کی قومی خبریں پھر سوا آٹھ بجے بی بی سی کی خبریں اور خاص طور پر پروگرام سیربین کو سننا ان کی ایک عادت سی تھی۔ بی بی سی کے حالات حاضرہ کے پروگرام سیر بین کی سگنیچر ٹیون ہمارے گھر میں گویا گھڑیال کی مانند تھی جس کو سن کر وقت کا پتہ چل جاتا تھا کہ رات کے ساڑھے آٹھ بجنے والے ہیں۔ ضیاء الحق کے دور میں یک طرفہ سرکاری پروپیگنڈہ اور جھوٹ اتنا زیادہ تھا کہ لوگوں کا ریڈیو پاکستان اور ضیاءالحق دونوں سے اعتبار ہی اٹھ گیا تھا۔ میرے والد کو بی بی سی کے مارک ٹیلی کی خبروں کا انتظار رہتا تھا جو ان دنوں پاکستان میں تھا۔

1979 ء میں افغانستان میں انقلاب کے بعد کابل سے بھی اردو پروگرام کی نشریحات کا آغاز ہوا تو شام پانچ سے ساتھ بجے کے دوران مدھر گیت سننے کو ملتے تھے جس میں سب سے نمایاں پروگرام ’صدا بہار‘ تھا۔ والد کو کبھی بھی ریڈیوکابل میں دلچسپی نہیں رہی جس کو زیادہ تر نوجوان ہی سنتے تھے۔ ریڈیو کابل سے پتہ چلتا تھا کہ افغانستان کی حکومت کٹھ پتلی نہیں اور مجاہدین دراصل رد انقلاب عناصر اور بھگوڑے ہیں۔

چار اپریل 1979 ء کو جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تو اس کے بعد میرے والد نے شدو مد اور باقاعدگی کے ساتھ ریڈیو سننا چھوڑ دیا۔ ریڈیو ہمارے گھر میں ہوا کرتا تھا جو سنا بھی جاتا تھا مگر پہلے کی طرح باقاعدگی کے ساتھ نہیں۔ ان دنوں شینا پروگرام ریڈیو سٹیشن گلگت سے نشر ہونے لگا جس کا دورانیہ بھی زیادہ ہوا تھا۔ ان دنوں ریڈیو پاکستان گلگت کے پروگرام ڈائریکٹر محمد اکرم اور پروڑیوسر حسن منتظر کی فرمائش پر والد صاحب نے استاد حاجت قبول اور ان کے ساتھیوں سے حریپ کی ثقافتی دھنیں بھی ریکارڈ کروائیں جو اب بھی ریڈیو پاکستان کا ایک ثقافتی ورثہ ہے۔

17 اگست 1988 ء کو ضیاءالحق کی موت کی خبر نے والد کو پھر سے ریڈیو کے ساتھ جوڑ دیا جو ہنوز جاری ہے۔ مگر اب بی بی سی ریڈیو پر نہیں آتا اور نہ سیلون اور آل انڈیا سے گیتوں کے فرمائشی پروگرام سننے کو ملتے ہیں۔ ان کا معمول یہ ہے کہ وہ ریڈیو پر شام کو شینا پروگرام اور اس کے بعد وائس آف امریکہ سے خبریں اور تبصرے سنتے ہیں۔ سچ پوچھیے تو میرے والد کو اب بھی ٹیلی ویژن کے تبصروں اور مباحثوں پر اعتبار نہیں وہ صرف ریڈیو پر ہی بھروسا کرتے ہیں اور بیشتر اوقات ان کے اندازے، رائے اور تبصرے صحیح ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 191 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan