ایک اشارہ جس نے چین کو پریشان کر دیا

کیری ایلن - بی بی سی مانیٹرنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

A girl making an ok signal to ask for helpتصویر کے کاپی رائٹTIKTOK/SINA WEIBO

ایک چینی لڑکی نے یہ پیغام بھیجنے کے لیے کہ اسے مدد چاہیے، ایک انوکھا طریقہ اپناتے ہوئے ہاتھ سے کچھ اشارہ کیا۔ ہہ ویڈیو مشہور سوشل نیٹ ورک ٹِک ٹاک پر وائرل ہو گئی جس سے چینی حکام پریشان ہیں۔

وڈیو میں یہ لڑکی چین کے ایک ایئر پورٹ پر ایک اجنبی شخص کے نرغے میں دکھائی گئی ہے۔ وہ مدد حاصل کرنے کے لیے شور شرابا نہیں کرسکتی پھر وہ ہاتھ سے ایک ایسا اشارہ کرتی ہے جو ’اوکے‘ جیسا لگتا ہے۔

یہ اشارہ قریب سے گزرنے والے ایک شخص کی توجہ حاصل کرلیتا ہے اور وہ لڑکی کو لے جانے والے شخص سے بحث شروع کردیتا ہے، جس سے وہ دوسروں کو بھی بتانا چاہتا ہے کہ لڑکی کو اس کی مرضی کے بغیر یرغمال بنایا گیا ہے۔ یہ تکنیک کامیاب رہی، اور بالآخر لڑکی دوبارہ اپنے والدین کے پاس پہنچ گئی۔

لیکن ایسا کیا ہوا کہ ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا جس سے چینی حکام بھی گھبرا گئے۔

ہاتھ کا اشارہ

The

اگرچہ دنیا بھر میں اوکے کے پیغام کو مثبت مطلب ہی دیا جاتا ہے، چین میں ہاتھ اس طرح گھمانے کو کہ ہتھیلی آپ کی طرف ہو باریکی سے پیغام دینے کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

اگر آپ کی دونوں انگلیاں ایک ساتھ دب جائیں تو آپ کا ہاتھ 110 کا ہندسہ لگے گا جو چین میں پولیس بلانے کے لیے ایمرجنسی فون نمبر ہے۔

اسی طرح یہ ویڈیو، جس میں ایکٹر استعمال ہوئے ہیں، بچوں کو مشکل میں خفیہ طریقے سے پیغام پہنچانے کا طریقہ بتاتی ہے۔

اس پیغام کو عام کرنے کے لیے ویڈیو کے آخر میں ایک شخص ناظرین کو بتاتا ہے کہ اس ہاتھ کے اشارے کو خوب پھیلائیں تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ جب وہ اغوا کر لیے جائیں، یرغمال بنا لیے جائیں یا ان کی زندگی کو کوئی اور خطرہ لاحق ہوتو وہ یہ اشارہ کر سکیں۔

حکام کو یہ اشارہ بالکل پسند نہیں ہے

چینی بیوروتصویر کے کاپی رائٹPIYAO
Image captionغلط معلومات سے نمٹنے والے چینی بیورو نے کہا کہ ’اوکے‘ کا طریقہ بالکل ’اوکے‘ نہیں ہے۔

اس ویڈیو کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ عوامی مفاد میں اعلان ہے جس سے پولیس آگاہ ہے۔

چین کے ایک اخبار ’چینگدو اکنامک ڈیلی‘ کے مطابق یہ ویڈیو ٹِک ٹاک پر اس تاثر کے ساتھ شئیر کی جارہی کہ یہ پولیس کی جانب سے بنائی گئی ہے۔ حالانکہ یہ ابھی معلوم نہیں ہے کہ یہ ویڈیو کہاں سے شیئر ہوئی۔

اس وڈیو کے بعد چین کا سرکاری میڈیا یہ پیغام عام کر رہا ہے کہ یہ ویڈیو گمراہ کن ہے اور یہ کہ پولیس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس سرکاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ خطرے کے وقت ایسے اشارے کا کوئی مطلب نہیں ہوتا اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ اشارہ کسی کی مشکل میں اضافہ بھی کرسکتا ہے۔

پیغام میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے کوئی ایسا نظام متعارف نہیں کرایا ہے اور قارئین کو یہ کہا گیا کہ وہ مدد حاصل کرنے کے مروجہ طریقوں پر ہی عمل کریں جس میں کسی بھی مشکل میں پولیس کو کال کرنا شامل ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ اچھا آئیڈیا ہے

اس کے باوجود کہ چینی حکام نے اس ویڈیو اور اس کے بعد ٹک ٹاک پر چلنے والی مہم سے لاتعلقی ظاہر کی ہے سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا محض ایک اشارہ مشکل کی گھڑی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

کچھ لوگوں نے مائیکرو بلاگ سینا ویبو پر رائے کا اظہار کیا ہے کہ مدد کے لیے اب بھی چیخ و پکار ہی زیادہ موثر اور قابل عمل طریقہ ہے۔ دیگر صارفین نے رائے دی کہ محض اشارہ لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے اور ایسی مداخلت کا سبب بھی بن سکتا ہے جو غیر ضروری ہو۔

لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں ایک آمرانہ نظام ہے اور لوگ کھل کر بات بھی نہیں کرسکتے ہیں وہاں کچھ لوگ اس اشارے کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ معمولی عمل کسی کو مشکل سے نکلالنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

بغاوت کی علامت والے ہندسے

Taylor Swift's 1989 album caused a headache for Chinese censorsتصویر کے کاپی رائٹTAOBAO

ہندسوں کی مدد سے چینی حکام کو موثر انداز میں تنقید کا نشانہ بنانا سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک بہترین ہتھیار سمجھا جاتا ہے کیونکہ چینی حکام اس پر فوری طور پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ہیں۔ چین میں حساس تحریروں پرنگرانی رکھنا ایک معمول ہے جنھیں دیکھ کر چینی حکام فوراً متحرک ہو جاتے ہیں۔

لوگوں نے 1989 میں تیانامن سکوائر پر ہونے والے قتل عام کو یاد رکھنے کے لیے، جسے چینی حکومت تین دہائیوں سے موثر طور پر سنسر کررہی ہے، طریقہ تلاش کر لیا ہے جیسے 46 یعنی 4 جون یا 64 یعنی جون 4 یا 1989۔

جب ٹیلر سوفٹ نے، جو کہ چین میں بہت مشہور ہیں، اپنی ایک البم 1989 کے ٹائیٹل سے ریلیز کی تو چینی حکومت نے ایسی تمام پوسٹس کی نگرانی شروع کردی جن میں چین کی تاریخ کا ایک انتہائی متنازعہ واقعہ کا ذکر موجود ہے۔

ہندسے جو احتجاج کی علامت

تصویر کے کاپی رائٹAFP

ہانگ کانگ میں مظاہروں کے دوران پیغام رسانی کے لیے خفیہ مطلب رکھنے والے ہندسے زیاد موثر ثابت ہوئے ہیں۔

حالیہ چند برسوں میں آن لائن صارفین اپنی قیادت پر تنقید کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس کے لیے وہ وہ ہندسہ استعمال کرتے ہیں جتنے انہوں نے انتخابات میں ووٹ حاصل کیے تھے۔

اسی طرح 777 ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کیری لیم کا متبادل نام بن چکا ہے۔ ان کے پیش رو سی وائی لیونگ 689 سے جانے جاتے تھے۔

حالیہ چند مہینوں میں ہانگ کانگ میں احتجاج ایک معمول بن چکا ہے۔ مظاہرین منظم ہونے اور رش میں پیغام رسانی کے لیے ہاتھ کے اشاروں کا استعمال کرتے ہیں۔

گرافکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی آئی وائی اشارے وہ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب انھیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ آنکھوں پر باندھنے کے لیے ماسک، ہیلمٹ، منہ پر چڑھانے کے لیے ماسک۔ یہ اشارے ٹوئٹر پر بہت شیئر کیے گئے۔

اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ ایک معمولی اور بظاہر بے ضرر اشارہ کیسے چین میں عوامی مقبولیت حاصل کرگیا اور چینی حکام کو پریشان کر رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9834 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp