معاشرہ: عمر بہتر برس، ذہنی توازن خراب ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو واقعات ہیں۔ دونوں میں چند دنوں کا فاصلہ ہے۔ دونوں میں کچھ مشترکات ہیں اور کچھ اختلافات۔ ایک واقعہ کراچی کا ہے تو دوسرا رحیم یار خان کا۔ دونوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوئے اور سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں شدید ردِعمل آ رہا ہے۔

پچھلے مہینے کراچی کے علاقے بہادرآباد میں ایک سولہ سالہ بچے، ریحان کو ایک مشتعل ہجوم نے چوری کے الزام میں پکڑا، اس کو بے دریغ مارا۔ سہمے ہوئے معصوم کی ویڈیو بنائی اور بعد میں اسے جان سے مار دیا۔

چند دن پہلے رحیم یار خان سے صلاح الدین نامی ایک شخص کو اے ٹی ایم مشینوں میں پھنسے ہوئے کارڈ نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔ جو ویڈیوز سامنے آئیں ان میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ صلاح الدین کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ اسے رحیم یار خان میں لوگوں نے اے ٹی ایم مشین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے دیکھا۔ پہلے خود اس پہ ہاتھ سیدھے کیے اور اس کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے اس پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بے بس صلاح الدین پر ہونے والے ظلم کے تصویری ثبوت موجود ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے تمام مناظر کو احتیاط سے عکس بند کیا گیا ہو۔

صلاح الدین پولیس کے اہلکاروں سے یہ پوچھتا اس دنیا سے چلا گیا کہ سرکار ”تسی ایس طرح مارنا کتھوں سکھیا اے“ (آپ نے اس طرح مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟ )

صلاح الدین زخموں سے چور تھا۔ لیکن اس بے بسی میں بھی وہ ہم سب کے لیے ایک ایسا سوال چھوڑ گیا جو صرف ایک سوال نہیں بلکہ اس نظام کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے۔

یوں تو ان دو واقعات میں بہت سے مشترکات ہیں۔ لیکن میں صرف دو پہلووں سے سو چ رہا ہوں۔

پہلی چیز مشترک تو یہ ہے کہ دونوں واقعات میں مقتولین کی بے بسی کو پوری دیانتداری سے ریکارڈ کیا گیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ جو دیکھے، عبرت پکڑے۔ اور اس کے پیچھے کارفرما ہے وہ سوچ کہ جو طاقت، جبر اور خوف کے ذریعے سماج کو کنٹرول کرنے پریقین رکھتی ہے۔ یہاں مہذب ان کو سمجھا جائے گا جو سماج کو کنٹرول کرنا ریاست کی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور وہ لوگ جو یہ ذمہ داری ہجوم کو سونپتے ہیں غیر مہذب اور وحشی کہلائیں گے۔

فرق اِن دو واقعات میں یہ ہے کہ ریحان کے معاملے میں ہجوم نے ملزم کی تقدیر کا فیصلہ خود کیا۔ جبکہ صلاح الدین کے معاملے میں بالکل وہی سلوک ایک ریاستی ادارے کی جانب سے برتا گیا۔

ایسے واقعات ہمارے ارد گرد ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور ہم ان کہ تشخیص نہیں کر پا رہے۔ کہیں کوئی طالب علم استاد کو گستاخ کہہ کر مار دیتا ہے تو کہیں کوئی ہجوم کسی بے گناہ کی جان لے لیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم سزا اور صرف سزا ہی کو سماج کی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے آئے ہیں۔ اور پھر ہم جرم کی نوعیت اور سزا کی شدت کے درمیان مطلوبہ تناسب کو سمجھ ہی نہیں پا رہے۔

ہر بار ایک نیا حادثہ ہوتا ہے۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ وقت نے کس طرح اس حادثے کی پرورش کی ہے۔

ہمارا دُکھ جائز اور اس کا اظہار بجا۔ لیکن ہم صلاح الدین اور ریحان کے قاتلوں کے لیے ’درندے‘ ’بھیڑیے‘ اور ٰانسان نما جانورٰ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر تو ایسے الفاظ کے ذریعے ہم اُس غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں جو ایسے واقعات پر ایک فِطری ردِ عمل ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسے الفاظ کے انتخاب کے ذریعے ہم قاتلوں کو عمداً یا سہواً کوئی اور ہی مخلوق بنا دیتے ہیں۔ ہم ان سے اُن کی شناحت چھین لیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ قاتل کوئی جنگل کی مخلوق نہیں بلکہ ہمارے ارد گرد بسنے والے لوگوں ہی میں سے ہے۔

زبان کے اس استعمال کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم ظالم کو اس کی انفرادی حیثیت میں دیکھتے ہیں اور اس طاقتور نظام سے صرفِ نظر کر جاتے ہیں جو ایسے متشدد رویوں کو جنم دیتا ہے۔ ہم اس نظام کو بھلا بیٹھتے ہیں جہاں جُرم کی نوعیت اور سزا کی شدت میں تناسب کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ جہاں طاقت ور کی منشا کے پورا ہو جانے کو عدل کہہ دیا جاتا ہے۔

پس الزام گستاخی کا ہو یا بھوک سے تنگ آکر چند لقمے چوری کرنے کا، ملزم عقلمند ہو یا پاگل، بچہ ہو کہ بڑا، چوری مجبوری میں کرے یا عادتاً۔ سزا کا فیصلہ ہجوم کرے گا یا ایسے بے لگام ریاستی ادارے جن پر ہجوم کی نفسیات غالب آ چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •