چندریان مشن کی ناکامی اور انڈیا سے مقابلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کی خوشی دیکھ کرلگتا ہے سبز خرقہ پوش بابے جنگ میں مدد کو آئیں نہ آئیں چاند کی سطح پر موجود تھے اور انہوں نے ہی ہندوستان کے مشن چندریان کو ناکام بنا دیا ہے۔

ہم، جوخود کھیل بھی نہ رہے ہوں تو لب پہ دعا اور دل میں خواہش موجزن رہتی ہے کہ انڈیا ہار جائے، بہت خوش ہیں کہ چندریان مشن ناکام رہا۔ اس میں ہماراسائنس اور ٹیکنالوجی کا وفاقی وزیر بھی شامل ہے جو جگتوں سے انڈیا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہا اور کامیاب ہے۔ یہ وہی وزیر صاحب ہیں جن کے ایک انتہائی احسن قدم یعنی چاند کی پیدائش کی تاریخ کے سائنسی اعلان کو نہ اس کی قوم مان رہی ہے نہ حکومت۔ بس اچانک انہیں ”غریب ہندوستان“ کے نو سو کروڑ (نو ارب) ضائع ہونے کا غم کھائے جارہا ہے ساتھ وہ انہیں یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ ”جو کام نہیں آتا، پنگا نہیں لیتے۔ “

یہ کیا ذہنی سطح ہے، کس طرح کی سوچ ہے، دوسرے لفظوں میں اوئے کون لوگ او تسی؟ وہ انڈیا جس کے پاس ایک وقت میں کل ایک بلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر رہ گئے تھے، آج سوا چار سو بلین ڈالرز سے زائد ذخائر کا مالک ہے۔ اسی طرح گوگل، مائیکروسافٹ، ایڈوبی، پیپسی، ماسٹر کارڈ، ڈوئچے بنک سمیت دنیا کے بڑے بڑے اداروں کے سی ای او ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت بڑے بڑے عالمی منصوبوں میں انڈیا برابر کی شراکت داری کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل انڈیا فرانس میں بنائے جانے والے مصنوعی سورج کے ایک بہت بڑے پراجیکٹ کا حصہ دار بنا ہے۔ جس منصوبے پر بیس ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

کیا ہمیں معلوم ہے کہ بچہ چلنے سے پہلے کتنی دفعہ گرتا ہے؟ گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں، اپنی تحریروں اور تقریروں میں اسے عمال کرنے والے شہ سواری کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ سلطان غزنوی کے سولہ حملوں میں ناکامی اور سترہویں حملے میں کامیابی کی مثالیں دینے والے یہ کیوں نہیں جانتے کہ ناسا سمیت دنیا کے بڑے بڑے اداروں کے کتنے مشن ناکام ہو چکے ہیں۔ کیا 1986 کا چیلنجر شٹل کے پھٹنے کا واقعہ ہمارے ذہنوں میں ہے؟ انڈیا گھٹنوں کے بل ہی سہی کم ازکم چلنے کی کوشش تو کررہا ہے۔

گزارشات کا مقصد انڈیا کی تعریف کرنا نہیں بلکہ حقیقت شناسی، سستی جگتوں سے پرہیز اور اپنے گریبان میں جھانکنے کی ترغیب کی ادنی سی کاوش ہے۔ پہلے بھی ایک دفعہ لکھ چکا ہوں کہ ہمیں دوسروں کی لکیریں چھوٹی کرنے کی خواہش، دعا اورخوشی سے پرہیز کرکے اپنی لکیر کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ سائنس اور سائنسدان انسانیت کے لئے قدرت کا تحفہ ہوتے ہیں، ان کی ایجادات سے اقوام عالم فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ہمیں کیا خبر کہ ہمارے ہاتھ میں پکڑا موبائل کس یہودی کی ایجادہے، دل میں پڑنے والا اسٹنٹ کس ملحد کی فکر کا نتیجہ ہے، سرن میں محیرالعقول تحقیقات کی عمارت کس احمدی، ہندو، عیسائی، افریقن، امریکن یا ایشین کی بنیادوں پر استوار ہورہی ہے۔ لیکن کیا ہم نے دوسروں کی تحقیقات سے ہی فائدہ اٹھانا ہے، خود کسی کو فیض نہیں پہنچانا؟ اور جو کام خود نہیں کرنا اس کی ناکامی پر دوسروں کا ٹھٹھا اڑانا ہی رہ گیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •