انگریز ہندوستانی پولیس کی تربیت کیسے کرتا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں پولیس نظام کو لے کر ایک بحث جاری ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں پولیس کا نظام برٹش انڈیا پولیس ایکٹ کی پیداوار ہے۔ مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو محترم جناب آغا بابر نے، جن کا اصل نام سجاد حسین بٹالوی تھا اور وہ مشہور قانون دان اعجاز حسین بٹالوی کے بڑے بھائی تھے، اپنی یادداشتوں میں بھی تحریر کیا ہے کچھ یوں ہے کہ وہ جب برٹش انڈیا میں سول سروسز میں آئے اور پولیس افسر مقرر ہوئے تو انہیں ٹریننگ کی لئے ایک تھانہ کے تھانیدار کے پاس بھیجا گیا تاکہ پولیس کی عملی تربیت کا تجربہ حاصل کریں۔

تو ایک روز تھانیدار اپنے گھوڑے پر سوار علاقہ معائنہ کے لئے نکلا تو انہیں بھی ساتھ لیا۔ گرمی کا موسم سہ پہر کے وقت گاؤں کے لوگ سستا رہے تھے کہ یک دم تھانیدار نے گرج دار آواز لگائی ”اؤ پانی ہے کوئی“ بہت سے لوگ دوڑے اور ایک بڑے گلاس میں تازہ لسی لئے حاضر ہوے۔

تھانیدار نے گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے لسی پی اور گلاس اس کے منہ ہر دے مارا۔ آغا بابر کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ ”اس شخص نے تمہاری عزت کی اور تمہیں لسی دی اور تم نے پی کو گلاس اس کے منہ پر دے مارا یہ کیا ہے؟“ تو تھانیدار نے کہا ”یہ میں نے اس لیے کیا کہ وہ آدمی یہ نہ سوچے کہ اس نے مجھ پر کوئی احسان کیا ہے آپ کی تربیت کا پہلا سبق یہی ہے کہ کسی کو خاطر میں نہ لائیں بھلے آپ اس کے احسان مند ہی کیوں نہ ہوں۔“

پاکستان اور بھارت کا سول سروس ڈھانچہ ایک ہی ہے اور اس کا ماخذ وہی انڈین سول سروس ایکٹ ہے جس کو بنانے والے اور اس پر عمل درآمد کرانے والی برطانوی بیوروکریسی جب تقسیم ہند کے بعد واپس انگلستان گئی تو سب کو پورے اعزاز کے ساتھ ریٹائرڈ کر دیا گیا اور اس کی دلیل یہ دی گئی کہ ہم نے برٹش انڈیا کی نوکر شاہی ہند کے لوگوں پر حکمرانی کے لئے بنائی تھی اور یہاں انگلستان کی بیوروکریسی عوام کی خدمت کے لئے، تربیت کے لئے بنائی ہے۔ حکمرانی کا نظریہ رکھنے والے خدمت نہیں کرسکتے لہذا سب کی خدمات کو اعزاز کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ پولیس کو خاص طور پر سیاسی مخالفین کو زیر عتاب رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور آج کا سیاستدان اپنے آپ کو پولیس پر اپنی مرضی کا اختیار نہ ہونے پر اپنے سیاسی قد کاٹھ کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ پولیس کو برطانوی طرز پر حکمران ”عضو حکمرانی“ کے طور استمال کرنے میں اپنی طاقت سمجھتے ہیں اور اس سیاسی پشت پناہی نے ہی پولیس کو شتر بے مہار بنا دیا ہے۔ وہ جسے چاہیں اٹھائیں اور بنا چارج حوالات میں لامتناہی مدت تک رکھیں۔ جس ہر جو چاہے چارج لگائیں۔

قتل ہو تو قاتل فرار اور مقتول کے لواحقین مجرم اور ان کی جمع پونجی پولیس کے مرحوم منت۔ وقوعہ کے نقشہ فوٹو سے لے کر مقتول کے ہوسٹ مارٹم تک اور تدفین سے جائے شبہ پر چھاپہ مارنے تک سب ریٹ لسٹ بنی ہوئی ہے اور مقتول کے لواحقین سب ادائیگیوں کے ذمہ دار ہیں۔ جبکہ یہ سب ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پولیس حکومت کرتی ہے اور عوام اس کی رعایا نہیں اس کے زر خرید غلام ہیں۔ یہی نظام ہے اور آج صلاح الدین کی تصویر اور اس کا بہمانہ پولیس کسٹڈی قتل اسی نظام اور اس نظام کے تحت حکمرانی کرنے والے وزیر اعظم، وزیر اعلی سمیت سب صاحب اقتدار حلقوں کا منہ چڑا رہی ہے۔ یہ تصویر سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے ہر فرد کی ترجمانی بھی کر رہی ہے لیکن ان سب کے رویے پر سے سوال بھی اٹھا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •