ستمبر 65 کا ایک دن جس نے ایک 6 سالہ بچے کی دنیا بدل دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(برگیڈئیر صفدرحسین، ڈاکٹر احسان احمد اور 3 (ایس پی) میڈیم رجمنٹ آرٹلری کے افسران کا شکریہ جنہوں نے مجھے لکھنے کی ترغیب دی)

زندگی کی نا معلوم منزلوں کے سفر میں، ہمارے ذہنوں میں سینکڑوں عکس ابھرتے اور آوازیں گونجتی ہیں۔ ایسے تکلیف دہ عکس اور آوازیں جو ہماری زندگیوں کو ایک پل میں پارہ پارہ کردیں یا زندگی کو ایک بار پھر سے جینے کا حوصلہ عطا کردیں۔

میری ان دلسوز یادوں کا سلسلہ 1965 سے جڑا ہے جب میرے والد میجر علی عابد حسین پاک بھارت جنگ میں شہادت کا رتبہ پاکر عازم خلد ہوئے۔ 6 ستمبر 1965 کو شروع ہوئی اس جنگ نے تمام پاکستانیوں کی زندگی کو متاثر کیا۔ فیصل آباد میں بھی ائیر پورٹ پر متععد فضائی حملوں کی وجہ سے لوگ بارہا گھروں سے حفاظتی مورچوں میں منتقل ہوتے رہے۔ ۔

10 ستمبر کو دن اور رات کے اوقات میں متعدد فضائی حملے ہوئے اور ہم نے رات کے کئی پہرمورچوں میں گزارے اور جب شہری دفاع نے صورتحال کی بہتری کے سائرن بجائے تو اس وقت ہمارا کنبہ ہمارے نانا ابا کے گھر پر تھا۔ میں اپنی امی کے پاس سو رہا تھا کہ اچانک میں نے کسی کے رونے کی آواز سنی۔ آنکھ کھلی تو نانا کو اپنے سرہانے کھڑے روتے دیکھا۔ میری امی گھبرا گئیں اور کیا ہوا کہہ پریشانی کے عالم میں باہر کی جانب لپکیں۔ میں بھی ان کے ساتھ گھر کے مرکزی دروانے کی جا نب دوڑا جہاں مجھے فوجی وردی اور ریڈ کراس ایمبولینس کی جھلک نظر آئی۔ میرے جنگی ماحول سے متاثرہ ذہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ ہم پر دشمن کا حملہ ہو گیا ہے۔ اسی اثنا میں امی نے ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھول لیا اگلے منظر میں میرے والد کے قدم میرے چہرے سے ایک بازو کی دوری پر تھے۔ آنے والے بارہ گھنٹوں میں میری زندگی پر دکھوں کے پہاڑ آن گرے تھے۔

” میں ٹکٹکی باندھے مسلسل اپنے ابدی نیند سوئے ہوئے والد کے پر سکون چہرے کو دیکھے جا رہا تھا“
میں اک چھ سالہ بچہ ذہن میں انگنت سوالات لیے سارا دن اپنے والد کے بستر کے ساتھ کھڑا رہا۔

”میں ایک شہید کا بیٹا ہوں“ یہ اعزازی جملہ میں نے ہمیشہ یاد رکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کم عمری میں والد کی 11 ستمبر 1965 کو اچانک جدائی نے میرے قلب و ذہن کو بے حد مجروح کیا تھا۔

میں خالی نظروں سے کبھی اپنی ماں، دونوں بہنوں، دادا دادی، ماموں اور خالہ کی طرف دیکھتا تو کبھی ابو کی طرف۔ میرا دماغ بالکل ما ؤف ہو چکا تھا۔ ابو کی وردی ان کے اپنے ہی خون میں بھیگی اور رنگی ہوئی تھی، میرا چھ سالہ دماغ ان سب مناظر کو پوری طرح سمجھنے اور برداشت کرنے سے قاصر تھا۔

سب کہہ رہے تھے کہ ابو کو شہادت سے ابدی حیات ملی ہے۔ لیکن میرا معصوم ذہن یہ سب سمجھنے سے قاصر تھا اور اس میں طرح طرح کے سوالات جنم لے رہے تھے۔
”ابو اتنی دیر سے کیوں سو رہے ہیں؟ “
”کیا میں ان کی آنکھیں کھول سکتا ہوں؟ (اور میں نے ایک بار کوشش بھی کی لیکن امی نے میرا ہاتھ روک لیا) “
”امی اور سب لوگ کیوں رو رہے ہیں؟ “
کچھ مناظر آج بھی کسی فلم کی طر ح میرے دماغ میں چل رہے ہیں۔

ایک کیپٹن ابو کے فوجی جوتے امی کے حوالے کرتا ہے اور وہ درد بھری آواز میں پوچھتی ہیں ”کیا ہوا تھا؟ “ آپ بتاتے کیوں نہیں؟ میرے ابو کے بستر کے چاروں طرف رکھی برف کی سلیں، میرے دادا دادی، ماموں، خالہ کا مجھے گلے لگا کر رونا۔ یہ حیر ت انگیز بات تھی کہ میں سارا دن اپنے ابو کے پاس کھڑا رہا ا ور اس دوران ایک لمحے کے لیے بھی مجھے بھوک پیاس یا ٹھکاوٹ کا خیال تک نہیں آیا۔ اور آخرکارشام کو ابو کا جسد خاکی گھر سے ہمارے آبائی قبرستان راجہ غلام رسول نگر، چک RB 224، پیپلز کالونی نمبر 2، فیصل آباد کی طرف روانہ ہوا۔ جہاں انھیں ان کی فوجی وردی میں سپردخاک کیا گیا۔

مجھے کیا پتہ تھا کہ اپنے چھوٹے ماموں کی انگلی تھامے ابو کی چارپائی کے ساتھ جنازہ گاہ کی جانب چلنا میرا اپنے ابو کی معیت میں آخری سفر ہوگا۔

قبرستان پہنچے پر جو دو چیزیں مجھے ذہن نشین رہ سکیں وہ یہ ہیں کہ قبر کے ارد گرد لوگوں کے لیے جگہ بنانے کے لیے میرے بڑے ماموں نے قبرستان کی دیوار کو اپنی پوری طاقت سے دھکیلاتو وہ گر گئی، دوسرا یہ کہ ماموں گلزار نے ابو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اپنے پستول سے بہت ساری گولیاں ہوا میں فائر کیں۔ مجھے یاد ہے کہ قبرستان میں موجود درخت کے کچھ پتے میرے ابو کے جسم پر گرے ہوئے تھے۔

جب جسد خاکی قبر میں رکھا گیا تو ابو کا سر بائیں طرف مڑ گیا اور وہ میرا اپنے ابو کا آخری دیدار تھا۔ آج بھی میں ابو کی تدفین کی تصاویر دیکھتا ہوں تو ابو کو قبر میں اتارنے والے عزیزوں کے ہاتھوں پر مجھے تازہ خون کے نشانات نظر آتے ہیں حالانکہ ان کی تدفین شہادت کے تقریباً چالیس گھنٹے بعد ہوئی تھی۔

31 اگست۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب ہم آخری بار ملے

اگست 1965 کے آخری ہفتے میں ابو پندرہ دن کی چھٹیوں پرگھر آئے تو ہم سب بہت خوش ہوئے۔ کار پر سیر، بازاروں میں جانا، کھلونے خریدنا، رشتہ داروں سے ملنا یہ سب مناظر کسی بلیک اینڈ وائیٹ فلم کی طرح میرے ذہن میں چلتے ہیں۔ لیکن صرف دودن بعد ہی ابو کو اپنی یونٹ کی طرف سے فون آیا کہ ان کی چھٹیاں منسوخ ہو گئی ہیں اور انہیں فوراًیونٹ واپس بلالیا گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ابو کے ذہن میں کیا چل رہا تھا مگر اس وقت گھر کا ماحول بڑا سنجیدہ تھا۔ ابو نے میری بڑی خالہ سے رابطہ کیا کہ اگر ہو سکے تو وہ ملنے کے لیے آئیں۔

31 اگست کی صبح ہم اپنی خالہ کو ریلوے اسٹیشن پر لینے کے لیے گئے تو انہوں نے ابو سے پوچھا ”بھائی جان اب دوبارہ کب آئیں گے؟ “ ابو نے آسمان کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”اللہ جانے“۔ ابو نے کچہری بازار فیصل آباد کے باہر سرکلر روڈ پر ہمیں اتارا اور مجھے چومتے ہوئے کہا ”بیٹا“ امی اور بہنوں کا خیال رکھنا پھرمسکراتے ہوئے الوداع ہمیں کہا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر خرم سہیل راجہ کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر خرم سہیل راجہ کی دیگر تحریریں