اپنا اپنا چھ ستمبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج چھ ستمبر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس برس یوم دفاع کو یکجہتی کشمیر سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ 8 اگست 1965 کو پیر پنجال کی پہاڑیوں سے شروع ہو کر 10 جنوری 1966 کو تاشقند کی میز پر ختم ہونے والی جس لڑائی سے یہ دن منسوب ہے، اس کی چنگاری کشمیر کے چناروں ہی سے پھوٹی تھی۔ خیر یہ تو ہوتا ہے۔ ہر کہ آمد عمارت نو ساخت۔ اور اب تو ایسا زمانہ آن لگا کہ نئی عمارت بنانے کی کسے مہلت ہے، ہم نے پرانی عمارت کو نیا نام دینے کی کم خرچ بالا نشیں روش اپنا لی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ایک حریت طبع کشمیری استاد کے نام سے منسوب زیر زمیں راستے کو کشمیر انڈر پاس کا نام دے دیا ہے۔ یہ وسائل کی کمی نہیں، نظر کی کوتاہی ہے۔

آج کے دن آپ کو بہت سی شعلہ بار تقریریں سننے کو ملیں گی، ہر لکھنے والے قلم سے داستان وغا برآمد ہو گی۔ شام ڈھلے ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر صنعت غلو کا مشاعرہ سجے گا۔ دوغزلے، سہ غزلے سننے میں آئیں گے۔ بھلے وقتوں میں حفیظ جالندھری، ضمیر جعفری جیسے پیرا ملٹری شعرا کا کلام سنتے تھے۔ اب تو خیر سے تربیت یافتہ اور تجربے سے کندن میں ڈھلے تجزیہ کاروں کی فوج ظفر موج دستیاب ہے۔ یہ ملال البتہ باقی رہے گا کہ جذبہ شہادت کی اس گرم بازاری میں وفاقی وزیر علی محمد خان سے ملاقات نہیں ہو پائے گی۔

اطلاع یہ ہے کہ جمعرات کی سہ پہر کشمیر سیمینار اسلام آباد میں غزوہ ہند کے طبل پر چوٹ لگا کر اسپ تازی پر سوار ہوئے اور سینے میں دبی تکبیر کی آگ سنبھالتے غنیم کی صفوں میں جا گھسے۔ اب شاید دریائے جیحوں اور دریائے سیحوں کے دوآبے میں ملاقات ہو تو ہو۔ یہ رتبہ بلند ملا جس کو، مل گیا۔ افسوس کہ درویش کو اس بلند آشیانی سے کبھی تعلق نہیں رہا۔ کچھ اسباب ہمیشہ سے عناں گیر رہے اور اب چند نئے عذر دامن کشاں ہو گئے۔ کچھ تفصیل عرض کرتا ہوں کہ آنے والوں کے لئے دیدہ عبرت نگاہ ہو۔

درویش نے کم عمری میں فیض احمد فیض کی نظم ’سپاہی کا مرثیہ‘ پڑھ لی تھی۔ یہ نظم ہمارے ان چار ہزار جوانوں کا مرثیہ ہے جو سترہ روزہ لڑائی میں کسی جواں بخت کے عزم کشور کشائی کا بوجھ اٹھائے ماٹی میں مل گئے۔ ’بیری براجے راج سنگھاسن، تم ماٹی میں لال‘۔ کبھی توجہ کیجئے گا، اس نظم پر 30 ستمبر کی تاریخ کندہ ہے۔ گویا یہ نظم جنگ کی نہیں، جنگ کے مآل کی حکایت ہے۔ پھر ایک مشاہدہ استاد محترم آر اے خان کی صحبت میں ہوا۔ استاذی بہت رکھ رکھاؤ کا سبھاؤ رکھتے تھے۔ لیکن ایک دفعہ جنگ ستمبر کا ذکر آ گیا۔ ایک بڑا آبدار آنسو میں نے استاد کی پلکوں پر لرزتا ہوا دیکھا۔ صرف یہ فرمایا، Some of my best sons were lost in that war.

جنگ صرف ایک صورت میں اعلیٰ اخلاقی ذمہ داری کی صورت اختیار کرتی ہے۔ جب غنیم مادر وطن کی طرف آنکھ اٹھا کے دیکھے تو جنگ انفرادی اور اجتماعی ضمیر کی پکار قرار پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ ایسی سرگرمی نہیں، جس کی آرزو کی جائے۔ زندگی کا امکان امن، تخلیق اور پیداوار میں نمو پاتا ہے۔ عسکری اخلاقیات میں سپاہ گری ایک ہنر ہے جس کا مقصد امن کا حصول ہے۔ کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر، جارحیت سپاہ گری کے اعلیٰ اصولوں سے انحراف ہے اور جان توڑ دفاع سپہ گری کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔

سسلی کے محاذ پر جنرل پیٹن اور جنرل بریڈلے امریکی فوجوں کی کمان کر رہے تھے۔ پیٹن طبعاً فوجی زندگی کے تام جھام اور مفروضہ عظمت کے تصورات کا اسیر تھا۔ بریڈلے، پیش قدمی ہو یا مراجعت، عسکری ضوابط سے سرمو انحراف نہیں کرتا تھا۔ ایک موقع پر حکمت عملی کی بحث تکرار میں بدل گئی۔ بریڈلے کا محاکمہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ اس نے کہا، جنرل پیٹن، جنگ تمہارے لئے تاریخ وغیرہ میں زندہ رہنے کا ذریعہ ہے اور میرے لئے محض ایک پیشہ ورانہ فرض جسے اچھی طرح ادا کرنا چاہیے۔

جرمن فیلڈ مارشل رومیل اور جنرل گڈیریئن کو دیکھیے۔ ان کی عسکری مہارت میں کسے کلام ہے۔ لیکن انہیں نازی نصب العین سے اتفاق نہیں تھا۔ سوویت کمانڈروں میں فیلڈ مارشل زخوف اور جنرل روکووسکی روسی فتح کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں کو بارہا اسٹالن کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف عسکری عظمت کے خبط سے تعارف چاہیے تو ذرا احتیاط سے چلیے۔ یہ میدان بارودی سرنگوں سے اٹا پڑا ہے۔ ایک تو اسٹینلے کیوبرک کی 1957 میں بنی فلم Paths of Glory دیکھ لیں۔ دوسرے نسیم زہرہ کی کتاب From Kargil to the Coup پڑھ لیں۔

درویش وزیر اعظم اور ان کے نورتنوں کا کچھ ایسا مداح نہیں لیکن کہنے دیجئے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پچھلے چار ہفتے کے تناؤ بھرے ماحول میں عملیت پسندی کا قابل تعریف مظاہرہ کیا۔ چاروں طرف بھڑکتے الاؤ کے بیچ کھڑے ہو کر حواس قائم رکھنا اور ناپ تول کر قدم اٹھانا ہی عقل مندی ہے۔ اہل کشمیر پر قیامت گزر رہی ہے۔ کرفیو اور لاک ڈاؤن پر پانچ ہفتے گزر چکے۔ پاکستان سفارتی اور سیاسی سطح پر جو کر سکتا ہے، وہ کیا جا رہا ہے۔ نعرہ فروشوں کے بھرے میں نہیں آنا چاہیے۔ ان کے اخلاقی لحاف میں مفاد کی روئی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ معتوب اخبارات تک کے خلاف جلوس نکالنے والی دفاع پاکستان کونسل کی آواز سنائی نہیں دی۔ ہم اپنے معاشی، داخلی اور خارجی وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہی اہل کشمیر کی کوئی ممکنہ مدد کر سکتے ہیں۔ مہم جوئی سے سات لاکھ سپاہ کے محاصرے میں آئے ہوئے کشمیریوں پر مزید افتاد ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے 80 لاکھ انسانوں کو مچان پر بندھے کمزور جانور سمجھنے کی بجائے ان کے انسانی المیے پر نظر رکھتے ہوئے طے کرنا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے قانونی، سیاسی اور سفارتی خدوخال کیا ہیں، ہمارا ہدف کیا ہے؟ اس مسئلے کے کسی ممکنہ حل کی طرف بڑھتے ہوئے کن پہلوﺅں پر آنکھ رکھنا ہو گی؟

کچھ نکات فوری توجہ چاہتے ہیں۔ کسی ممکنہ معاہدے سے قطع نظر، افغانستان میں امن کی صورت نظر نہیں آ رہی۔ ایران میں چین کی 280 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہمارے لئے دور رس اثرات سے خالی نہیں۔ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز براہ راست بھارت کے نام التفات بھرے ٹویٹ ارسال کر رہی ہیں۔ اس ہفتے ایف اے ٹی ایف کا اجلاس طے ہے لیکن آثار خوش آئند نہیں ہیں۔ ملکی معیشت ایک غیرمعمولی بحران میں گھر چکی ہے۔ مستقبل قریب میں سیاسی استحکام کی امید دم توڑ رہی ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معیشت کی بحالی ممکن نہیں اور سیاسی استحکام کے لئے آئینی بالادستی کو راستہ دینا پڑتا ہے۔ یہ فیصلہ فی الحال چھاؤنی کے دائرے میں ہے، اہل بازار کی کیفیت تو غالب نے بیان کر دی تھی:

کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہل بزم

ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •