جج ارشد ملک ویڈیو کیس نیا رخ اختیار کر گیا، ایف آئی اے کی حراست میں تینوں ملزمان بری ہوگئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جوڈیشل مجیسٹریٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی سفارش پر گرفتار کیے گئے تینوں ملزمان کو بری کردیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کیس کی سماعت سنیچر کو ہوئی۔

یاد رہے کہ جج ارشد ملک سابق وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف دو ریفرنسز پر فیصلے تحریر کر چکے ہیں جن میں سے ایک ریفرنس میں انھوں نے سابق وزیر اعظم کو بری جبکہ دوسرے ریفرنس میں سات سال کے لیے لاہور کے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا۔

جج ارشد ملک کی یہ متنازع ویڈیو پہلی بار مریم نواز ایک پریس کانفرنس میں منظر عام پر لے کر آئی تھیں۔ جس کے بعد جج ارشد ملک کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے واپس وزارت قانون بھیج دیا جہاں سے پھر انھیں لاہور ہائی کورٹ کے سپرد کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ویڈیو کیس میں قرار دیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ جج ارشد ملک کے پاناما فیصلوں کو دوبارہ ٹرائل کے لیے بھیج سکتی ہے۔

تاہم جج ارشد ملک کے خلاف کارروائی کے باوجود ابھی تک ان سے ایف آئی اے یا کسی اور ادارے کو تحقیقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ

BBC

جج کا کیس سننے سے انکار

ویڈیو کیس میں اہم موڑ اس وقت آیا جب یہ کیس سماعت کے لیے سول جج شائستہ کنڈی کی عدالت میں آیا اور انھوں نے ’ذاتی وجوہات‘ بتا کر اسے سننے سے معذرت کرلی۔ اس انکار کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ ثاقب جواد نے یہ کیس سنا۔

انھوں نے ایف آئی اے کی رپورٹ کی بنیاد پر گرفتار کئے گئے تینوں ملزمان ناصر جنجوعہ، غلام جیلانی اور خرم شہزاد یوسف کو عدم ثبوت کی بنا کر بری کر دیا۔

تینوں ملزمان پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی حراست میں تھے۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے ملزمان کے خلاف دوران تفتیش کوئی ثبوت نہ ملنے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے انھیں کیس سے ڈسچارج کرنے کی سفارش کی تھی۔دوران سماعت ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے تحقیقاتی رپورٹ سے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کے خلاف کسی قسم کے ثبوت نہ مل سکے۔

کوئی ثبوت نہیں

جج نے استفسار کیا کہ کوئی بھی ثبوت نہیں ملا؟

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بھی تفتیشی افسر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر کیس سے بری کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ ملزمان کی بریت کے فیصلے میں عدالت نے لکھا کہ ریکارڈ کے مطابق ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت ملا نہ ہی کوئی ریکوری ہوئی۔

ایف آئی اے رپورٹ

BBC

جج نے فیصلے میں ایف آئی اے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس صورتحال میں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا کوئی فائدہ نہیں لہذا انہیں بری کیا جاتا ہے۔ ’ملزمان کی اگر کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو پھر انھیں فی الفور رہا کیا جائے۔‘

اس عدالتی حکم کے بعد ملزمان کو رہا کردیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10800 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp