امام حسین ؓ کے ساتھ کون تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاضی شریح ابن حارث مسلم تاریخ کی ایک عجیب و غریب شخصیت ہیں، انہوں نے رسول اللہﷺ کے زمانے میں اسلام قبول کیا مگر ان کی آنحضرتﷺ سے کبھی ملاقات نہیں ہو سکی، یہ ایک نہایت قابل شخص تھے، فقہ اور حدیث کے عالم تھے، شعر و شاعری سے بھی شغف تھا، حضرت عمرؓ نے انہیں قاضی مقرر کیا۔ بعد میں حضرت عثمانؓ نے بھی انہیں اسی عہدے پر برقرار رکھا، حضرت علیؓ (غالباً) انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے مگر کوفہ میں چونکہ قاضی شریح نے کافی اثر و رسوخ پیدا کر لیا تھا اس لیے قاضی کی معزولی ممکن نہ ہو سکی۔

 یہ بات دل کو نہیں لگتی کیونکہ حضرت علیؓ نے تو حضرت امیر معاویہؓ کو گورنر کے عہدے سے معزول کرکے جنگ کی تھی تو قاضی شریح کو ہٹانا تو معمولی بات تھی، مگر ساتھ ہی یہ واقعہ بھی تاریخ میں بیان کیا جاتا ہے کہ قاضی شریح نے کوفے میں ایک شاندار مکان خریدا جو ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ قاضی نے اس مکان کی مالیت فقط اسّی دینار ظاہر کی اور دستاویز پر گواہوں کے دستخط بھی لیے۔ حضرت علی ؓکو جب اس بات کا علم ہوا تو آپؓ نے قاضی شریح کو بلا کر نہایت سخت الفاظ میں سرزنش کی اور فرمایا کہ ایک دن موت تمہیں آلے گی، اس دن یہ جھوٹی دستاویز اور جعلی گواہان کچھ کام نہ آئیں گے، موت تمہیں اس گھر سے اکیلے نکالے گی اور گھسیٹتے ہوئے قبر تک لے جائے گی اور پھر تمہارا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا، اگر تم یہ معاملہ کرنے سے پہلے میرے پاس آتے تو میں ایسی دستاویز تیار کرتا کہ تم ایک درہم کے عوض بھی یہ مکان خریدنے کی ہمت نہ کرتے!

قاضی شریح سے منسوب ایک اور واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت طلحہ کی چوری شدہ زرہ بکتر حضرت علیؓ نے ایک یہودی کے پاس دیکھی، شریح کی عدالت میں یہودی کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا مگر قاضی شریح نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے کر یہ مقدمہ خارج کر دیا۔ حضرت امیر معاویہؓ کے زمانے کا ایک واقعہ البتہ زیادہ قابلِ غور ہے، ابن زیاد کوفے کا گورنر تھا، اس نے حضرت حجر بن عدی کندی ؓکے خلاف ایک کیس بنا کر اپنی تحریری گواہی دی اور حضرت امیر معاویہؓ کے پاس بھیجا تو اس وقت قاضی شریح نے ابن زیاد کا ساتھ دیا اور گواہوں میں اپنا نام شامل کرکے حضرت امیر معاویہ ؓکے پاس گئے، اس کے نتیجے میں حضرت حجر بن عدی ؓکو ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا۔ حضرت عائشہؓ، امام حسینؓ، حسن بصریؒ، ابن عمرؓ سب نے اس قتل کی شدید مذمت کی، حضرت عائشہ ؓ نے تو حضرت امیر معاویہؓ سے شکایت کی جبکہ امام حسینؓ نے بھی تحریری اور زبانی احتجاج کیا (حوالہ:قاضی شریح کا کردار از علامہ ڈاکٹر سید مجتبیٰ حسن، ناظم دینیات مسلم یونیورسٹی، علی گڈھ)

کہا جاتا ہے کہ واقعہ کربلا کے موقع پر قاضی شریح نے یزید کے کہنے پر امام حسین ؓ کے خلاف فتوی ٰدیا کہ یہ خروج ہے مگر مجھے یہ فتوی ٰکسی مستند کتاب میں نہیں مل سکا، البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قاضی شریح بہرحال امام حسین ؓکے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، یزید کی مذمت تو دور کی بات اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی بھی زحمت نہیں کی، خانوادہ رسولﷺ دن دہاڑے بیدردی سے قتل ہو گیا مگر قاضی شریح نے بطور چیف جج ایک لفظ بھی نہ کہا، ایسا جج جو زرہ بکتر کا فیصلہ تو یہودی کے حق میں کر دے اور اللہ کے آخری نبیﷺ کی آل اولاد کے قتل پر خاموش رہے، ا س کی قابلیت اور علمیت کس کام کی؟ قاضی شریح کو بالآخر مختار ثقفی نے معزول کرکے کوفے سے جلا وطن کیا۔

مسلمانوں کے پاس دو بہترین ماڈل ہیں، ایک ماڈل حضرت عمر ؓکا ہے اور دوسرا امام حسین ؓکا۔ حضرت عمر ؓکا ماڈل حکومت کرنے کا ماڈل ہے، ریاست کو کیسے کام کرنا ہے، سسٹم کس طرح بنانا ہے، عوام کو انصاف کیسے مہیا کرنا ہے، بے کسوں کی داد رسی کیسے کرنی ہے، ٹیکس کیسے اکٹھا کرنا ہے، ایماندار افسر کیسے مقرر کرنے ہیں، احتساب کیسے کرنا ہے وغیرہ۔ حضرت عمر ؓکا ماڈل ہمیں بتاتا ہے کہ ریاست کی سمت کیسے درست رکھنی ہے، مسلمان حکمران اگر صحیح معنوں میں فلاحی ریاستیں قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں حضرت عمر ؓکا ماڈل اپنانا ہوگا۔

 امام حسین ؓکا ماڈل اپوزیشن کا ہے، جب حکومت درست سمت میں نہ ہو، ظلم اور استبداد پر کھڑی ہو اور ملک میں غیر آئینی اور غیر قانونی حکومت آجائے تو اس صورت میں امام حسین ؓکے نقش قدم پر چلنا پڑتا ہے، جس طرح حضرت عمر ؓکے طرزِ حکمرانی کو پبلک ایڈمنسٹریشن کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانا چاہیے، اسی طرح امام حسینؓ کی مزاحمت کو باقاعدہ ایک تھیوری کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اس لمحے سے لے کر جب امام حسین ؓنے یزید کی بیعت کا انکار کرنے کا فیصلہ کیا اور کربلا کے میدان تک جب امام ؓکے ساتھی ایک ایک کرکے ان کی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے رہے، یہ پوری داستان مسلمانوں کو حفظ ہے، سیکھنا ہمیں یہ ہے کہ ایک غیر قانونی اور استبدادی حکومت کے خلاف مزاحمت کیسے کی جاتی ہے، اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا کیوں ضروری ہے، مزاحمتی تحریک میں لوگ بے وفائی کیسے کرتے ہیں، حکومت اپنے اہلکاروں کو کس طرح قیمتی عہدوں کا لالچ دے کر وفاداری پر مجبور کرتی ہے اور جو لالچ میں نہ آئیں انہیں کیسے ڈرا دھمکا کر حمایت پر مجبور کیا جاتا ہے!

 کربلا کے میدان میں جب امام حسین ؓکو یہ پیشکش کی گئی کہ وہ یزید کی بیعت کرلیں تو اس وقت امامؓ کو علم تھا کہ بیعت کی صورت میں ان کی جان بچ سکتی ہے مگر آپ ؓنے انکار کر دیا، نواسہ رسولﷺ کی یہی شان تھی۔ یہ مزاحمتی داستان ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب حکومت غلط سمت میں ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ اُس وقت تمام ریاستی اہلکار بھی حکومت کے آلہ کار بن جائیں، کچھ لوگ حُر بھی ہوتے ہیں، حر نے یہ جان لیا کہ کوفہ کی حکومت غیر آئینی ہے سو اس نے اپنا لشکر امام حسین ؓکے ساتھ ملا لیا۔

 لٹے پٹے قافلے کے ساتھ جب سیدہ زینب ؓکربلا کے میدان سے یزید کے دربار کی طرف چلیں تو اپنی تمام تر طاقت اور جبروت کے باوجود کوفے کی حکومت لرز رہی تھی، یہ وہ آخری سبق ہے جو امام حسین ؓکی مزاحمت نے اپوزیشن کو سکھایا ہے کہ حکومت جتنی بھی طاقتور ہو، اگر وہ اپنی اخلاقی اتھارٹی کھو بیٹھے تو مٹھی بھر لوگ بھی اس کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

ساڑھے تیرہ سو سال گزر گئے، حالات اب بھی نہیں بدلے، حکومت آج بھی فاشست ہتھکنڈے اپناتی ہیں، زیادہ تر لوگ ایسی حکومتوں کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کرتے اور قاضی شریح کی طر ح اپنا وقت پورا کر لیتے ہیں، کچھ ابن زیاد اور شمر کی طرح ضرورت سے زیادہ شاہ کے وفادار بن جاتے ہیں جبکہ بہت کم لوگ میں یہ جرات ہوتی ہے کہ حر کی طرح نکلیں اور حق سچ کا ساتھ دیں۔ آج کے دور میں فاشسٹ حکومت کی مثال بھارتی مقبوضہ کشمیر کی ہے جہاں ظلم کے خلاف ایک دو افسران نے استعفیٰ دے کر ثابت کیا ہے کہ مردِ حر بننے کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔

(مصنف نے خصوصی طور پر ہم سب کو اشاعت کے لئے ارسال کیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 351 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada