غربت کا آمریت اور سماجی پسماندگی سے کیا تعلق ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوبل انعام یافتہ معیشت دان امرتیا سین نے غربت کو آمریت اور سماجی پسماندگی سے نتھی کیا ہے۔ افلاس اور بے چارگی کی انتہائی صورت یعنی قحط پر اپنے عمیق مطالعے اور گہرے تجزیے سے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ عذاب ہمیشہ انہی معاشروں پر نازل ہوتا ہے جہاں عوام کو اختلاف رائے اور معلومات تک رسائی جیسے بنیادی حقوق میسر نہیں ہوتے۔ زیر نظر مضمون ان کی معاشی فکر کے نمایاں خطوط اجاگر کرتا ہے۔

٭٭٭     ٭٭٭

انسانی ترقی کو جانچنے کا ٹھوس پیمانہ یہ ہے کہ پیٹ بھرے لوگوں کی تجوریوں میں دولت کے بڑھتے ہوئے انباروں کی بجائے افتادگان خاک کی محرومیوں میں کمی پر نظر رکھی جائے۔ غریبوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیے بغیر آنے و الے کل کی بہتر تفہیم ممکن نہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے غریبوں کے لئے امید کی کوئی کرن باقی ہے؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ ہم کن لوگوں کو غریب شمار کرتے ہیں۔ غربت کی بعض شکلیں تو ایسی ہیں کہ ان کی آسانی سے نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر غرباءکا ایک طبقہ تو وہ ہے جنہیں شیکسپئیر کے کردار کنگ لئیر نے ”تن ڈھانپ پہن کر ٹاٹ“ کا مشورہ دیا تھا۔ با ایں ہمہ یہ تو کنگ لئیر کو بھی معلوم تھا کہ محرومی کے سو بھیس ہوتے ہیں۔ معاشی بدحالی ہی غربت کی وہ واحد شکل نہیں جس کے نتیجے میں انسانی زندگی ایک تہمت بن جاتی ہے۔

غربت کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں ان انسانوں کی محرومی کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جو سوڈان سے لے کر جنوبی کوریا تکآمرانہ حکومتوں کے تسلط میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ جنہیں سیاسی آزادیوں اور شہری حقوق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ ہمیں ایشیا اور افریقہ کے ان گنت گھرانوں میں ان مجبور عورتوں کی حالت زار پر بھی توجہ کرنی چاہیے جو مردانہ بالادستی کے بھاری پتھر تلے بے چون وچرا اطاعت پر مجبور ہیں۔ ان ناخواندہ بچوں کو بھی شمار کرنا چاہیے جنہیں سکول جانے کے مواقع میسر نہیں آتے۔

ان اقلیتی گروہوں پر بھی توجہ دینی چاہیے جو بے رحم اکثریت کے خوف سے اپنی آواز بلند نہیں کر پاتے۔ غربت کی گوناگوں جہتوں میں وہ پرعزم افراد بھی شامل ہیں جنہیں رائے عامہ سے مختلف خیالات رکھنے کی پاداش میں زندانوں میں ڈالا جاتا ہے اور کبھی کبھی انہیں ”امن عامہ“ کے رکھوالوں کے ہاتھوں اذیت دہی کا شکار بھی بننا پڑتا ہے۔

وہ اصحاب جو مسائل کی سیدھی سادی تشریح اور سادہ لوح اعداد و شمار کے حامی ہیں انہیں غربت کی تعریف میں یہ وسعت پسند نہیں ہے۔ انہیں تو سادہ سوالات پسند ہیں۔ مثال کے طور پر کتنے فیصد لوگوں کی یومیہ آمدنی ایک ڈالر یا دو ڈالر سے کم ہے۔ پھر وہ اس تجزیاتی تنگنائے سے اقتصادی رجحانات کی پیش گوئیاں کرتے ہیں اور اعدادو شمار کی زبان میں غریبوں کی بیان کردہ تعداد پر اصرار کرتے ہیں۔ جہاں تک غریبوں کے مستقبل کا سوال ہے یہ طریقہ کار تجزیاتی سستے پن کا مظہر ہے، تاہم انسانی غربت کی بے شمار شکلیں ہو سکتی ہیں۔ جوشہری سیاسی طور پر آزاد نہیں ہیں ان کی مالی حالت خواہ کیسی بھی ہو، وہ خوشحال زندگی کے ایک بنیادی جزو سے محروم ہیں۔ اسی طرح سماجی محرومی کی مختلف صورتوں مثلاً ناخواندگی، علاج معالجے سے محرومی یا عورتوں اور بچیوں کے بنیادی مفادات سے غفلت کو بھی غربت میں شمار کرنا چاہیے۔

اصل بات یہ ہے کہ اقتصادی، سیاسی اور سماجی محرومیوں کے باہمی رشتے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مطلق العنان حکومتوں کے حامی سوال کرتے ہیں کہ کیا سیاسی آزادی انسانی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہے؟ یہ لوگ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ سیاسی آزادی بذات خود انسانی ترقی کا ایک حصہ ہے، چنانچہ یہ سوال ہی سرے سے غلط ہے تاہم یہ حضرات اس غلط سوال کا مزید غلط جوا ب بھی خود ہی عنایت کرتے ہیں۔ ”جمہوری ممالک کے مقابلے میں غیر جمہوری ملکوں میں کل قومی پیداوار میں اضافے کی شرح کہیں زیادہ بلند ہے“ ایک سے زیادہ تحقیقی مطالعوں کے نتیجے میں بار بار دھرائے جانیوالے اس کلیشے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ یقیناً جنوبی کوریا نے جمہوریت کی بحالی سے قبل تیزی سے ترقی کی تھی۔ لیکن شمالی کوریا کمزور جمہوری بنیادوں کے ساتھ ترقی کی اس شرح کو کیوں نہیں چھو سکا؟ پھر جمہوری بوٹسوانا کا معاملہ لیجیے جہاں ترقی کی شرح ایتھوپیا اور گھانا کی آمریتوں کے مقابلے میں کہیں بلند رہی ہے۔

مزید برآں کل قومی پیداوار میں اضافہ ہی معاشی ترقی کا اہم ترین مظہر نہیں ہے۔ شہریوں کی سیاسی محرومیوں میں کمی یقینی طور پر ان کی مالی خوشحالی کے استحکام میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اس امر کے واضح شواہد موجود ہیں کہ جمہوریت اور سیاسی حقوق کی موجودگی میں محروم اور پچھڑے ہوئے افراد اور گروہ اپنے مفاد کے لئے آواز اٹھا کر بہتر معاشی ضمانتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قحط صرف آمریتوں اور فوجی بالادستی رکھنے والے ممالک میں پیدا ہوتے ہیں کوئی جمہوری ملک خواہ وہ کیسا ہی غریب کیوں نہ ہو کبھی بڑے پیمانے پر قحط کا شکار نہیں ہوا۔

اس حقیقت سے صاف ظاہر ہے کہ سیاسی آزادی میں بنیادی طور پر شہریوں کے بہتر تحفظ کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ بھارتی جمہوریت میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں لیکن اس جمہوری نظام کے نتیجے میں ایسے مواقع ضرور پیدا ہوئے ہیں کہ 1947 ءمیں آزادی کے بعد سے بھارت میں وسیع پیمانے پر قحط کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بھارت میں قحط کا آخری بڑا واقعہ آزادی سے چار سال قبل 1943 ء میں پیش آیا تھا۔

اس کے برعکس چین کی مثال لیجیے۔ چین نے بہت سے شعبوں مثلاً بنیادی تعلیم کے فروغ اور علاج معالجے کی سہولتوں کی فراہمی میں بھارت سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود انسانی تاریخ کا بدترین قحط 1959 ء سے 1962 ء تک چین میں پیدا ہوا۔ اس قحط میں لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد تین کروڑ تک بتائی جاتی ہے۔ آج کل تین ممالک یعنی شمالی کوریا، ایتھوپیا اور سوڈان مسلسل قحط کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ تینوں ممالک آمرانہ فوجی حکومتوں کی گرفت میں ہیں۔

درحقیقت شہریوں کے تحفظ میں جمہوریت کا کردار محض اتنا ہی نہیں کہ جمہوریت قحط سے بچاؤ کی ضمانت مہیا کرتی ہے۔ کچھ سال قبل جنوبی کوریا اور انڈونیشیا کی معاشی حالت دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی تھی۔ روزافزوں اقتصادی ترقی کے نتیجے میں ہر شہری کو خوشحالی کی امید پیدا ہو چلی تھی۔ ان حالات میں شاید جنوبی کوریا اور انڈونیشیا کے غریب افراد اور گروہوں کو جمہوریت سے محرومی نے زیادہ پریشان نہ کیا ہو لیکن جب ان ممالک میں اقتصادی بحران آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اقتصادی ترقی کا محل ریت کے گھروندے کی طرح زمین بوس ہوا تو جن افراد اور گروہوں کے ذرائع معاش اس سیلاب کی نذر ہوئے اور جن کی زندگیاں راتوں رات مفلوک الحالی کا شکار ہوئیں انہیں سیاسی آزادی اور جمہوری حقوق سے محرومی کا صحیح اندازہ ہوا۔ آج جنوبی کوریا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں جمہوریت اور سیاسی آزادیوں نے مرکزی سوال کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔

اگرچہ جمہوریت بذات خود ایک گراں قدر اجتماعی ادارہ ہے جس کی موثر اقتصادی اہمیت ہو سکتا ہے کبھی کبھار ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہو۔ لیکن جمہوریت کی صحیح قدرو قیمت بحرا نی حالات میں سامنے آتی ہے جب اقتصادی طور پر محروم افراد کو اپنے معاشی مفادات کی آواز اٹھانے کے لئے جمہوری تحفظات کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایشیائی ممالک کے اقتصادی بحران سے اداراتی سطح پر سماجی تحفظ، جمہوری حقوق اور سیاسی اظہار کی اہمیت کا قیمتی سبق حاصل ہوا ہے۔ سیاسی محرومیاں اقتصادی بدحالی کو اور بھی گھمبیر کر دیتی ہیں۔

اب اس معاملے میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی مظاہر کے باہمیربط کا ایک اور پہلو دیکھئے، مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا ئی ممالک کے تجربات سے واضح شواہد ملے ہیں کہ سماجی محرومیاں دور کرنے سے معاشی ترقی کو مہمیز ملتی ہے اور معاشی ترقی کے ثمرات کی زیادہ منصفانہ تقسیم کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے۔ بھارت میں اقتصادی مسائل کی واحد وجہ یہ نہیں ہے کہ وہاں پر منڈی کے مواقع کو دبایا گیا بلکہ بھارت کی معاشی پسماندگی کی ایک وجہ سماجی محرومیوں مثلاً وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ناخواندگی کی طرف عدم توجہی بھی ہے۔ ہندوستان نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے پر خاصی توجہ دی اور آج اس کا نتیجہ کمپیوٹر کی صنعت کے بے پناہ فروغ کی صورت میں سامنے آرہا ہے لیکن دوسری طرف بھارت آدھی سے زیادہ آبادی کو ناخواندہ رکھنے کی قیمت بھی ادا کر رہا ہے۔ سماجی پسماندگی نے معاشی بدحالی کو تسلسل بخشا ہے۔

میں انسانیت کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہوں اور میری رجائیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ لوگ سماجی انصاف کی ضرورت کو اب بہتر طور پرسمجھ رہے ہیں۔ ایشیا، لاطینی امریکہ حتیٰ کہ افریقہ میں بھی جمہوریت کو جو دھچکے لگے تھے ان میں کسی حد تک سنبھالے کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک میں صنفی امتیاز اور بنیادی تعلیم پر پہلے سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے تاہم میری امید یں غیر مشروط نہیں ہیں۔ ہمیں بہرصورت غربت کی تعریف کو محض اقتصادی اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے زیادہ وسیع تناظر میں دیکھنا ہو گا تاکہ دنیا بھر کے غریب لوگوں کے لئے امید کی کرن پیدا کی جا سکے۔

(ترجمہ وجاہت مسعود)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امرتیا سین کی دیگر تحریریں
امرتیا سین کی دیگر تحریریں