جب حفیظ جالندھری کو سوئمنگ پول میں پھینکا گیا (ڈاکٹر ساجد نظامی سے معذرت کے ساتھ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واقعہ تو ہم بعد میں نقل کریں گے لیکن ڈاکٹر ساجد صدیق نظامی سے معذرت کی وجہیں پہلے بیان کرتے جائیں۔ پہلی تو یہ کہ نظامی صاحب ہماری سرکاری نوکری کے دوران ”واقع“ ہو جانے والے ان چند ہی خوشگوار احساسات میں سے ایک ہیں کہ جن کو گننے بیٹھا جائے تو شاید گنتی ایک ہاتھ کی انگلیوں تک پہنچنے ہی ہانپنے لگ جائے۔ بھئی یقین مانیے میں نے سرکاری نوکری کے تمام عرصہ میں ان جیسا متوازن شخص نہیں دیکھا۔ ادب، سیاست، معاشرت پر نہ صرف یہ کہ گہری نگاہ رکھتے ہیں بلکہ ان کا نکتہ نظر بھی ہمارے ہاں کے عمومی مزاج کے برعکس خاصا منطقی، مدلل اور باوزن ہوتا ہے۔

شائستگی تو ان کے ہاں اس قدر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کہ آپ ان کے کسی عمل حتٰی کہ کسی ردِعمل میں بھی کوئی جھول نہ ڈھونڈ پائیں، تو ایسے شائستہ شخص کے ممدوح کے متعلق کوئی واقعہ نقل کرنا چاہے وہ فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض کے خطوط میں سے ہی کیوں نہ لیا جا رہا ہو مجھے کسی حد تک بدتمیزی سا لگ رہا ہے۔ لیکن کیا ہے کہ ہماری شہرت پہلے ہی بدنامی کے زمرے میں زیادہ آتی ہے اس لیے بدتمیزی تو کروں گا ہی لیکن نظامی صاحب سے معذرت کر لینے کے بعد۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ کچھ عرصہ قبل نظامی صاحب ہمیں قطب الدین ایبک کے مزار کے عین سامنے بِکنے والا کوئی شیرمال اور کوئی خاص قسم کی روٹی کھلانے لے گئے تھے جو خاص اسی ”ایبک پکوان گھر“ یا کچھ ایسا ہی نام تھا کی پیشکش ہے۔ آرڈر کی تیاری کے دوران آپ نے تجویز دی کہ ایبک کے مزار کو دیکھ لیا جائے۔ مزار کے احاطے میں پہنچ کر نظامی صاحب کو قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری یاد آ گئے۔ اور انہوں نے غیر محسوس طریقے سے شاعرِ مذکور کے حالاتِ زندگی، فنی عظمت، شخصیت اور وغیرہ وغیرہ پر ایک خاصا علمی لیکچر بھی دیا۔

جس میں ایک بات یہ بھی شامل تھی کہ حفیظ جالندھری نے اپنا شاہنامہ اسلام اسی مزار کے پہلو میں بیٹھ کر لکھا/کہا تھا۔ سچی بات ہے کہ مجھے صرف وہی حفیظ جالندھری پسند ہیں جنہوں نے ”ابھی تو میں جوان ہوں“ لکھی ہو، یا وہ بھی شاید اس لیے کہ اس کو جیسے ملکہ پکھراج نے گایا ہے اس لیے پسند ہے ورنہ شاید وہ بھی نہ ہوتی۔ رہا قومی ترانے کا سوال تو یقین مانیے اس دھن پر کوئی بھی شاعری گا دی جاتی تو وہ اسی قدر خوبصورت اور حب الوطنی کے جذبے اجاگر کرنے والی ہوتی۔ اب جب کہ دھن تیار ہی پہلے ہو چکی تھی تو مجھے لگتا ہے کہ قومی ترانے کی خوبصورتی اس کی دھن ہے نہ کہ شاعری۔ لیکن چونکہ نظامی صاحب کو حفیظ جالندھری بطور شخص و شاعر بھی پسند ہیں تو ان سے معذرت۔

اب واقعے کی طرف آتے ہیں۔ یہ واقعہ فیض صاحب کی اہلیہ ایلس فیض نے فیض صاحب کے نام ایک خط میں اس وقت تحریر کیا تھا جب فیض احمد فیض مشہور راولپنڈی سازش کیس کے مقدمے کے سلسلے میں حیدرآباد جیل میں قید تھے۔ ایلس فیض اپنے پابندِ سلاسل شوہر کے ساتھ لگاتار خط کتابت کرتی رہیں۔ بعد ازاں یہ خط کتابی شکل میں شائع بھی ہوئے۔ اصل خطوط انگریزی زبان میں تھے۔ ان خطوط کا اردو زبان میں ترجمہ بھی ”ایلس بنام فیض“ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔

ان محبت سے لبریز بظاہر نہایت سادہ لیکن درحقیقت انسانی جذبات کے بھرپور عکاس یہ خطوط فیض صاحب اور ان کی اہلیہ کے خوبصورت تعلق کی ایک دستاویزی شہادت ہیں۔ ساتھ ساتھ مقتدر حلقوں کے لیے ہر دور کے ”غدار“ کے ساتھ جو رویے برتے جاتے ہیں ان کا بھی مکمل اظہار ہے کہ کیسے ایک شخص کو گرفتار ہونے سے قبل اپنی چھوٹی چھوٹی بچیوں کو چوم لینے کی خواہش بھی بوٹوں کی دھمک تلے دب جاتی ہے اور اس پر سینکڑوں میل دور مقدمہ چلایا جاتا ہے جہاں ملاقات کے لیے جانے کے لیے ہمت کے ساتھ ساتھ سفری اخراجات جمع کرنا بھی ایلس فیض کے لیے دودھ کی نہر نکالنے جتنا ہی مشکل ہوا کرتا تھا۔

خیر۔ ہم جو واقعہ نقل کرنا چاہ رہے ہیں یہ ایلس کے خط کے اردو ترجمے سے اقتباس ہے۔ خطوط کے اس مجموعے کا ترجمہ سید مظہر جمیل نے کیا ہے۔

ایلس لکھتی ہیں :

”حفیظ جالندھری کی کہانی جس کے بارے میں تم نے پوچھا ہے، میں سمجھتی ہوں اس کی سرسری افواہ ہی سہی، جیل میں تم لوگوں تک ضرور پہنچی ہو گی، کیونکہ اب یہ کہانی اچھی خاصی پرانی ہو گئی ہے، لیکن واقعہ ایسا دل چسپ ہے کہ بار بار دہرایا جاتا رہے گا۔ یہ کسی فاروقی کی شادی کا واقعہ ہے (جو شاید کوئی بریگیڈیئر، یا جنرل یا کچھ اور تھا اور آج کل جوائنٹ میڈیکل بورڈ کا ڈائریکٹر ہے ) شادی کے موقعے پر لوگوں نے حفیظ سے کوئی مثنوی سنانے کی فرمائش کر دی۔

بس پھر کیا تھا، اللہ دے اور بندہ لے۔ اس بھلے آدمی نے موقعے کی مناسبت سے کوئی ہلکی پھلکی چیز سنانے کے بجائے ایک خشک سی نظم سنانا شروع کر دی۔ تم خود جانتے ہو کہ اس میں خوش مزاجی نام کو نہیں ہے۔ سنا ہے اس نے جو نظم سنائی اس میں چند پندونصائح کی باتیں بھی کی گئی تھیں، جس میں سنسنی خیز انداز میں کسی شیطان صفت کردار کا حوالہ تھا جو گھوڑے پر سوار خون بہائے چلے جاتا تھا اور جس میں کنوار پن وغیرہ کا بھی ذکر موجود تھا۔

پہلے تو لوگوں نے اسے نظم ختم کرنے کو کہا، لیکن وہ بندہ خدا سنائے ہی چلا گیا۔ لوگوں نے خوب ہوٹنگ کی، لیکن اس کا بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ تب لوگوں نے اسے کپڑوں سمیت سوئمنگ پول میں دھکا دے دیا۔ اور آخر میں ایک اسٹیشن ویگن میں ڈال کر بھیگے کپڑوں کے ساتھ ہی موصوف کے گھر بھجوانا پڑا۔ اس کے بعد ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ حفیظ جالندھری پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ آئندہ کسی سماجی تقریب میں ایسی کوئی نظم نہیں سنائے گا جو پہلے سنسر نہ کی گئی ہو۔ ”

ساجد نظامی صاحب سے معذرت تو ہو ہی چکی آخر میں اپنے شاعر دوستوں کو اس واقعے پر غور کر کے عبرت پکڑنے کی دعوت دے کر اجازت چاہتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •