ہم کس طرف جا رہے ہیں؟

جمعہ 17 مئی 2019 کی شام افطار سے چند منٹ قبل سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی نظر آئی کہ پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کے صاحبزادے اسامہ کائرہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اظہارِ افسوس اور تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔موت ایک بے رحم حقیقت ہے اور اس کٹھور حقیقت کی بے رحمی میں اس وقت ناقابلِ برداشت حد تک اضافہ ہو جاتا ہے جب یہ ناگہانی طور پر وارد ہو اور پھر اس صورت میں کہ اس کا شکار زندگی سے بھرپور ایک نوعمر ہشاش بشاش جسم ہو جسے موت کے پنجوں میں جا کر لاشے میں تبدیل ہو جانے کے بعد بھی مرحوم لکھتے کلیجہ منہ کو آئے۔

Read more

میں رونا چاہتا ہوں

کوئی دس قبل میں نے امی کا خاکہ لکھا تھا جسے عدنان محسن نے گورنمنٹ کالج لاہور کے سالانہ مجلہ ”راوی“ میں شائع کیا تھا۔ اس خاکے کو لکھنے کا مقصد میں نے اس تحریر میں ہی بیان کیا تھا کہ اکثر لوگوں نے اپنی ماؤں کے متعلق تب لکھا جب وہ اس دنیا میں…

Read more

اٹھانے گرانے کا موسم

عدنان محسن نے اپنے ایک لازوال شعر میں کہا تھا
ہم ایسے لوگوں کی پہچان مجمع بازی ہے
ہم ایسے لوگوں کا نام و نسب تماشا ہے!

ایک لمحے کے لیے ٹھہریے، اب اس شعر کے پہلے مصرعے کو اور پھر دوسرے مصرعے کو ازسرِنو پڑھیے۔ دوبارہ پڑھ چکنے کے بعد موجودہ حکومت کے اوپر سے لے کر نیچے تک تمام ذمہ داران پر نظر دوڑائیے۔ نظر دوڑا لینے کے بعد اب آپ کو بھی ہماری طرح یہ شعر مکمل طور پر اس حکومت پر منطبق ہوتا ہوا محسوس ہو گا۔

قریب چار ماہ گزر چکنے کے بعد بھی نئی حکومت مجمع بازی سے بایر آ کے نہیں دے رہی۔ وجہ شاید یہی ہے کہ حکمران جماعت کے ”نسب“ میں ایک سو چھبیس دن کا دھرنا خود اسی جماعت کے ذمہ داران جلی حروف میں تحریر کرتے رہتے ہیں۔ ان ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ اس دھرنے کے نتیجے میں تحریکِ انصاف نے قوم اور بالخصوص نوجوانوں کو سیاسی شعور دیا تھا۔ اب خدا جانے یہ سیاسی شعور کے حامل نوجوان کس منطقے پر پائے جاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایک طائرانہ سی نگاہ بھی آپ کے سامنے اس نسل کے سیاسی شعور اور تربیت کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیتی ہے۔

Read more

نہر والی سڑک کا نام کیا ہے؟

عنوان سے آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کس نہر اور کس سڑک کے متعلق سوال ہو رہا ہے؟ اور یہ کہ اکثر نہروں اور ان پر بنے پلوں کے نام تو ذہن میں آتے ہیں، اور کچھ نہیں تو کم از کم وہ گیت ضرور یاد آ جاتا ہے جس میں کسی نہر کے پل پر بلا کر خورے ماہی خود کتھے رہ جایا کرتا ہے، لیکن نہر والی سڑک کا نام کسی نے دریافت نہیں کیا۔

اور ہے بھی یونہی، یا کم از کم ہماری معلومات کی حد تک یونہی ہے کہ لاہور کی مشہور زمانہ نہر، کہ جس سے ایک عالم کا رومانس وابستہ ہے اور جس کے متعلق کئی سستے شعر اور کئی اعلیٰ پائے کے نعرے ( نہر نئیں تے شہر نئیں ) اکثر ہی سننے کو مل جاتے ہیں، اور جس کے بارے میں کسی ستم ظریف نے جملہ کسا تھا کہ اگر لاہور میں نہر نہ ہوتی تو نجانے لوگ ایک دوسرے کو رستہ کیسے سمجھاتے کہ ہر دریافت کنندہ کو آخری تاکید یہی کی جاتی ہے کہ ”بس اوتھوں فیر نہر تے اگے سِدھے سِدھے“، اس نہر سے متصل دونوں سڑکوں کا کوئی نام نہیں ہے۔ ہم پھر دہرائے دیتے ہیں کہ ایسا فقط ہماری معلومات کی حد تک ہے۔

Read more

فن کار خاموش نہیں ہیں

چوتھا بین الاقوامی فیض فیسٹیول اختتام کو پہنچا۔ شہر میں اور سوشل میڈیا پر کئی مباحث چھوڑ گیا۔ اس کو کیسے منانا چاہیے تھا اور کیسے منایا گیا، فیض کو بیچا گیا، سستا بیچا گیا، فیض کو اصل وارثوں سے دور کر دیا گیا، اصل فیض میلہ تو وہ ہے جو اوپن ائیر تھیٹر میں…

Read more