وزیر، حجام، حکمران اور ملک کی ترقی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک حکمران کی کابینہ میٹنگ تھی جس میں ملک کے تمام وزراء اس کے سامنے بیٹھے اپنے اپنے کارہائے نمایاں بیان کر رہے تھے۔ حیرانی کی بات مگر یہ تھی کہ میٹنگ کے دوران ہی حکمران کے بال بنائے جارہے تھے۔ حکمران کے پیچھے حجام اور آگے وزراء ایک عجیب ماحول تھا۔ میٹنگ کا آغاز ایک وزیر کی باتوں سے ہوا جو اپنے محکمے سے منسلک اپنی کوششوں کا ذکر کرہا تھا۔ جیسے ہی اس نے بولنا شروع کیا خلاف توقع پیچھے سے حجام نے قہقہہ لگایا۔

حکمران وقت نے قہقہہ سنا لیکن توجہ نہیں دی۔ بات جب قابو سے باہر ہوگئی یعنی کہ حجام کے قہقہے جب اونچے ہونے لگے تو حکمران نے حجام کو آگے آنے کا کہا اور اس مذاق کی وجہ پوچھی۔ وہ پہلے تو ہچکچایا لیکن جب جان کی امان ملی توگویا ہوا۔ ”جناب عالی یہ وزیر جھوٹ بول کرآپ کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ اصل میں اس کی کارکردگی صفر ہے اوراس کا پتا مجھے میرے دکان پر آئے ہوئے گاہکوں کی مایوس کن باتوں سے چلتا ہے۔“ حکمران نے تحقیق کی تو اس کی بات سچی نکلی اور نتیجتہً مذکورہ حجام ہی کو اس محکمے کا وزیر بنادیا گیا۔

حجام جیسے ہی وزیر بنا تو برابر اپنے کام پر لگ گیا اور تھوڑے ہی عرصے بعد اس محکمے کو چار چاند لگ گئے۔ اس نے اپنے محکمے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ایک بہت ہی زبردست ٹیکنیک اپنائی۔ اس نے خود کو عام لوگوں سے رابطے میں رکھا اور خود بھی عام لوگوں کے بیچ ہی زندگی گزارنے لگا۔ اس ٹیکنیک کی وجہ سے تمام وزراء سے وہ چند ہی دنوں میں آگے نکل گیا۔ کچھ سال تو بات یوں ہی چلتی رہی لیکن پھر ایک وقت آیا جب وہ عام لوگوں سے کٹ گیا اور اپنے گاؤں اور دوستوں سے دور مملکت کے دارالحکومت میں ایک عالیشان بنگلے میں قیام پزیر ہوا۔ اب کیا تھا وزیر پروٹوکول میں گھرا ہر وقت غیر ضروری کاموں میں مصروف ہوا۔ اس کے دن رات بدل گئے۔ بیوی بچوں کا لائف سٹائل بدل گیا۔ چاروں طرف خوشامدی لوگوں کا ٹولہ اس کو الجھانے لگا اور ایک دن آیا جب وہ مکمل ہی اپنے حقیقی ذمہ داریوں سے دور ہوگیا۔

اب کیا تھا مذکورہ محکمہ تباہی کی راہ پر گامزن ہوا اور ایک دن حکمران نے دوبارہ کابینہ کی میٹنگ طلب کی۔ اتفاقاً اس دن بھی ایک اور حجام موجود تھا اور اس نئے وزیر اور پرانے حجام کی کارکردگی پر بالکل اسی طرح ہنسا جس طرح ایک وقت میں یہ ہنسا تھا۔ حکمران نے اس حجام کو بھی آگے کھڑا کیا اور پوچھا کہ کیوں وہ اس گستاخی کا مرتکب ہوا۔ اس نے جان کی امان چاہی اور حکمران کو مخاطب کرکے کہنے لگا۔ ”میں جان کی امان نہیں چاہتا بس آپ وعدہ کیجیئے کہ مجھے بھی وزیر نہیں بنائیں گے۔“ حکمران نے وعدہ کیا اور اس نئے حجام نے بات شروع کی۔

”آپ اگر حقیقت میں یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا ملک ترقی کرے اور آپ کے وزراء کام تو آپ تین بنیادی کاموں پر توجہ دیجیئے۔ پہلا، آپ ان وزراء سے ان کے تمام مراعات چھین کر ان کی زندگی بالکل رعایا کی طرح عام بنادیجیئے۔ ان کا لائف سٹائل بالکل آپ کے مملکت کے عام لوگوں کی طرح ہونا چاہیے۔

”دوسرا، آپ ان لوگوں کو سمجھا دیجیئے کہ ان ہی کی وجہ سے ملک ترقی کرے گا اگر یہ لوگ کام کریں گے تو سب کچھ ٹھیک رہے گا اور اگر یہ کام نہیں کریں گے تو ملک دیوالیہ بھی ہوگا، عوام میں بے چینی بھی ہوگی اور دشمن آپ کے سرحدوں پر دستک بھی دیتا رہے گا۔ ان کا بھرپور احتساب شروع کیجیئے اور جب بھی آپ کو لگے کہ یہ کام نہیں کر رہے ان کو سزا دیں اور ان کی جگہ لائق لوگوں کو آگے کیجیئے۔

”تیسرا، آپ ان لوگوں کو عام لوگوں کے بیچ زندگی گزارنے پر آمادہ کیجیئے۔ یہ جب عام لوگوں کے بیچ رہیں گے تو یہ حقیقت میں کام کریں گے۔ آپ دیکھیے نا جب تک آپ کا یہ نیا وزیر (پرانا حجام ) عام لوگوں کے درمیان رہا اس کے محکمے کی کارگردگی اچھی رہی لیکن جب یہ خاندان سمیت دارالحکومت شفٹ ہوگیا اورعام لوگوں سے دور رہنے لگا تو اس کا اور اس کے محکمے کا زوال شروع ہوا۔“

وزیراعظم عمران خان کے بارے میں ہزار چہ میگوئیاں جاری ہیں ایک تو ملک کے اندرونی حالات خراب ہیں۔ مہنگائی، کرپشن، عدم تحفظ اور سب سے اہم عام لوگوں کا حکومت سے اعتماد کا اٹھ جانا ان چیزوں نے پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے بہت مشکلات پیدا کی ہیں۔ اپوزیشن والے بھی اکتوبر میں کایا پلٹنے کی بات کر رہے ہیں اور بیرونی خطرات بھی سر پر منڈلا رہے ہیں۔ خان صاحب کے بارے میں جو سب سے ضروری بات آج کل کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے وزراء کی کارکردگی کو لے کر تناؤ کا شکار ہیں۔

خان صاحب آپ ایک بات ضرور پلے باندھ لیں۔ بیرونی خطرات کا مقابلہ پوری قوم مل کر کرے گی اور دشمن نے اگر ایسی کوئی غلطی کی تو اس کے لئے آپ کو کوئی ذمہ دار نہیں ٹھہرائے گا لیکن اندرونی طور پر کچھ اگر برا ہورہا ہے تو اس کے لئے لازمی طور پر آپ ہی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ آپ کام پر لگ جائیے کیونکہ اب بھی وقت ہے۔ آپ اپنے وزراء کو کام پر لگا دیجیئے۔ ان کو شارٹ اور لانگ ٹرم گولز دیجیئے کیونکہ منظرنامے سے تو یہی لگ رہا ہے کہ یہ لوگ کام نہیں کر رہے۔

آپ یقین کیجیئے جس دن ان وزراء نے آپ کا وہ والا جنون پلے باندھا جو الیکشن سے پہلے دیکھنے کو ملا تھا تو کوئی شک نہیں رہے گا کہ اندرونی طور پر ہم ایک قوم بن کر ابھریں گے۔ آپ یقین کیجیئے جس دن کابینہ کی میٹنگ پورے بارہ گھنٹے بغیر رکے چلی اسی دن سے آپ کی حکومت نظر آنے لگی گی اور جس دن آپ کے وزراء کام پر لگ گئے کوئی بھی اپوزیشن کے مچائے ہوئے واویلوں پر کان نہیں دھرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •