طالبان کی راہ میں ایک اور ”مسعود“ حائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے معاہدہ تقریباً طے پاچکا ہے، صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس پر دستخط ہونا باقی ہیں۔ (جس وقت یہ مضمون لکھا گیا تھا، اس وقت تک امریکی صدر کی جانب سے افغان امن مذاکرات ختم کرنے کا اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔ ایڈیٹر) اس معاہدے کو لے کر کابل انتظامیہ میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی اور ان کے ہم خیال افراد افغانستان کا سرکاری نام تبدیل کرکے ”اسلامی امارت افغانستان“ رکھنے کی شق کو افغانستان کے موجودہ آئین سے متصادم اور طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتے ہیں جبکہ ان کو یہ بھی شکوہ ہے کہ معاہدہ طے پانے تک نہ افغان قیادت کو مذاکرات میں شامل کیا گیا اور نہ ہی افغان قیادت کی رائے مقدم رکھی گئی۔

گزشتہ دنوں افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی سمیع یوسفزئی نے ٹویٹر پر بتایا کہ ”امریکا نے اشرف غنی کو واضح انداز میں کہا ہے کہ طالبان امریکا کے ساتھ اس انداز میں مذاکرات کر رہے ہیں جیسے سپر پاور وہ ہیں اور امریکا طالبان۔“ سمیع یوسفزئی کے مطابق امریکا نے اشرف غنی کو طالبان کے شرائط ماننے اور اپنی ضد چھوڑنے کی تنبیہہ کی ہے۔ خبروں میں یہ بھی آیا تھا کہ کابل میں اشرف غنی اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات کے دوران دونوں کو اونچی آواز میں ایک دوسرے سے بحث کرتے ہوئے سنا گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اشرف غنی اس ڈیل پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے وائٹ ہاؤس سے ملاقات کا وقت بھی مانگا ہے۔ یہ ملاقات کب ہوگی اور کیا صدر ٹرمپ اشرف غنی سے ملاقات کریں گے یہ ابھی واضح نہیں ہے تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اشرف غنی امریکا جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب طالبان کی کابل میں انٹری سے پہلے ہی ان کے خلاف ایک مضبوط اتحاد جنم لے رہا ہے جس کی قیادت کوئی اور نہیں، خود ان کے سابق حریف اول اور ناقابل شکست افغان جنگجو کمانڈر، احمد شاہ مسعود کے فرزند احمد مسعود کر رہے ہیں۔ 9 ستمبر2001 کو جب نائن الیون سے صرف 2 دن پہلے وادی پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کو ایک خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا تو اس وقت احمد مسعود کی عمر صرف 12 برس تھی۔ ابتدائی تعلیم ایران سے مکمل کرنے کے بعد وہ 2012 تک برطانوی ملٹری اسکول، رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ میں زیر تعلیم رہے جس کے بعد کنگز کالج لندن سے جنگی امور پر گریجویشن کیا جبکہ 2016 میں سٹی یونیورسٹی لندن سے انٹرنیشنل پولیٹکس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ تب سے وہ احمد شاہ مسعود فاؤنڈیشن کے سی ای او کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔

جس وقت امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پانے کی خبریں آرہی تھیں ٹھیک اسی وقت احمد مسعود نے اے ایف پی کو ایک دھواں دار انٹرویو دے کر افغان سیاست میں اپنی آمد کا بگل بجا دیا۔ انٹرویو میں احمد مسعود کا کہناتھا کہ ”وہ دعاگو ہیں کہ افغانستان میں دوبارہ کوئی خونریزی نہ ہو، اللہ نہ کرے اگر ایسا ہوا تو صرف وہ نہیں، لاکھوں افغان نوجوان ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔“

احمد مسعود کو لگتا ہے کہ امریکا افغانستان سے نکلنے میں جلد بازی سے کام لے رہا ہے اور اس جلد بازی کی وجہ سے افغان قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر طالبان کو حد سے زیادہ رعایت دی جارہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مجوزہ امن معاہدے میں افغانوں کا کہیں وجود نہیں ہے، یہ صرف خطے کی طاقتوں کی رضامندی سے امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے۔ احمد مسعود کو ڈر ہے کہ اچانک امریکی افواج کے انخلاء سے افغان فورسز طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوسکتی ہیں جس کے بعد افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی سے دوچار ہوسکتا ہے۔

احمد مسعود نے اس انٹرویو کے صرف ایک ہفتے بعد 5 ستمبر کو پنجشیر وادی میں اپنے والد احمد شاہ مسعود کے مزار پر ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے باقاعدہ سیاسی کیرئیر کا آغاز کردیا۔ اس موقع پر سویت یونین اور بعد میں طالبان کے خلاف احمد شاہ مسعود کے شانہ بشانہ لڑنے والے سابق مجاہدین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے احمد مسعود کو کمانڈر احمد شاہ مسعود کا جانشین مقرر کرتے ہوئے ہر حال میں ان کا ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سابق نائب صدر یونس قانونی بھی موجود تھے جو نہ صرف سویت یونین بلکہ طالبان کے خلاف لڑائی میں بھی احمد شاہ مسعود کے انتہائی قریبی اتحادی رہے ہیں۔

ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے احمد مسعود کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے افغانستان کی خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ احمد مسعود نے امریکا طالبان امن معاہدے کی مشروط حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے میں افغان قیادت اور عوام کی رائے کو نمائندگی نہ دی گئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔

افغانستان میں مرکزی قیادت کے نہ ہونے اور امریکی حمایت یافتہ صدور اور ذیلی قیادت کی ناکامی کے بعد ایسا لگتا تھا کہ امریکی افواج کے نکلتے ہی طالبان دوبارہ ایسے ہی کابل میں داخل ہوں گے جیسے وہ 1996 میں بلا مقابلہ افغان دارالحکومت میں داخل ہوئے تھے لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔ احمد مسعود نہ صرف شکل و صورت میں اپنے مرحوم والد کے ہوبہو نقش ہیں بلکہ اپنے ملک کے لیے لڑنے کا جوش و جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ غیر پختون افغان جو احمد شاہ مسعود کے بعد مرکزی قیادت سے محروم ہوگئے تھے، ان کے بیٹے کی صورت میں ایک اور ”پنجشیر کے شیر“ کو دیکھ رہے ہیں جو امریکی انخلاء کے بعد طالبان کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ طالبان سیاسی قوت کے طور پر کابل میں داخل ہونا چاہیں تو بجا، اگر عسکری راستہ اختیار کیا گیا تو یہ نوجوان طالبان کے لیے اپنے والد سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

مضمون نگار بین الاقوامی سیاست کے طالب علم ہیں اور ایک قومی ٹی وی چینل سے بطور ہیڈ آف انٹرنیشنل ڈیسک منسلک ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •