کشمیر بنے گا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے موجودہ حالات پر نظر دوڑائیں تو کسی طرف سے مثبت خبر سننے کو نہیں ملتی۔ ہر طرف ایک ہی آواز ہے کشمیر بنے گا پاکستان۔ مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے، ڈالر اور سونے کی قیمتیں پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔ معیشت آخری سانسوں پر ہے۔ سیاسی عدم استحکام عروج پر ہے۔ اپوزیشن مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں حکومت کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے لگی ہے۔ حکومت کی نا اہلیوں پریہ کہا جا رہا ہے کہ مقتدر حلقے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ڈیل کرنے کی راہ نکال رہے ہیں۔

مقبوضہ وادی میں ظلم کی انتہا ہو چکی ہے جہاں کرفیو کو 35 واں روز ہو چکا، لوگوں کے رابطے، کھانے پینے کی اشیا اورادویات کی قلت کا مقامی افراد کو سامنا ہے۔ مسلسل جبری پابندیوں کے بعدمقبوضہ کشمیر آتش فشاں بن چکا ہے۔ لوگوں کی نظریں حکومت کی اس پالیسی یا اقدام کی تلاش میں ہے جس کی بدولت کشمیر سمیت تمام حساس ایشوز کا خاتمہ ہو سکے مگر آواز آتی ہے، کشمیر بنے گا پاکستان۔

ہندو انتہا پسند مودی اکھنڈ بھارت کے خواب کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مقبوضہ و متنازعہ کشمیر سمیت پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، نیپال اور بھوٹان کو بھار ت میں شامل کر کے گریٹر انڈیا بنانا چاہتا ہے۔ لہذا موجودہ کشمیر ایشو پاکستان کے ساتھ ساتھ ساوتھ ایشیا میں ہندو انتہا پسند ی کے خلاف پورے خطے کے ممالک میں اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے۔ مودی کی اس ناپاک حرکت کی وجہ سے دونوں ایٹمی قوت کے ممالک میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ہماری خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اب تک کسی ایک ملک کا دور تک نہیں کیا کیونکہ نئے پاکستان میں بچت اور سادگی سے کام لیتے ہوئے دوسرے ممالک سے صرف فون پر رابطے کو کافی سمجھا جا رہا ہے۔ اتنے حساس ماحول میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خبریں سن کر لگتا ہے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کسی خاص مقصد کے حصو ل کی خاطر پاکستان پر مذکورہ تمام پریشانیوں کو بڑی خوبی سے استعمال کر رہی ہے، لیکن ہم نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان۔

ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق ”مودی کشمیر میں ویسی ہی جغرافیائی تبدیلیاں لانا چاہتا ہے جیسی تبدیلیاں اسرائیل فلسطین میں لا چکا ہے اور پاکستان کشمیر میں ویسی ہی انتفادہ طرز کی تحریک چاہتا ہے جیسی تحریک فلسطینیوں نے اسرائیلیوں کے خلاف فدائی حملے کر کے شروع کی تھی۔ پاکستان اس وقت جن حالات میں گھرا ہوا ہے اس وقت حکومت کو انقلابی پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ سب سے پہلے موجود سیاسی عدم استحکام کو دور کر نا ہو گا۔ مگر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ عمران خان اپنے کسی ایک قول پر کھڑے ہوتے نظر نہیں آتے اور یو ٹرن کو اپنی سب سے بڑی سیاسی طاقت سمجھ کر ہر موقعے پر فخر سے استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں اور نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان۔

قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم اپنے کہے پر پہاڑ کی طرح ڈٹ جاتے۔ انہوں نے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کی امریکی کوشش پر کہاتھا ”یہ نہایت ہی بے ایمانی کا فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے“ اور عربوں کو کہا ”اپنے حقوق کے لیے ڈٹ جائیں اورخبردار ایک یہودی کو بھی فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں، اگر تقسیم فلسطین کا منصوبہ مسترد نہیں کیا گیا تو ایک خوفناک ترین چپقلش کا شروع ہو جانا ناگزیر ہے۔ تب پاکستان کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوگا کہ عربوں کی مکمل اور غیرمشروط حمایت کرے“۔

یہ حمایت صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ پہلی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان نے چیکوسلاواکیہ سے بڑی تعداد میں رائفلیں خرید کر عربوں کو دیں اور تین جنگی جہاز اٹلی سے خرید کر مصر کے حوالے کیے تاکہ وہ اسرائیل سے اپنا دفاع کر سکیں۔ آج ہمارے حکمران قائد کے افکار کے بالکل برعکس چلتے ہوئے عرب ممالک کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں اور نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان۔

فلسطین پر اسرائیل کے جابرانہ قبضے پر ہم قائد اعظم کے موقف کو فخر سے بیان کر تے ہیں مگر افسوس آج کشمیرپر مودی کے قبضے پر رہنمایہ کہتے ہیں کہ ”کیا میں بھارت سے جنگ کر لوں“۔ پھر کہا جاتا ہے کہ ہم مودی کی اینٹ کا جواب پتھر سے دئیں گے۔ اگر عمران خان سمجھ رہے ہیں کہ اقوام متحد ہ، او آئی سی یا کوئی اور تنظیم انہیں مودی کو پتھر مارنے کے لئے مہیا کریں گی تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ ہمیں اپنے دشمنوں کو اپنے ہی زور بازو سے زیر کرنا ہو گا۔

اس موقعے پر جنگ سے زیادہ مذاکر ات کی ضرورت ہے۔ انصاف کے عالمی دعویداروں نے ہمیشہ انصاف کے نام پر کشمیریوں، فلسطینیوں اور روہنگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی اور تباہی کے منصوبوں کا ساتھ دیا۔ کشمیریوں نے آزادی کے لیے لاکھوں جانبازوں کی قربانی دی مگر عالمی قوتوں کی منافقت کے باعث آزادی کی یہ جنگ ظلم جبر اور تشدد کا نہ صرف سبب بنی بلکہ جنت نظیر وادی ایک فوجی کیمپ اور دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے امت مسلمہ کے مسائل آج تک حل نہیں کیے گئے پھر بھی ہمارے وزیر اعظم اقوام متحدہ میں خطاب کے لئے بے چین ہیں، اور نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان۔

اگر اسکاٹ لینڈ کے عوام کوریفرنڈم کاحق مل سکتا ہے، انڈونیشیا سے عیسائی آبادی پر مشتمل مشرقی تیمور کو آزاد مملکت قرار دلوایاجاسکتا ہے، یوگنڈا میں جنوبی سوڈان کی آزادی کا انتظام کیا جاسکتا ہے، یوکرین میں روسی فوج کو چند ہفتوں میں داخل کرایاجاسکتا ہے، تو پھر کشمیریوں کو حق خود ارادیت کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا قصور صرف اور صرف مسلمان ہونا ہے۔ انڈیا ہو یا پاکستان دونوں ملکوں کے سیاسی رہنما ہمیشہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے کشمیر کی بات تو کرتے ہیں۔

کشمیر کے حوالے سے جذباتی باتیں کر کے عوامی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ مظلوموں کا دکھ بانٹنے کی بجائے بعض دفعہ ہمارے وزراء ایک ماہر کامیڈین کی طرح جنگی حکمت عملی کا اعلان میڈیا پر کرتے ہوئے اپنے عظیم ہتھیار ایٹم بم کا مذاق اس طرح اڑاتے ہیں کہ ہم انڈیا پر آدھا پاؤ اور پاؤ کے ایٹم بم مارئیں گے۔ ایک طرف مسخرے پن کی انتہا اور دوسری طرف نعرہ کشمیر بنے گا پاکستان۔

اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں خبر عام ہے کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت کو بڑے عاجزانہ طور پر درخواست کی ہے کہ وہ کشمیر کو امت مسلمہ کا مسئلہ بنانے کی کوشش نہ کرے۔ اگر یہ خبر سچ ہے تو پھر او آئی سی کے وجود پر سوالات اٹھتے ہیں۔ فلسطینی جو عرصہ دراز سے اسرائیل جیسے طاقتور ملک کی فوج سے نہتے لڑ لڑ کے شہید ہو رہے ہیں، کیا فلسطین کو بھی مسلم امہ کا مسئلہ نہ سمجھا جائے۔ پھر تو 41 ملکی اسلامی فوجی اتحاد کا مقصد بھی فوت ہو جاتا ہے۔

جب مقتدر حلقوں سے پاکستان کے ان مسائل پر سوال کریں تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہائبریڈ وار اور فیفتھ جنریشن وار کا ہم پر بھرپور حملہ ہے لہذا ہمیں متحد رہنا چاہیے۔ اگر ہائبریڈ وار اور فیفتھ جنریشن وار اتنا ہی مہلک ہتھیار ہے تو اس کے استعما ل کیے بغیر ہم کیسے نعرہ لگا سکتے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان۔

وزیر اعظم عمران خان کا حکم ہے کہ جب تک وہ اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب نہیں کر لیتے ہر جمعہ کو آدھا گھنٹہ کشمیر آور منایا جائے گا۔ اس طرح ساری دنیا میں پاکستان کا کشمیریوں سے یکجہتی کا پیغام چلا جائے گا۔ اگر احتجاجی نعروں، دھواں دھار تقریروں اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے انسانی زنجیر بنا کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی سے کشمیر آزاد ہونا ہوتا تو 1990 سے پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر باقاعدہ منایا جا رہا ہے۔ ہماری ناقص خارجہ پالیسی سے مودی کشمیریوں پر ظلم ڈھانا بند کرتا ہے یا نہیں اس کے لئے اقوام متحدہ کے خطاب کے بعد سوچیں گے پہلے نعرہ لگا لیں کشمیر بنے گا پاکستان۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •