آہ بہت اچھا انسان تھا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بچپن سے ہی بہت زیرک اور ذہین تھا اور اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس کی عمر سے بہت زیادہ تھی۔ وہ تقسیم ہند سے پہلے وہ اپنے والد کی گود میں سوار جب بازار جایا کرتا تھا تو ایک ہندو بنئے حلوائی کے مسلمانوں سے برتنے والے تعصب کو بہت غور سے دیکھا کرتا تھا۔

وہ ہندو حلوائی ذات پات کا شکار تھا اور مسلمانوں کو بہت کمتر اور نچلی زاعت کا انسان سمجھتا تھا۔ اور اپنی دکان میں آئے مسلمان گاہکوں سے نسلی تعصب برتتا تھا

اگر اتفاق سے کسی مسلمان کا ہاتھ اس کی کسی بھی چیز پر پڑ جاتا تو وہ اس اشیاء کو نکال کر باہر رکھ دیتا تھا۔

تو اس کے ننھے ذہن میں اس ہندو بنیے کے معتصابانہ سلوک سے اس قدر نفرت بیٹھ چکی تھی کہ جب وہ اپنے والد کے ساتھ اس حلوائی کی دکان پر جایا کرتا تھا تو وہ ہاتھ کے اشارے سے بتاتا کہ مجھے وہ لڈو چاہیے اور جب وہ ہندو بنیہ لڈو تھماتا تو وہ اس کو ہاتھ میں لے کر واپس کردیتا اور قلاقند کی طرف اشارہ کرتا اور وہ ہندو بنیہ اس لڈو کو اٹھاکر دوسری طرف رکھ دیتا اور قلاقند تھما دیتا مگر وہ پھر قلاقند ہاتھ میں تھام کر دیکھتا اور واپس کرتے ہوئے برفی کی کی طرف اشارہ کرتا اور پھر اس طرح ایک کہ بعد ایک مٹھائی وہ ہندو بنیہ دوسری طرف رکھ دیتا۔

اس بچے کا ننھا ذہن اس ہندو بنیے کے نقصان پر پر شاداں ہوتا اور اس کو اپنے اس عمل سے ذہنی تسکین ملتی۔

ابتدا سے ہی اس کا ننھا ذہن اپنے ارد گرد ہونے والی کسی قسم کی نا انصافی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا تھا اور اپنی طاقت کے حساب سے ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔

تقسیم ہند کہ بعد 1947 میں وہ بچہ اپنے والدین کے ساتھ بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آجاتا ہے۔ اور اپنے تعلیمی سفر کا آغاز جہانگیر روڈ کراچی کے ویلجی بھائی اللہ رکھا اسکول سے کرتا ہے۔ اسکول میں ابتدا سے ہی اس کے اساتذہ اس کی ذہانت سے متاثر نظر آتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ یہ بچہ آگے چل کر ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے اپنے والدین کا نام روشن کرے گا۔

پٹیل پاڑہ کراچی کا رہائشی یہ بچہ جس کے والدین نہ ہی جاگیردار تھے نہ ہی سرمایہ دار بلکہ وہ ایک غریب محنت کش کا بیٹا تھا جو سارا دن محنت مزدوری کرکے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت بھی بہت موثر انداز میں کررہا تھا۔

وہ بچہ بنیادی آسائشوں سے محروم تھا شام کو کسی پارک یا چوراہے پر لگی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے بیٹھ کر پڑھائی کیا کرتا۔ اور گھنٹوں اس ہی طرح بیٹھا رہتا۔

اسکول کے دنوں سے ہی اس کے ہاتھ کی ننھی انگلیوں نے قلم سے دوستی کرلی اور وہ بچوں کی کہانیاں لکھا کرتا جس کو لکھنے کہ بعد وہ اپنے اساتذہ کو دکھایا کرتا اور جواب میں اس کو بھرپور حوصلہ افزائی اور پزیرائی ملتی

شاید یہ ہی وجہ تھی کہ اس کے اساتذہ نے اس کے بہترین مستقبیل کی پیشن گوئی ابتدا میں ہی کردی تھی۔

اسکول سے فراغت کہ بعد اعلی تعلیم کے لئے وہ اردو کالج کراچی میں داخل ہوتا ہے۔ اور یہاں سے اس کا ایک نیا سفر شروع ہوتا ہے۔ اسکول کے زمانے میں بچوں کے لئے کہانیاں لکھنے والے نوجوان اب اپنا ادبی سفر شروع کرتا ہے اور اردو کالج سے نکلنے والے ادبی رسائل میں افسانے لکھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کے تحریر کردہ افسانوں میں بھی معاشرے کے اندر ہونے والی نا انصافیوں کی شبیہ نظر آتی ہے۔ اور اس کا قلم ان نا انصافیوں کے خلاف علم بغاوت کرتا نظر آتا ہے۔

اس دوران اس کے قلم کی لکھائی میں اس قدر نکھار آجاتا ہے کہ اس کے افسانے اس وقت کے مشہور ادبی رسائل ”نقوش“ سیپ، اور افکار میں چھپنے لگتے ہیں۔ جس میں لکھنا کسی عام لکھاری کے بس کی بات نہیں تھا۔

اردو کالج میں اس نے این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے سامراج کی تیسری دنیا کی ریشہ روانیوں کے خلاف طویل جدوجہد کری۔ اور ملک کے مظلوم کچلے ہوئے طبقے کے حقوق کے لئے آواز بلند فرمائی۔

اس دوران اس کے صحافتی کیئریر کا آغاز ہوتا ہے اور وہ ملک کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ انجام سے وابستہ ہوجاتا ہے۔ جہاں ابراہیم جلیس جیسے بڑی ہستیوں کے بیچ وہ اپنا صحافتی کیئریر شروع کرتا ہے۔

ابتدا میں وہ اپنے صحافتی کیئریر کا آغاز میگزین انچارچ اور فلمی رپورٹینگ سے کرتا ہے۔ اس دوران اس نے فلموں کی ایک دو کہانیاں بھی لکھیں۔ ایسٹرن اسٹوڈیو میں اس کی بیٹھک لگنے لگی اور فلم اسٹار ندیم، وحید مراد، طاہر علی خان، شباب کیرانوی۔ سنگیتا، کویتا، شمیم آراء سہیل رانا مسعود اختر اور طارق عزیز جیسے کئی ستارے اس کی شخصیت سے متاثر ہوکر اس کے گہرے دوست بن گئے۔

یہاں بھی اس نے بنا کسی مفاد کے اپنے دوستوں کو نوازا اور اپنے تعلقات اور دیرینہ مراسم کی بناہ پر ایسٹرن اسٹوڈیو کے مالک سعید ہارون سے سفارش کرکے فلم انڈسٹری کو کئی کہانی نویس و درخشندہ فلمی ستارے دیے جو آج کامیابی کی سربلندیوں پر بیٹھے ہیں۔

1960 کی دہائی میں روزنامہ انجام کے بند ہونے کہ بعد کراچی سے روزنامہ مشرق کی اشاعت کا آغاز ہوا تو انجام کی پوری ٹیم جو سینئر ترین صحافیوں پر مشتمل تھی وہ روزنامہ مشرق میں ضم ہوجاتی ہے۔

اس طرح روزنامہ مشرق کچھ ہی وقت میں پاکستان کا نمبر ایک روزنامہ بن جاتا ہے۔ مشرق سے وابستہ ہونے کہ بعد وہ میگزین انچارچ مقرر یوجاتا ہے اور مشرق کے علاوہ ہفت روزہ اخبار خواتین جو مشرق کا ہی حصہ تھا اس میں اہنی توانائیاں سرف کرتا ہے۔

اپنی قابلیت کی بناہ پر وہ روزنامہ مشرق کراچی کا چیف رپورٹر بن جاتا ہے اور پھر آخر تک وہ باحیثیت چیف رپورٹر روزنامہ مشرق کراچی سے وابستہ رہتا ہے۔

اس دوران وہ پاکستان یونین آف جرنلٹس، کراچی یونین آف جرنلٹس اور کراچی پریس کلب کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کے حقوق اور ان کی آزادی کے لئے بھی جدوجہد کرتا رہا۔

وہ ہر آنے جانے والی حکومتوں کو اپنے قلم کی نوک سے اچھالتا رہا۔ یہاں ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں 80 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک خاتون رکن کے گھر پولیس نے غیر قانونی چھاپہ مار کر ان خاتون کو نہ صرف ہراساں کیا بلکہ گرفتار بھی کرکے اپنے ساتھ لے گئی

اگلے ہی دن جنرل ضیاء کراچی کے دورے پر آتے ہیں تو وہ پریس کانفرنس میں اپنی نشست سے کھڑے ہوکر اپنا تعارف کرواتا یے اور کہتا ہے۔

مسٹر پیریزڈینٹ میرا نام نسیم شاد یے اور میرا تعلق روزنامہ مشرق سے ہے۔ آپ ملک میں اسلامی نظام اور نظام مصطفی کا دعوی کرتے ہیں مگر آپ کے دور حکومت میں ایک اکیلی خاتون کے گھر رات گئے بنا لیڈی کانسٹیبیل پولیس آتی ہے اس کو ہراساں کرتی ہے اور بنا وارنٹ اس کو گرفتار کر کے لے جاتی ہے۔ کیا یہ ہی وہ اسلامی نفاذ ہے جس کے آپ دعویدار ہیں۔

اگلے دن جنرل ضیاء کے احکامات پر انکوائری کمیشن بیٹھ جاتا ہے اور پولیس افسران کو معطل کردیا جاتا ہے جو اس غیر قانونی چھاپے میں ملوث تھے۔ اور خاتون کی رہائی ہوجاتی ہے۔

قارئین اب آپ جان ہی چکے ہوں گے یہاں ذکر ہورہا تھا سینئر صحافی نسیم شاد کا جو میرے والد محترم بھی تھے۔ درحقیقت وہ ایک ملنسار، خوش اخلاق اور بڑے دل والی ہستی تھے۔

ان کی شخصیت نہ صرف بطور ہمارے والد دوستانہ تھی بلکہ اپنے حلقہ احباب میں بھی انھوں نے صرف محبتیں ہی بکھیری ہیں۔ ہم نے بچپن سے دیکھا رات تین بجے بھی کوئی پریشان حال ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا تو وہ نیند سے اٹھ کر اس کی مدد کے لئے گھر سے نکل جایا کرتے تھے۔ اور صبح سویرے ہمارے ڈرائینگ روم میں ان سے ملنے والوں کا ایک ہجوم لگا ہوتا تھا۔

کسی دوست یا محلے دار کے بچے کا کالج میں داخلے کا معاملہ ہو یا کسی کے روزگار کا معاملہ ہو وہ ہمیشہ سب سے پہلے ان کے پاس ہی آیا کرتا تھا۔ ایسا سب کرتے ہم نے کبھی ان کے ماتھے پر ایک شکن تک نہیں دیکھی۔

انھوں نے ہمیں ہمیشہ تاکید کی کہ کبھی کسی کے برے عمل کا بھی برا نہ مناؤ اور اس کے خلاف کبھی زہر نہ اگلو کیونکہ ہوسکتا ہے اس نے جان بوجھ کر تمھارے ساتھ غلط نہ کیا ہو اور وہ اپنی جگہ صحیح ہو اس لئے ہمیشہ تصویر کے دونوں رخ دیکھا کرو۔

ان کے دوستوں کی ایک لمبی قطار تھی کیونکہ وہ دوست بنانا جانتے تھے اور اپنے دوستوں سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے۔ یوں تو صحافتی حلقوں میں ان کے کئی بہترین دوست تھے جن کا ذکر وہ ہم سے کیا کرتے تھے۔ مگر ہم نے جب کبھی ان سے ان کے بہترین دوست کا نام پوچھا تو ان کی زبان پر سب سے پہلے ایک ہی نام آتا تھا وہ نام تھا سینئر صحافی و ادیب جناب احفاظ الرحمن کا جن کو وہ اپنا دیرینہ دوست مانتے تھے۔ وہ نہ صرف ان کے بہترین دوست بلکہ بہنوئی بھی تھے۔

اس کے علاوہ صحافتی و ادبی حلقوں میں بھی ان کہ شخصیت اور ہر دلعزیزی بہت مقبول تھی۔ مشرق میں ان کئی قریبی ساتھیوں میں ولی رضوی، نعیم آروی، حسن عابدی، شین فرخ، حمیرا اطہر، شمیم اختر، علی اختر رضوی، علی حمزہ خان، ارشاد احمد خان اور مشتاق سہیل یوسف خان، نذیر خان اور ایس ایم نقی آفاق فاروقی وغیرہ شامل تھے۔ جن کے ساتھ روزانہ ان کے شب و روز گزرتے تھے۔ اور وہ مشرق کے ان کولیگز اور کراچی پریس کلب کو اپنا گھر اپنی فیملی کہا کرتے تھے۔

یہ وہ بڑے لوگ اور بڑے صحافی تھے جنھوں نے اپنا صحافتی سفر 60 کی دہائی میں شروع کیا اور تقریبا 90 کی دہائی تک یہ اپنے قلم سے صحافتی اقدار کی آبپاری کرتے رہے۔ اور اس پر قدغن لگنے نہیں دیا۔

نہ ان کو آج کے دور کہ مخصوص ایجنڈے پر کام کرنے والے نام نہاد صحافیوں کی طرح لاکھوں میں تنخواہیں ملتی تھیں نہ یہ مسلح گارڈ کے ساتھ ڈبل کیبن میں سفر کرتے تھے۔ بلکہ یہ عام پبلیک ٹرانسپورٹ اور اسکوٹر پر سفر کیا کرتے تھے۔

مجھے یاد ہے جب ہم بہت چھوٹے ہوا کرتے تھے غالبا 80 کی دہائی میں جب وی سی آر اتنا زیادہ عام نہیں تھا تو مشہور شاعر جون ایلیا صاحب جو نسیم شاد میرے والد کے قریبی دوست بھی تھے ان کو دلیپ کمار اور منوج کمار کی فلم ”کرانتی“ دیکھنے کی خواہش جاگی تو وہ نسیم شاد کے ساتھ ہونڈا 70 میں پیچھے بیٹھ کر ہمارے گھر تشریف لائے تھے۔ اور اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر فلم سے محظوظ ہوئے تھے۔

یہ تھی وہ سادگی جو ان عظیم لوگوں میں پائی جاتی تھی۔ ان کے چہرے پر نہ شکن ہوتی تھی۔ نہ اخبار نویس اور صحافی ہونے پر ان کی گردن کو کلف لگا کرتا تھا جیسے آج کل میڈیا ہاؤسیز میں معمولی سے معمولی آدمی کی گردن میں بھی کلف لگا نظر آتا تھا۔

اپنے دوستوں اپنے ساتھیوں کے ہر دکھ سکھ میں ان کی مدد کرنے والا نسیم شاد اچانک 90 کی دہائی میں تنہائی کا شکار نظر آتا ہے جب اس پر فالج کا اٹیک ہوتا ہے۔

اس کو فوری طور پر لیاقت نیشنل ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور ڈاکٹر منان ان کو فوری طور پر آئی سی یو شفٹ کرتے ہیں ان کا فوری سی ٹی اسکین کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے ان کے دماغ کی رائٹ سائڈ پر خون جمنے کی وجہ سے ان پر فالج کا اٹیک ہوا ہے۔

اس دوران لیاقت نیشنل ہسپتال کے اس اسپیشل وارڈ میں نسیم شاد کی عیادت کرنے والوں کا ایک ہجوم سا لگ جاتا ہے کہ ہسپتال کا عملہ حیرت زدہ ہوجاتا ہے کہ یہ ایسی کون سی شخصیت ہے جس کی عیادت کو جھنڈے والی سرکاری گاڑیاں بھی آرہی ہیں۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عہدیدار، صحافی، ادیب، فلم و ٹی وی میں کام کرنے والے درخشندہ ستارے سب نسیم شاد کی عیادت کو آرہے ہیں اور ان کی صحت یابی کے لئے دعا کررہے ہیں۔

پھر نسیم شاد ہسپتال سے ڈسچارج ہوجاتا ہے۔ اور گھر منتقلی کے بعد کچھ دن تک اس کے دوست ساتھی رفقاء عزیز و اقارب سب ملاقات کے لئے آتے ہیں۔ مگر دھیرے دھیرے ایک ایک کرکے ان ملاقاتیوں کی تعداد میں کمی آتی جاتی ہے۔

اور پھر وہ وقت بھی آتا ہے جب سب کے دکھ سکھ میں کام آنے والا سب سے محبت کرنے والا نسیم شاد تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور وہ دنیا کی اس ستم ظرفی سے اندر سے توٹ جاتا ہے۔ شاید وہ بہت تھک چکا تھا۔ بظاہر وہ اپنی زبان سے کبھی اس بدلتی دنیا کے لوگوں کی جفاوں کی شکایت نہیں کرتا مگر اس کی آنکھیں بہت کچھ کہتیں تھیں۔ مگر لب پھر بھی مسکرارہے ہوتے تھے۔ اور پھر وہ دن آتا ہے جب 12 جون 2000 کو وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملتا ہے۔

فیڈرل بی ایریا بلاک 16 کی مسجد نعمان میں اس کی نماز جنازہ ہوتی ہے۔ دوست احباب عزیز و اقارب رشتے دار اہل محلہ اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات شرکت کرتی ہیں اور آنکھوں میں آنسو لئے صدا بلند کرتی ہیں کہ بہت اچھا آدمی تھا بہت عظیم انسان تھا۔ نم آنکھوں سے اس کو نارتھ کراچی کے محمد شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا جاتا یے۔

اگلے روز کراچی پریس کلب میں اس کے لئے تعزیتی جلسہ منعقد ہوتا ہے۔ ملک کے تمام بڑے اخبارات میں اس کی صحافتی و ادبی خدمات اور ہردلعزیزی پر ممتاز کالم نویس اپنے کالم لکھتے ہیں۔ وزیر اعظم، گورنر سندھ اور وزیر اعلی سندھ کا تعزیتی بیان آتا ہے کہ نسیم شاد قومی سرمایہ تھا اور یہ صحافتی و ادبی حلقوں کا بہت بڑا خلاء ہے جو کبھی پر نہیں ہوسکے گا۔

کاش انسان کی زندگی میں اس کی خدمات کا اعتراف کرلئا جائے۔ کاش محبتوں اور خوشیاں بانٹنے والوں کو زندگی میں ہی کچھ محبتیں تقسیم کردی جائیں۔ نسیم شاد چلا گیا دور بہت دور اس جگہ جہاں سے جاکر کوئی واپس نہیں آتا۔ اس نے کبھی کسی سے اہنی صحافتی خدمات یا انسان دوستی کا صلہ نہیں مانگا۔ وہ تو کہتا تھا اور دوسروں کو بھی تلقین کرتا تھا کہ نیکی کر دریا میں ڈال۔ اور جتنا ہوسکے مخلق خدا کے کام آو۔

اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو

اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •