فواد چوہدری اور انڈیا کا چاند مشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج اخبار کنگھالتے ہوئے ایک چھوٹی سی خبر پر نظر پڑی جو تھی تو بہت ہی چھوٹی لیکن گھاؤ بڑا لگا گئی۔ میں کافی دیر تک اس بیمار ذہنیت کے بارے میں سوچتا رہا۔ معلوم نہیں کہ سماجی رویوں کو ہو کیا گیا ہے؟ ہم کیا کیا سوچتے ہیں اور نہیں معلوم کہ ایسا کب تک سوچتے رہیں گے۔ آیئے پہلے خبر ملاحظہ کریں۔ وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدھری صاحب کے حوالے سے خبر تھی کہ

”اگر کام نہیں آتا تھا تو اس کا پنگا نہیں لینا چاہیے تھا“

موصوف اپنے اس جملہ میں یقینا پنگا کے ساتھ سابقہ کے طور پر ایک لفظ کا اضافہ بھی کرنا چاہتے ہوں گے مگر قومی سطح کے اخبار میں چھپنا شاید مشکل ہوتا، ہو سکتا ہے اپنی تقریر میں انہوں نے وہ سابقہ استعمال بھی کر لیا ہو مگر اخبار والوں کو اسے سنسر کر کے چھاپنا پڑا ہو۔

صاحب آپ نے سولہ آنے بات درست فرمائی ہے۔ کیونکہ یہی رویہ ہماری پوری قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، آپ کیسے اس رویے سے صرف نظر کر سکتے تھے۔ کوئی آپ سے پوچھے حضور آپ تو اپنے پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل رہے ہیں اور آپ کے بارے میں لوگوں نے اپنی اپنی سوانح حیات لکھتے وقت بڑے بڑے انکشافات کر رکھے ہیں۔ مگر وہ خالصتا آپ کے شعبے سے متعلق تھے۔ آپ تو انہی کاموں میں ید طولی رکھتے ہیں۔ مگر آپ کو وزارتوں کی بندر بانٹ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت تفویض کر دی گئی جس کا آپ کی تعلیم اور تجربے سے دور دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ آپ کو کسی نے یہ نہیں کہا کہ جو کام آپ کو نہیں آتا اس کا۔ پنگا کیوں لے رہے ہیں؟ یا جو کام آپ نہیں کر سکتے اس میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ مگر آپ سے قوم کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ کہ پانی کے ساتھ کار چلانے کے تجربے سے کچھ آگے بھی سوچا جائے گا۔

انڈیا کا چاند مشن تو آخری لمحات میں فیل ہوا۔ ان کا سائنس اور ٹیکنالوجی میں قدم رکھنا ہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہم صرف اعتراض کر سکتے ہیں۔ جہاں تک رہی ناکام مشن کی بات تو وہ پھر کوشش کریں گے، پھر ناکام ہوں گے، تو پھر کوشش کریں گے، ایک نہ دن کامیاب ہو ہی جائیں گے۔ زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ آپ کو یاد ہوگا بچپن میں ایک کہانی تیمور لنگ اور چیونٹی کے بارے میں سلیبس میں ہوا کرتی تھی۔ جس میں تیمور لنگ جس کو امیر تیمور بھی کہا جاتا ہے ایک جگہ درخت کے نیچے بیٹھا کچھ سوچ رہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کی نظر ایک چیونٹی پر پڑتی ہے جو اپنی چھوٹی سی خوراک کو اٹھا کر درخت پر چڑھنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔

اسی کوشش میں وہ خوراک سمیت زمین پر گر جاتی ہے۔ اسی طرح وہ بار بار کوشش کرتی ہے اور بار بار گرتی ہے۔ تیمور لنگ یہ سب دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس چیونٹی کی بار بار اوپر چڑھنے کی ہمت کو سراہ بھی رہا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سوچ رہا ہوتا ہے کہ آگے اس کی فوج کی پیش قدمی اور حکمت عملی کی کیا صورت حال ہو گی۔ اسی اثنا میں وہ دیکھتا ہے چیونٹی ایک بار پھر چڑھ رہی ہے اور وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

عرض یہ کرنا تھا کہ کوئی بھی کامیابی حتمی ہوتی ہے اور نہ ہی ناکامی۔ ان کی یہ پہلی کامیاب کوشش چند لمحات پہلے ناکامی سے دو چار ہوئی ہے۔ جس پر افسوس ہونا چاہیے اور دوبارہ پھر سے یہ کام کرنے کے لئے ہمت بندھانی چاہیے۔

میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ ہم ان کے چاند مشن کی ناکامی پر اتنے کیوں خوش ہو رہے ہیں؟ کیا اس سے ہمیں کوئی فائدہ مل رہا ہے جس کا جواب ہے ہر گز نہیں۔ تو پھر ہمارے مقتدر حلقے اور ہمارے سانئس اور ٹیکنالوجی کے وزیر کیوں سر سے لے کر پاوں تک نہال ہو رہے ہیں؟ ہمارا وہی حال ہے کہ چاچے کی دیوار گرنی چاہیے چاہے اس کے نیچے ہمارا اپنا کھیلتا ہوا بچہ ہی کیوں نہ دب کے مر جائے۔ ہم سب لوگ حکومت اور مقتدر حلقوں سمیت اتنے شدت پسند اور سیڈسٹ کیوں ہیں؟

نیل آرمسٹرانگ کے وہ الفاظ کہ:

” انسان کا ایک چھوٹا سا قدم انسانیت کے لئے ایک بہت عظیم جست ہے۔ “

اس نے کسی ملک کی بات نہیں کی۔ اس نے امریکہ کے گن گانے شروع نہیں کر دیے۔ اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ میں مشن سٹارٹ کرنے سے پہلے چرچ گیا تھا۔ وہاں پر اس مشن کی کامیابی کی دعا کی تھی۔ اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ مشن کی کامیابی کے لئے اتنے ہزار نوافل مانگے تھے۔ اس نے یہ کامیابی پوری انسانوں کی کامیابی قرار دیا۔

ہمیں اپنی سوچ کو اور اپنے رویوں کی سمت درست کرنا ہو گی۔ سوچ کا انداز بدلنا ہو گا۔ ہمیں ہمسائے کے گھر جا کر تسلی کر کے کہ ان کے گھر بجلی بھی نہیں آ رہی ہے واپس آ کر آرام سے اپنے گھر نہیں بیٹھ جانا چاہیے، بلکہ اس کے لئے ہمیں گھر سے نکلنا ہو گا، واپڈا والوں کے پاس جا کر انہیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لا کر اپنے اور اپنے ہمسائے کی بجلی ٹھیک کروانا ہو گی۔ ایسا سماجی رویہ عام کرنا ہو گا۔

انڈیا کی ترقی دیکھ کر ہماری رات کی نیندیں حرام نہیں ہونی چاہیئیں بلکہ اپنی ذہنی پستی، معاشی تنزلی، معاشرتی گراوٹ، ہڈ حرامی اور پھکڑ پن ہماری نیندیں غارت کرنے کے لئے کافی ہونے چاہیئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •