ہم خود چندریان کیوں نہیں بنا سکتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صبح انڈین خلائی مشن کی ناکامی پر پاکستان کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا بیان نظر سے گزرا جسے پڑھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ ہم کیسی قوم ہیں دوسروں کی ناکام کوشش پر خوش ہوتے ہیں۔ میری وزیر موصوف سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنے خلائی پروگرام پر توجہ دیں اور ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا صحتمند رجحان متعارف کروائیں۔ دوسروں کی ناکامیوں پر خوشی منانے کی بجائے اس بات کا ماتم کریں کہ ہم نے جس کام کو کرنے کا ابھی آغاز بھی نہیں کیا ہمارے ’دشمن‘ نے اس کے لیے پہلی اور دوسری کوشش بھی کر لی ہے۔

ہم آج بھی اپنے سٹیلائیٹ خلاء میں بھیجنے کے لیے چائینہ کے محتاج ہیں جب کہ ہمارا ’دشمن‘ درجن بھر ملکوں کے سٹیلائیٹ خلاء میں بھیج چکا ہے۔ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو صرف حکومتی توجہ اور ترجیحات کے تعین کی۔ اگر موجودہ حکومت واقعی پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے اور ملک و قوم کو مشکلات کے گرداب سے نکالنا چاہتی ہے تو برائے مہربانی مندرجہ ذیل گزارشات اپنے ایجنڈے میں کہیں شامل کر لیں۔

ملک کے اہم اداروں کی بھاگ دوڑ بیورو کریٹس کی بجائے متعلقہ فیلڈ کے اہل لوگوں کے ہاتھ میں دیں اور لوگوں کی سلیکشن کا میعار میرٹ ہونا چاہیے نہ کہ اقرباء پروری اور سفارش۔

شخصیات کی بجائے نظام پر سرمایہ کاری کریں۔ نظام مضبوط ہو گا تو کسی حکومت یا شخصیت کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑے گا اور ریاست میں پالیسیوں کا تسلسل ہوگا۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت کا نظریہ اور ترجیحات اپنے پیشرووں سے مختلف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہر حکومت کم مدتی منصوبے بناتی ہے اور وسط اور طویل مدتی منصوبے شروع کرنے سے گھبراتے ہیں۔ حقیقت مدنظر رہے کہ مفاد عامہ اور ملکی ترقی کے بیشتر منصوبے وسط اور طویل مدتی ہوتے ہیں۔

تعلیمی نظام پر خصوصی توجہ درکار ہے۔ ہمارا پورا نظام تعلیم رٹا سسٹم پر استوار ہے جس میں طالب علم صرف نمبر لینے کے لیے پڑھتا ہے اور اس میں جدت اور ایجاد کی کوئی گنجائش نہیں۔ پلے گروپ اور نرسری کے بچے کے سکول بیگ کا مجموعی وزن بچے کے وزن سے زیادہ ہوتا ہے اور ان کی تعلیم کا آغاز رٹے سے ہوتا ہے اور عملی طور پر کچھ نہیں سکھایا جاتا اور جب بچہ باشعور ہوتا ہے اس وقت اسے والدین کی پسند کے مضامین پڑھنے پڑتے ہیں اور اس سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا کہ وہ کس فیلڈ میں جانا چاہتا ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ حکومت کو ماہرین تعلیم کی زیر نگرانی ایسا نصاب بنانا چاہیے جس میں زیادہ حصہ عملی تعلیم اور تربیت پر مشتمل ہو اس کے علاؤہ ہر سکول اور کالج میں سٹوڈنٹس کے لیے کیریئر کونسلنگ کا شعبہ ہونا چاہیے جو ان کے رحجانات دیکھتے ہوئے ان کی رہنمائی کر سکے اور انہیں بتا سکیں کہ ان کے پاس کیا کیا آپشنز ہیں اور وہ کس کس فیلڈ میں جا کر بہتر پرفارم کر سکتے ہیں۔ فنی تعلیمی اداروں کا نصاب پچھتر فیصد پریکٹیکل ٹریننگ اور پچیس فیصد کتابی پڑھائی پر مشتمل ہونا چاہیے کیونکہ ان اداروں کے بیشتر طلباء وہ ہوتے ہیں جنہیں کہیں داخلہ نہیں ملا ہوتا یا ان کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا۔ عملی تربیت کا حصہ زیادہ کرنے ہم معاشرے کو بہترین ہنر مند افراد مہیا کر سکیں گے جو نہ صرف باعزت روزگار کمائیں گے بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈالیں گے۔

اعلی تعلیمی اور دیگر اداروں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا مختص بجٹ قابل ذکر حد تک بڑھایا جانا چاہیے اور جدت اور اختراع کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور ان اداروں سے فارغ و تحصیل طلباء کی ملکی سرکاری اور نجی اداروں میں پلیسمنٹ کو یقینی بنا کر برین ڈرین کو روکا جا سکتا ہے جس سے ہر سال ذہین طلباء سسٹم میں شامل ہوں گے جو دوسرے ملکوں میں جا کر کام کرنے کی بجائے اپنے ملک کی خدمت کر یں گے۔

یہ بات ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ حکومت ہر کسی کو سرکاری نوکری نہیی دے سکتی لیکن نجی شعبے کے ساتھ مل کر بیروزگاری ضرور کم کر سکتی ہے۔ اگر ارباب اختیار تھوڑی توجہ کریں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حضرات کے لیے پہلے سے موجود اداروں کے ذریعے تربیت اور رہنمائی کا انتظام کر دے اور ان کے لیے کاروبار کرنا آسان کر دیں۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

بڑے صنعتکاروں کو اگر حکومت کی طرف سے اعتماد دیا جائے تو وہ انڈسٹری کو لاحق مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ہر آنے والی مشکل کو چیلنج کے طور پر لیتے ہیں اور اس سے گبھرانے کی بجائے اس کا حل نکالنے پر توجہ دیتے ہیں مثال کے طور پہ جب ملک میں گیس کا بحران آیا اور حکومت نے سب سے پہلے انڈسٹری کو گیس کی فراہمی بند کر دی جس کی وجہ سے کچھ انڈسٹری تو بند ہو گئی اور باقی لوگ مہنگی ایل پی جی لینے پر مجبور ہو گئے لیکن ایک انجنئرنگ کمپنی نے کچھ انویسٹمنٹ کی اور بائیو گیس کا پلانٹ لگا کر اب اس سے نہ صرف اپنے استعمال کے لیے گیس حاصل کرتے ہیں بلکہ بائیو فرٹیلائزر بھی بناتے ہیں۔

لوڈ شیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اسی کمپنی نے اپنی فیکٹری کی چھتوں کو مکمل طور پر سولر پینل سے ڈھک دیا اور تقریبا ایک میگا واٹ تک بجلی خود پیدا کر رہے ہیں جو ان کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری نے جہاں ملکی کاروبار کو تہس نہس کر دیا وہیں اس کا دلچسپ حل یہ نکالا گیا کہ را میٹیریل کے علاوہ جو چیزیں باہر سے امپورٹ ہو رہی تھیں انہیں ریورس انجنیرنگ کے طریقہ پر خود تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بہت سی چیزوں میں انہیں کامیابی بھی ملی ہے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں اگر حکمران خلوص نیت سے کوشش کریں تو انہیں اس طرح کے بہت سارے لوگ مل جائیں گے جو مل کر ہماری انڈسٹری کو نہ صرف بحران سے نکال سکتے ہیں بلکہ صنعتوں کا پہیہ حرکت میں لا کر ملک کی معیشت کو بھی بہتر کر سکتے ہیں۔

لیکن اس سب سے پہلے سرمایہ داروں کو اعتماد دینا ہو گا۔ اداروں کے ذریعے انہیں ہراساں کرنے کی بجائے نظام کو مضبوط کرنا ہو گا۔ ایسا دوستانہ نظام متعارف کروانا ہو گا جہاں ہر کوئی رضا کارانہ ٹیکس جمع کروانے میں خوشی محسوس کرے اور کوئی عہدیدار پانچ ہزار رشوت لے کر ایک لاکھ روپے ٹیکس خورد برد کے طریقے نہ بتا سکے ایسا نظام جس میں ہر ٹیکس گزار کو یقین ہو کہ اس کا دیا گیا ایک ایک پیسہ ملک اور عوام کے لیے استعمال ہو گا۔

اس وقت عوام پریشان اور سخت اذیت میں ہیں کیونکہ ان کے ساتھ پچھلی سات دہائیوں سے دھوکہ ہوتا آ رہا ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک کبھی انہیں جمہوریت کے نام پہ دھوکہ دیا جاتا ہے کبھی آمریت کے نام پر محکوم بنایا جاتا ہے۔ کوئی روٹی کپڑا اور مکان کے نام پہ ووٹ لیتا ہے اور کوئی ترقی کے حسین سپنے دکھا کر ان سے کھلواڑ کرتا ہے۔ کبھی انہیں روشن خیالی و اعتدال پسندی کا لولی پاپ دیا جاتا ہے کبھی تبدیلی کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر مشکلات کی کھائی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس وقت بہترین موقع ہے عوام کو اعتماد دیں انہیں متحد کریں ان کی داد رسی کریں اور انہیں ایک قوم بنائیں اور پھر دیکھیں یہ لوگ ملک کے لیے کیا کیا کرشمے کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •