آہ! گریٹ عبدالقادر ”میدان“ چھوڑ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کا اختتام موت پر ہوتا ہے اور اس تلخ حقیقت سمیت کہ مرنے والے نے زندگی کیسے گزاری، بہت سے سچ سامنے آجاتے ہیں۔ بحثیت مسلمان ہمارا ہر لمحہ امتحان ہے جبکہ انسان ہونے کے ناتے سے سارے راز سانسوں کا ناتا ٹوٹ جانے پر کھل جاتے ہیں۔ کرکٹ اور خاص طور پر اسپن بولنگ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ عبدالقادر کے انتقال کی اچانک خبر اور نماز جنازہ و تدفین نے سب بتا دیا۔ دفتر سے اپنی ہفتہ وار چھٹی کے دن یعنی جمعۃ المبارک کی سہ پہر لیجنڈری عبدالقادر کے ہارٹ اٹیک سے انتقال کی خبر کا تصدیقی فون آیا۔ دنیا کی بے ثباتی اور کرکٹ حلقوں کی بدقسمتی کی خبر کو کنفرم کیا۔ جس کے بعد فون کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی۔

ہفتے کی صبح ڈیوٹی پر آیا، تمام رفقائے کار پر افسردگی کے آثار نمایاں تھے، اور دنیا بھر سے آنے والے تعزیتی پیغامات طبعیت پر غالب آتے گئے۔ پہلے سوا چار اور پھر بعد نماز عصر نماز جنازہ کی خبر آئی اور دی۔ دربار حضرت میاں میر کے وسیع و عریض احاطے میں صفیں لگا دی گئیں، تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، تاحد نگاہ مخلوق خدا ہی تھی، ہر آنکھ نم، ہر زبان پر مرحوم عبدالقادر صاحب کے تذکرے۔ بندہ ناچیز بحثیت کرکٹر اور اسپورٹس رپورٹر و ایڈیٹر نہیں بلکہ ایک عظیم انسان کے مداح کے طور پرجنازے میں شریک تھا۔

پندرہ ستمبر انیس سو پچپن کو لاہور میں ہی پیدا ہونے والے اور انیس سو ستتر سے انیس سو ترانوے تک انٹرنیشنل کرکٹ کی آنکھ کا تارہ رہنے والے عبدالقادر کے چرچے تھے۔ سڑسٹھ ٹیسٹ میچز میں دو سو چھتیس، ایک سو چار ون ڈیز میں ایک سو بتیس اور دو سو نو فرسٹ کلاس میچز میں نو سو ساٹھ وکٹوں، لیگ بریک کے فن کی اختراع، حیثیت اور کمال شہرت کا سہرا عبدالقادر صاحب کے سر تھا۔ تمام سوگواران، مرحوم کے کرکٹ کیرئر اور اعزازات کی بجائے بحثیت عظیم انسان، سچے مسلمان زیادہ تذکرے کرتے نظر آئے۔

اس حوالے سے بندہ ناچیز بھی گریٹ عبدالقادر کی کچھ یادیں اور باتیں شیئر کر کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا خواہشمند ہے۔ مایہ ناز عبدالقادر صاحب کی سادگی، ملنساری، مہمان نوازی بلکہ بندہ نوازی، حق گوئی و حق پرستی اور زبردست قوت ایمانی کے باعث بندہ عاجز بھی ان کا گرویدہ تھا۔ شاید ہی کوئی ہفتہ گزرتا کہ ان سے ملاقات یا بات نہ ہو۔ گڑ والی چائے اور بیسن کے خستہ پکوڑے ان کی خاص چوائس ہوتی۔ جیسے سچے اور کھرے انسان خود تھے، ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتے۔

کوئی بھی نشست یا بات مختصر یا پھر طویل، گفتگو ہمیشہ ان کے مخصوص انداز میں قرآن و حدیث کے دلائل سے بھری ہوتی تھی۔ اللہ پاک سے رجوع اور معرفت کی باتیں ان کا خاصہ تھیں۔ ترجمے کے ساتھ قرآن پاک باقاعدگی سے پڑھنا ان کے معمولات میں تھا۔ اپنے گھر میں چھوٹی سی مسجد بنانا بلکہ اسے آباد رکھنا ان کا کمال تعارف تھا۔ نفسیات اور حالات کو سمجھ کر دلیل کے ساتھ بات کرنا عبدالقادر صاحب پر ختم تھا۔

اب ایک بات بڑے فخر اور تجربے سے کر رہا ہوں کہ رمضان المبارک میں یکسوئی سے عبادت و ریاضت اور تسبیح و تحلیل کرنا گریٹ عبدالقادر صاحب کا خاص وصف اور انداز بندگی تھا۔ کسی بھی بڑے سے بڑے معاہدے کو آڑے نہ آنے دیتے۔ رواں سال ماہ مکرم کے آخری عشرے میں ورلڈکپ کے میچز تھے۔ دنیا نیوز کی انتظامیہ نے سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد کے ساتھ لیجنڈ عبدالقادر کی منظوری دی۔ بحثیت سینئر پروڈیوسر و سپورٹس ہیڈ عبدالقادر صاحب سے اس معاہدے کو طے کرنے کا ٹاسک ملا۔

یقین کریں لاکھ دلیلیں دیں کہ حقوق اللہ کے ساتھ یہ حقوق العباد کی ادائیگی ہے لیکن اپنے روحانی اور بندگی کے اس طریق پر انہوں نے کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ آخر کار رمضان المبارک میں آنے والے پاکستان کے پہلے دونوں میچز میں انہوں نے شرکت نہ کی یعنی پیسے کی کشش و چمک کو اپنی عبادات و معمولات پر غالب نہ آنے دیا۔

رول اصول کی بات ہو اور گریٹ عبدالقادر صاحب کو کوئی منا لے یہ ہو نہیں ہو سکتا۔ ایسے حق پرست اور راست گو کہ 2008 میں چیف سلیکٹر کا عہدہ ملنے پر اپنے باس اعجاز بٹ کے احسان و شکریہ تلے بہت زیادہ دبے نہیں بلکہ خلاف طبیعت ذرا معاملہ ہوا تو ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران استعفیٰ دے دیا۔

لالچ نام کی کوئی چیز ان کے مزاج میں پھٹکتی تک نہ تھی۔ ورلڈکپ فاتح کپتان عمران خان کی رفاقتوں پر مان کرتے ہوئے بھی دل کی آواز کہنے میں کبھی عار محسوس نہ کرتے۔ اس کی زندہ دلیل ڈومیسٹک کرکٹ سے ڈیپارٹمنٹس کے خاتمے کا فیصلہ تھا۔ اس اقدام پر اگر کوئی کھل کھلا کر بولا بلکہ کھیلا ہے تو وہ صرف عبدالقادر صاحب ہیں۔ عمران خان کو بحیثیت وزیر اعظم پاکستان کم اور ایک دلیر، محنتی، ایماندار، محب وطن اور سچے مسلمان کے زیادہ بیان شاید اس لیے کرتے تھے کہ صرف حق کی ادائیگی ہو کسی کو کبھی ایسا نہ لگے کہ ان کا مقصد کوئی عہدہ لینا ہے۔

عبدالقادر صاحب کا ایک کمال ظرف و تعارف یہ تھا کہ وہ انسانیت کے بہت بڑے وکیل تھے۔ اکثر اس بات پر کڑھتے تھے کہ پاکستان کرکٹ نے ماضی کے ہیرو مرحوم حنیف محمد، فضل محمود، امتیاز احمد، وسیم حسن راجہ اور نذر محمد سمیت لیجنڈری سرفراز نواز، وسیم باری اور ظہیر عباس سمیت نامور کھلاڑیوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ رواں ماہ پرنس شادی ہال میں ریکارڈ ہولڈر امپائر علیم ڈار کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کرتے ہوئے گریٹ عبدالقادر نے مصباح الحق کو (موجودہ ) ملنے والی چیف سلیکٹر اور ہیڈکوچ کی اہم ذمہ داریوں پر بھی یہی جواز پیش کیا کہ سابق کامیاب ٹیسٹ کپتان کی صلاحیتوں اور ایمانداری میں کوئی شک نہیں لیکن پہلے اگلے پھر پچھلے ہونے چاہییں۔

اسی طرح سٹیڈیمز میں لیجنڈز کے ناموں کو صرف سٹینڈز تک محدود رکھنے کی بڑی مخالفت کرتے تھے کہ ماضی کے ان عظیم لوگوں سے آنے والی نسل کو فائدہ دلانا چاہیے۔

یہ سب وہ باتیں تھیں جو نماز جنازہ سے لے کر اب تک مجھے یہ سب لکھنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ ان چند الفاظ کو قرض سمجھ کر آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، اپنی اپنی رائے بلکہ اظہار رائے کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ گریٹ عبدالقادر صاحب کی سوانح عمری کے باب میں بحثیت عظیم کرکٹر اور انسان اضافہ ہو جائے اور ان کے ذکر خیر سے مرحوم و مغفور کے لیے خیر کا ہی معاملہ ہو سکے۔

اللہ پاک درویش منش و صفت، سچے مسلمان بلکہ عاشق مصطفی عبدالقادر کو جوار رحمت میں عظیم مقام نصیب فرمائے، پسماندگان و سوگواران کو صبر جمیل اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبین و یا خاتم المرسلینﷺ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد احمد رضا کی دیگر تحریریں
محمد احمد رضا کی دیگر تحریریں