انسانی رویوں کو تبدیل کرنے والے عناصر و عوامل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوبصورت چہروں، لمبے چمکدار بالوں، تلوار کی طرح کاٹتی اور مقناطیس کی طرح کھینچتی مسکانوں کے مالک عورتیں اور مرد، جنہیں ہم روز مختلف اشتہاری فلموں میں ٹی وی سکرینوں اور بل بورڈوں پر دیکھتے ہیں۔ جنہیں نت نئے انداز میں، مختلف مصنوعات کی فروخت کے لئے اشتہاری کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔ ان کا حسن، طرحداری اور کشش ان کا ذاتی، فطری اور خدا داد ہوتا ہے۔ یہ جس شیمپو، صابن، کریم اور کولڈ ڈرنک کی تعریف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ان میں سے اکثر یہ استعمال بھی نہیں کرتے۔ ان کے حسن کے پیچھے بیٹھا چالاک سیٹھ ان کے ذریعے لاکھوں، کروڑوں لوگوں کو ہپناٹائز کرکے، انہیں دیکھنے والوں کے دل و دماغ کو متاثر کرکے، ان کے رویوں کو تبدیل کرکے اپنے مصنوعات کو زیادہ سے زیادہ بیچتا ہے۔ خریدار اور صارفین اپنی ضرورت اور مرضی کی بجائے ان کے ”پسندیدہ“ لیکن اکثر غیر ضروری اشیاء خریدتے ہیں۔ لیکن ان کو بالکل یہ احساس نہیں ہوتا۔ کہ وہ ایک مستقل نیم خوابیدگی کی حالت کے شکار ہوتے ہیں۔

اور اس عمل تنویمی کے دوران ان کو اپنے ذہن، اپنی پسند، اپنی ضرورت اور اپنے اخراجات پر بالکل اختیار نہیں ہوتا۔ وہ اپنی پسند، اپنی ضرورت اور اپنے اخراجات کے بارے میں خود فیصلہ نہیں کرسکتے اور اتنے بے خبر اور لاچار ہوتے ہیں کہ ان کو اپنے تبدیل شدہ رویئے، عادت اور پسند ناپسند کا بھی ادراک نہیں ہوتا۔ یقین نہیں آتا تو سردیوں میں آئس کریم کھانے اور کولڈ ڈرنک پینے میں اپکی کون سی ضرورت اور حاجت کی تسکین ہوتی ہے؟ اور بڑے سٹور سے خریداری کے بعد گھر آکر اپکو کیوں احساس ہوتا ہے کہ آپ نے غیرضروری اشیاء پھر خرید لی ہیں، ؟

بناسپتی گھی کو ہمارے ہاں پہلی دفعہ متعارف کراتے وقت، اس دور کے اشتہارات میں موٹے موٹے بچے صارفین کو دکھائے جاتے تھے اور انہیں یقین دلایا جاتا تھا۔ کہ یہ گھی استعمال کرنے سے ان کے بچے بھی ایسے موٹے اور ”صحت مند“ ہو جائیں گے۔ لیکن آج کل وہی کمپنیاں صارفین کو بتا رہی ہیں۔ کہ گھی صحت کے لئے خطرناک اور کھانے کا تیل بہترین ہے۔ جبکہ موٹاپا ہزار بیماریوں کی سبب اور بذات خود ایک بیماری ہے۔ صارفین کو بتایا جاتا ہے۔ کہ یہ دل کا معاملہ ہے جبکہ دراصل یہ دماغ کا معاملہ ہوتا ہے۔ یو ٹیوب پر اپکو ایسے بلیک اینڈ وائٹ اشتہارات مل جائیں گے۔ جہاں ایک ڈاکٹر بالکل اسی طرح ایک نرس کو اپنے پسندیدہ سگریٹ برانڈ کے بارے میں بتاتا ہے، جیسے آج کل ”ڈاکٹروں کی پسندیدہ“ صابن کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

ٹی وی کو، پیٹنٹ کروانے والے ادارے کے پاس، ایک ایسے آلے کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔ جس سے نکلنے والی لہریں اور شعائیں انسانی ذہن کو متاثر کرتی ہیں۔ یقین کرے دنیا بھر میں انسانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا آلہ ٹی وی ہے۔ اس لیے دوسرے ذرائع ابلاغ کے مقابلے میں، ٹی وی کو انسانی ذہن، پسند، ضرورت، خواہش اور رویوں کو تبدیل کرنے کے لئے بھرپور انداز اور موثر طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایک وقت میں ہمارے ملک میں ایک ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا۔ جس کے ذریعے پروپیگنڈا اور سرکاری نکتہ نظر ناظرین تک پہنچایا جاتا تھا۔ زیادہ ٹی وی چینلز آنے کے بعد سمجھا جاتا ہے کہ میڈیا کی آزادی اور ورائٹی کی وجہ سے ناظرین کو زیادہ چوائس اور مختلف نکتہ نظر میسر ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اب ایک ذریعہ کی بجائے مختلف ذرائع سے، ایک بات، سمجھائی جارہی ہے۔ جو پہلے سے زیادہ موثر اور کارآمد طریقہ ہے۔ جس کو میڈیائی آزادی اور ورائٹی سمجھا جاتا ہے۔

وہ دراصل مختلف ذرائع سے ایک ہی بات، بار بار سمجھانے کی بھرپور کوشش ہے۔ ورنہ آپ کشمیر، انڈیا، سعودی عرب، امت مسلمہ یا چین کے بارے میں سارے چینلز پر کون سی ورائٹی دیکھتے ہیں؟ آپ افغانستان، انڈیا یا پختون تحفظ موومنٹ کے بارے میں کون سی مثبت خبر دیکھتے ہیں؟ آپ نے آج تک کوئی ایساٹی وی پروگروم دیکھا ہے۔ جس میں ”ماہرین“ صارفین کے استعمال کی کسی ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہوں جو ان کی صحت کے لئے خراب یا خطرناک ہو؟

جب تک سگریٹ کے اشتہارات میں، سگریٹ پینے والا، کبھی ایک بھاگتی ہوئی گائے کو گرانے، جہاز کے کرتب دکھانے اور جاسوسی کے محیرالعقول کارنامے دکھانے والا بتایا جا رہا تھا، تو کیا ٹی وی کے کسی پینل پر سگریٹ نوشی کو خطرناک بتایا جارہا تھا؟ جب وہ دکھایا جارہا تھا تو ہم اُس پر یقین کر رہے تھے اور اب جب یہ دکھایا جا رہا ہے۔ ہم اس پر یقین کرتے ہیں۔ ہمارے رویے ایک سیال مادہ بنا دیے گیے ہیں۔ موڈیفائر (تبدیلی کے عوامل) اسے جس شکل میں چاہے تبدیل کرتے ہیں۔ ورنہ سگریٹ کمپنیاں قومی اور بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرتے تھے۔ عمران خان کے چھ نمبر شرٹ کی وجہ سے پلئیر نمبر سیکس کا سگریٹ برانڈ بکتا تھا۔ اور آج عمران خان، کینسر کا سب سے زیادہ سبب بننے والا عمل، یعنی سگریٹ نوشی کا نمائیندہ بننے کی بجائے، کینسر کے علاج کا برانڈ ایمبیسڈر ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں۔ کہ ہم اپنے پسندیدہ انٹرٹینمنٹ پروگراموں کے درمیان، کبھی کبھی، اشتہارات دیکھتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ہم اشتہارات کے درمیان، اپنے پسندیدہ انٹرٹینمنٹ پروگرام دیکھتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جب ہم معلوماتی اور تجزیاتی خبریں اور مذاکرے دیکھتے ہیں تو حقیقت میں ہمارے ذہن، پسند، ضرورت، خواہش اور رویوں کو مسلسل پروپیگنڈے کی بمباری سے متاثر کرکے تبدیل کیا جاتا رہتا ہے۔ یوں کبھی ڈاکٹروں کی پسندیدہ سگریٹ ہم ہسند کرتے ہیں۔ اور کبھی صابن، جبکہ ڈاکٹروں کا دونوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

جو اینکرز، پروگرامز، سیاسی پارٹی یا گروہ، سرکاری یا ”قومی“ بیانیے کا ساتھ نہیں دیتے اور اپنا الگ اور آزاد نکتہ نظر رکھنے اور پیش کرنے پر مصر ہوتے ہیں، ان کو بدنام کیا جاتا ہے، مذاق اڑایا جاتا ہے، پریس اور میڈیا میں بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے، ان کے پروگرام بند کردیئے جاتے ہیں اور اشتہارات نہیں دیے جاتے۔ ایسے گروہوں اور سیاسی جماعتوں پر غیر قانونی اور غیر آئینی ہونے کے الزامات لگا کر عدالتوں کے ذریعے پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔

انکو، غدار، وطن دشمن، دشمن کا ایجنٹ اور یار قرار دے کر جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اور بعض صورتوں میں ان کی جان بھی خطرے میں ڈالی جاتی ہے۔ جس کی اصل وجہ ان کے نکتہ نظر کو عوام اور متعلقہ حلقوں تک پہنچانے سے روکنا ہوتا ہے۔ تاکہ سرکاری نکتہ نظر موثر رہے اور سچ دکھائی دے۔ اور سرکار کو اپنے موڈیفائرز آسانی سے اور بلا رکاؤٹ استعمال کرنے کے مواقع ملے۔

کراؤن (حکمران) اور چرچ (مذہبی پیشوا) کے درمیان بڑا تاریخی تعلق ہے۔ حکمران کو مذہبی پیشوا، عوام کے سامنے سچا، ایماندار، نیک، اور اللہ کا بھیجا ہوا، ثابت کرتا ہے۔ جس کی صدائیں عیدین اور جمعے کی خطبوں میں آج بھی السلطان ضل اللہ فی الارض کی شکل میں سنائی دیتی ہیں۔ جدید میڈیا سے پہلے مذہبی پیشوا بادشاہ کو مقدس بناکر پیش کرتا اور بادشاہ بدلے میں مذہبی پیشوا کو آسمانوں کا پسندیدہ بتا کر دونوں باہمی اتفاق سے مزے کرتے۔

آج بھی ایک طرف جدید ذرائع ابلاغ یعنی ٹی وی، پریس، تعلیمی کتب، سوشل میڈیا کے اجرتی جتھے پروپیگنڈہ کے زور پر انسانی ذہنوں کو تبدیل کرنے میں جتھے ہوتے ہیں تو دوسری طرف روایتی پسماندہ اور مذہبی معاشروں میں مسجد و منبر، جبہ و دستار، مخدومین اور مشائخ اپنی تاریخی کردار تندہی سے سرانجام دیتے ہیں۔ آخر الذکر کی چمتکار پچھلی الیکشن میں بڑا واضح دکھائی دیتا ہے۔

انسانی ذہنوں کا مطالعہ، رویوں کی تبدیلی، اس کے محرکات، انسانی ذہنوں پر اثر انداز ہونے والا ماحول، ذرائع، اسباب اور عوامل، ماہرین نفسیات، سماجیات، مصنوعات بیچنے سیٹھوں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سیاسی پارٹیوں کی دلچسپی کا مرکز رہتا ہے۔ چپل کے تلوے پر لکھا ہوا سامنے آنے والا اللہ کا نام، اخبار میں شائع ہونے والا کسی محترم ہستی کا توہین آمیز خاکہ، کسی مسلک کی مقدسات کے خلاف دیا گیا بیان، کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی لیول پر مانیٹر کرتا رہتا ہے۔

ان واقعات کے ردعمل میں ظاہر ہونے والا غصہ، تشدد، اظہار نفرت، احتجاج اور اس کی کمی بیشی کا تجزیہ ہوتا رہتا ہے۔ اپنے ملکوں اور علاقوں سے نکالے گئے مہاجرین اور آئی ڈی پیز کی قطاریں بنواکر، کھانا پینا جیب خرچ اور ضروریات زندگی کے لئے گھنٹوں، کڑکتی دھوپ اور یخ بستہ موسم میں گھنٹوں انتظار کرانا، ان کی شخصی تبدیلی، پسند ناپسند، کنٹرولڈ اور نامانوس ماحول، احساس لاچارگی اور بے بسی کی صورتحال، دراصل ان کے رویوں میں جوہری تبدیلیوں اور مطلوبہ ذہنی اصلاح، ترمیم اور تبدیلی کے مراحل ہوتے ہیں۔

مائنڈ کنٹرول اور ہیومن بیہیورئیل چینج براہ راست دوائیوں کے علاؤہ، سیاستدانوں، مشہور کھلاڑیوں، اداکاروں، اساتذہ اور مذہبی پیشواؤں (روایتی اور پسماندہ معاشروں میں ) کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ ساری دنیا کو نمک میں آئیوڈین کھلانے اور ارتھ ڈے مناتے ہوئے ایک گھنٹہ بجلی بند احساس و شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی اثر پذیری کو بھی مانیٹر کیا جاتا ہے۔ مشرف دور میں گھڑیاں آگے پیچھے کرکے صرف یہ جانچ کرنی تھی۔ کہ لال مسجد سانحے کے بعد قوم کا رویہ حکومتی احکامات ماننے کے لئے کس حد تک مثبت ہے۔

انسانی رویوں کو تبدیل کرنے والا سب سے بڑا اور موثر ملکی ادارہ تبلیغی جماعت ہے۔ میرے بچپن میں پختون معاشرہ باقی ملکی معاشروں کی طرح چند تنقیصات کے باوجود ایک نارمل معاشرہ تھا۔ مسجدیں تھیں، نمازی تھے لیکن داڑھیاں خال خال تھیں۔ پردے کا واجبی سا رواج تھا۔ گاؤں کے مشرق میں بہنے والے دریا اور مغرب میں بہنے والے نہر میں گاؤں بھر کی عورتیں بغیر کسی خاص پردے کے کپڑے دھویا کرتی تھیں۔

خدائی خدمت گار تحریک، جو کہ باچہ خان نے پختونوں میں جذبہ خدمت اور سیاسی بیداری کے لئے شروع کی تھی، کے تاریخی لٹریچر کے مطالعہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ پختون عورتیں اس تحریک کے جلسے جلوسوں میں باقاعدہ حصہ لیتی تھیں۔ مردان کے نواحی قصبے گوجرگڑھی میں منعقدہ، خدائی خدمت گار تحریک کے ایک احتجاجی جلسے کو تشدد کے ذریعے منتشر کرنے والے، انگریز پولیس افسر کیپٹن مرفی کو، جلسے میں پانی پلانے والی ایک عورت نے گھوڑے سے گرا کر پانی پلانے والے مٹکے سے ہلاک کیا تھا۔

آج سے اسّی نوے سال پہلے پختون عورتیں جلسوں میں شرکاء کو پانی پلایا کرتی تھیں اور اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ میدان عمل میں مصروف تھیں۔ آج کی طرح شٹل کاک برقع میں محبوس تھیں اور نہ اتنی مجبور تھیں کہ مردوں کے درمیان میدان میں لٹا کر کوڑے مارے جاتے ہیں اور کسی مرد کے آبرو پر بل نہیں پڑتا۔ مردوں کی موجودگی میں عورتوں کو کوڑے مارنے کے عمل کو بہت بڑی ذہنی تبدیلی کی صورت میں دیکھا جانا چاہیے۔ خوشی کے موقع پر ناچنے گانے والی فنکارائیں بلائی جاتیں۔

سردیوں میں پنجاب سے مشہور پہلوان بلائے جاتے، محلے محلے اکھاڑے بنائے جاتے، شام کے وقت دریا کے کنارے ریت میں کشتی کے مقابلے کیے جاتے۔ جیت کی خوشیوں کو ویلوں اور ڈھول کی تھاپ پر منایا جاتا۔ آج کی طرح ہر طرف لمبی داڑھیاں، چھوٹی شلواریں اور جوق درجوق بستر اٹھائے کسی نامعلوم منزل کے مسافر نہیں ہوا کرتے تھے۔ حجرے (ڈیرے ) آباد تھے۔ جہاں پر ملکی اور علاقائی مسائل پر بحثیں ہوتیں تھیں۔ آزادی سے پہلے پختون معاشرے کو باچہ خان نے ترقی پسندی کے جس راہ پر ڈالا تھا، آزادی کے بعد اسے رجعت پسند قوتوں کے ذریعے ضائع کرا گیا۔

ہمسایہ معاشرے روایتی دھوتی سے پینٹ سوٹ میں تبدیل ہوئے جبکہ پختون معاشرے میں عقل دشمنی اور دنیا بیزاری کے بدروح پھڑپھڑانے لگے۔ اگر ایک طرف بندوق برداروں نے پختونوں کے روایتی جرگے حجرے ملک اور سیاسی لیڈر شپ کو بارود کے دھوئیں میں تحلیل کردیا۔ تو دوسری طرف مبلغین کے غولوں نے ان کی بدترین حالات کو ان کے اعمال کا نتیجہ باور کرا کر ان کو غیر سیاسی اور دنیا بیزار بنادیا۔ آج پہلی دفعہ لگتا ہے دونوں گروہوں کی باہمی آویزش نے پختون معاشرے کو ایک نئے موڑ پر کھڑا کیا ہے۔

کیونکہ ایک حضرت سیاسی سرگرمیوں کو عین عبادت کہہ کر ان کو ”باطل“ سے ٹکرانے اور شہادت کے حصول کی شہہ دے رہا ہے۔ جبکہ دوسرے حضرت جن کو گزشتہ عشرے میں بڑے کمال کے ساتھ گروم کرکے میدان میں اتارا گیا۔ اپنے انہی پیروکاروں کو اللہ کے واسطے دے کر سیاست سے کنارہ کشی کی ترغیب دیتے ہیں۔ ٹی وی بذات خود انسانی رویوں کو تبدیل کرنے کا موثر آلہ ہے۔ جب اسی ٹی وی پر کوئی مذہبی پیشوا انسانی رویوں کو تبدیل کرنے کی سعی کرتا ہے تو اثر دو چند ہو جاتا ہے۔

حاضرات جیتتے ہیں یا حضرات، یہ فیصلہ چند دنوں میں ہوجائے گا۔ لیکن تبدیلی سرکار نے ایک حضرت کے ملئین مارچ کا علاج دوسرے حضرت کے دسیوں ملئینوں پیروکاروں کے ذریعے کرکے نہ صرف یہ کہ مستقبل میں ٹارگٹڈ ایریا میں جوہری ذہنی تبدیلیوں کی نشاندھی کی ہے۔ بلکہ طاقت کا مرکز بھی علاقے سے پنجاب شفٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اگرچہ محبوس ماحول میں رواں مذاکرات اور اسلام آباد کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کے چھاپ آپس میں بظاہر کوئی میل نہیں کھاتے لیکن پختونخوا اور پنجاب کے منتظمین اس قسم کی صورت حال میں کچھ نہ کرنے کے لئے چنے گئے تھے۔ کیونکہ اسلام آباد کے لئے جانے والے دونوں راستے انہی نو وارد اور احسان مند منتظمین کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ ایک حضرت کو دوسرے حضرت کے ذریعے اپنے حد میں رہنے اور طے شدہ ضوابط کے مطابق کھیلنے کا یلو کارڈ دکھایا گیا ہے۔ حضرات اور حاضرات دونوں آخری آخری تیاریوں میں مصروف ہیں نیازی سے بے نیاز ہوکر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •