ادب میں موضوع اور اسلوب کا سنگم!

اسلوب کی پُختگی نو مَشقی کی منازل کو پار کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ اسلوب کی وسیلے سے ہی اپنی اشک افشانی کو قِرطاس پر لکھ کر روگردانی کیفیات کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اسلوب کی پُختگی کے ساتھ موضوع پر دسترس ہی ادب میں اِنفرادیت بخشتی ہے۔ اب وہ شعری تخلیق…

Read more

بشر کی ذلالت سے آگاہی

عہد طفلی کے آموختہ مضامین کو پڑھ کر ناشدنی قیاس آرائیاں دماغ میں جنم لیتی ہیں، جو عنفوان شباب کے دور میں آکر مزید راسخ الاعتقاد ہوجاتی ہیں۔ چونکہ زندگی کے گنجلک معاملات مفروضاتی سطح پر ایسے عدیم المثال منظر کھنچ دیتے ہیں کہ انسانی اعتقاد مزید پختہ ہوجاتا ہے۔ سوئے اتفاق سے عین اس…

Read more

امام زین العابدین ؑ کی علی الاستقامت!

دَقِیقُ النَّظَری کے ساتھ تاریخِ اسلام کے دریچوں کوکھولیں، تو دشتِ کربلا میں آکر اسلام کی تاریخ کا آخری دریچہ کھلتا ہے۔ جہاں حد نظر صحرائے لق و دق میں ریت کے ذرے عقاب کی رفتار سے اڑ اڑ کر آنکھوں کی بینائی چھین رہے تھے، جہاں ایک پل بھی جینا دشوار تھا۔ لیکن دنیاوی…

Read more

بلوچستان کا رقبہ زیادہ ہے یا ہزارہ قبریں؟

بچپن سے لے کر بلوغت کی سیڑھیوں پر قدم رکھنے تک، پھر بڑھاپے تک کی زندگی میں ایک بات سے ہم نا آشنا ہیں کہ کیا شیعہ ہونا جرم ہے؟ اگر ”شیعہ“ علی سے محبت کرنے والے کو کہتے ہیں ؛ اور ”سُنی“ محمد کی سُنت سے محبت کو کہتے ہیں، تو اس طرح سے…

Read more

پانی کی تلاش

بیت جانے والا ہر پَل ہر لمحہ میرے ذہن پر نقش ہوجاتا ہے۔ پیر کا دن تھا بادل چھائے ہوئے سورج کبھی بادلوں میں چھپ جاتا کبھی جلوہ افروز ہوجاتا۔ بارش کی بوندیں زمین پر گرنے کی وجہ سے زمین سے اک مہک اٹھ رہی تھی، جو دل و دماغ کو تسکین بخش رہی تھی۔…

Read more

ایسا بھی ہوتا ہے، خوشیوں کا بازار

انسان نِہایت نَرم مزاج ہونے کے ساتھ ہی نِکو سِیرت ہو، تو شخصیت پر چار چاند لگ جاتے ہیں۔ کیونکہ سِیرت ہی انسان کے باطن کی عکاسی کرتی ہے، جو بظاہر دکھائی نہیں دیتا ہے۔ لیکن جب انسان کا نام ہی سِیرت ہو، تو کیا ہی بات ہے۔ اگر سِیرت نام کے ساتھ عباس ہو،…

Read more

ہماری محبتِ الٰہی میں زہر کی ملاوٹ

خالق کی محبت انسان کو دُنیا سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ اگر انسان خالق کے عِشق میں ڈوب کر دُنیا کو دیکھے، تو اِسے اپنا محور نہیں نظر نہیں آتا۔ بس اِس کے دِل میں ایک ہی حسرت اند شدو مد سے بول رہی ہوتی ہے کہ وہ خدا کا دیدار کر لے، یہ…

Read more

اتحاد بین المسلمین کی زندہ مثال

انتہائی نفیس، نرمل، کثافت سے پاک، دھیما لہجہ، محبت کرنے والا انسان جس کا انداز اس کی اپنی شخصیت سے بالکل مختلف تھا۔ سادہ رہن سہن دیکھنے میں با رعب چال ڈھال ایسی کہ کیا ہی کوئی جوان چلتا ہو۔ یہ منصف مِزاج انسان سید علی رضا عابدی تھے، لیکن اِن کو بھی ہمارے وطنِ عزیز میں ابدی نیند سلا دیا گیا ہے۔

سیاست سے کنارا کشی اختیار کرنے کے بعد اپنے کاروبار، خدمت انسانیت میں مشغول رہتے تھے؛ اور حق و سچ کی وکالت کیا کرتے تھے۔ مگر ملک دشمنوں کو یہ بات پسند نہ آئی؛ اور گولیوں سے چھلنی کر کے محب وطن، پاکستان کے نظریات کی حفاظت کرنے والے ایک مخلص پاکستانی کو قتل کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے محبوں اور مخالفین کی جنگ جاری ہے۔

Read more

پابند صحافت قائد اعظم کے ویژن سے غداری ہے

پاکستان ہم نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں حاصل کیا تھا۔ اِس کے حصول کے لیے ایک نعرہ لگایا تھا، وہ یہ تھا کہ "لا الہ اللہ" اِس کی تعبیر اور تشریح بھی ہماری قیادت نے خود ہی کر لی تھی۔ لیکن حُصول پاکستان کے بعد ہمارے سیاسی رہنماٶں نے قائداعظم کے…

Read more

مذہبی آزادی کی پامالی، پاکستان کو مشکلات کا سامنا

دنیا میں موجود ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنی اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ اِس میں خفیہ طور پر کسی بھی مذہب، عقیدے کی تعلیم؛ اور رسم رواج کی سیاسی آزادی حاصل ہونے کا اصول ہے۔ اِس میں کسی بھی مذہب پیروی کرنا یا تبدیل کرنے کی آزادی شامل ہوتی ہے۔

جب پاکستان آزاد ہوا تھا اس وقت تمام مذاہب آپس میں برابر کا درجہ رکھتے تھے۔ آئین پاکستان کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو اپنے مذہب کو ماننے یا کسی دوسرے مذہب کی پیروی کرنے کی مکمل اجازت ہے۔ لیکن جب سن 1956 میں پاکستان اسلامی ریاست بنا تھا۔ اِس کے بعد سن 1977 سے لے کر سن 1988 تک جنرل ضیاء الحق کا نفاذ اسلام چلا تھا۔ پاکستان میں تقریباً 95 % مسلمان ہیں اور باقی 5 % ہندو، سکھ، مسیحی ہیں۔ آئین پاکستان مسلم اور غیر مسلم میں کوئی تفریق نہیں کرتا، جبکہ جنرل ضیاء کے دور میں نفاذ اسلام کے دوران کئی ترامیم ہوئیں۔ جس کے نتیجے میں ”حدود آرڈیننس“ بنا تھا۔ کیونکہ اس وقت عسکری سربراہ مملکت جنرل ضیاء الحق نے اس قانون کو لاگو کیا تھا۔ اس قانون کا نفاذ میں کچھ قانونی شقیں تبدیل کیں ؛ اور نئی شقوں کا اضافہ کیا تھا۔

Read more