ریاست مدینہ کی حقیقت

ریاست مدینہ کے خد و خال پر جب غور کیا جاتا ہے تو اس میں مندرجہ ذیل خوبیاں نظر آتی ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور حاکمیت کا قیام: نبی کریمﷺ کی قائم کردہ ریاست مدینہ بد اعتقادی کے خاتمے کے لیے کوشاں رہی اور بت پرستی، سورج اور چاند کی پرستش، شجر اور حجر پرستی کی بجائے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بندگی کو فروغ دینے کے لیے آپﷺ ساری زندگی کوشاں رہے۔ 2۔ نظام صلوٰۃ کا

Read more

خلائی مخلوق بمقابلہ ضیائی مخلوق

یورپ امریکہ میں رہنے والے لوگ ذہنی ارتقا کے لحاظ سے پاکستان میں رہنے والوں لوگوں سے کہیں آگے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ان سے پوچھا جائے کہ کیا خلائی مخلوق کا کوئی وجود ہے تو وہ نا صرف آپ کو اپنے اس مخلوق پہ یقین ہونے کی سائنسی دلیلیں دیں گے بلکہ خلائی مخلوق کا حلیہ کچھ اس طرح پیش کریں گے کہ خلائی مخلوق کی بڑی بڑی سیاہ بیضوی آنکھیں اور بیضوی سر کے ساتھ پتلا باریک سینہ اور ٹانگیں بھی سینے کے جسامت کے حساب سے بتائیں گے۔

Read more

پاکستانی صحافت کی معراج

معراج عروج سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہی اوپر جانا یا چڑھنا ہیں۔ انسان کو بھی اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی زندگی میں اوپر کی طرف سفر کرے انسان اسی لئے بلندی کے حصول کی تگ و دو میں دن رات ایک کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بنے تقریباً 73 سال ہو چکے اور یہ ریاست چار ستونوں پر کھڑی ہے بلکہ لیٹی ہے۔ اس ریاست میں چار ستون اس

Read more

عمران خان کا خطبہ جمعہ

”نبؐی ہمارے دل میں رہتے ہیں اور دل کا درد جسم کی درد سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ آج 27 ستمبر بروز جمعہ میں نے ایک خطبہ سنا۔ نہ تو یہ جمعہ کی نماز تھی اور نہ ہی کوئی اسلامی تہوار۔ نہ رائیونڈ کا اجتماع تھا اور نہ ہی یوم عاشورہ۔ نہ مسجد تھی اور نہ ہی کسی مسجد کا منبر۔ نہ خطبہ سنانے والا کوئی باریش مولانا تھا اور نہ ہی اس کے سننے والے سارے مسلمان۔ نہ خطبے

Read more

معافی کا خواستگار شہباز گل

ایک لطیفہ مشہور ہے۔ ”کسی ریاست کا دوسری ریاست سے جھگڑا ہو گیا تو ریاست کے بادشاہ نے ریاست میں جنگ کی تیاری کے لئے قاصد بھیجے۔ ایک قاصد میراثیوں کی بستی میں بھی چلا گیا۔ میراثیوں نے ساری بستی کو اکٹھا کیا اور قاصد کی بات کو بڑے دھیان سے سنا۔ جب قاصد نے بادشاہ کا پیغام سنایا تو میراثیوں کے سر پنچ نے ریاستی قاصد سے کہا ’سرکار جے گل ساڈے تک پہنچ گئی اے تے فیر بادشاہ

Read more

ڈیجیٹل گھگو گھوڑے

گذشتہ ہفتے نجی ٹیلی وژن سے منسوب ایک معروف میزبان اور کالم نگار کا کالم پڑھا جس میں ”گھگو گھوڑوں“ کا تفصیلاً ذکر کیا گیا اور ان کی اقسام بیان کی گئی۔ جو کہ بعد میں سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث آیا۔ وہ ایک سراسر سیاسی کالم تھا جس میں مضبوط اداروں کے خلاف گھسی پٹی ہرزہ رسائی کی گئی اور کالم کو بھرپور سیاسی رنگ دے کر حتی کہ سیاست دانوں کے باقاعدہ نام لے کر تحریر کو آراستہ کیا گیا لیکن کالم کی آخری سطر پر ”مخصوص“ پاکستانی صحافتی انداز میں لکھ دیا گیا ”یہ تحریر سیاسی نہی ہے کوئی بھی مماثلت اتفاقیہ ہو گی“۔ میں ذاتی طور پر کالم نگار کا بہت بڑا پرستار ہوں۔ اور ان کے تجزیے اور سورس آف نیوز اور علم سے بھی متاثر ہوں لیکن ان کا یہ کالم پڑھ کر مجھے ان کے بارے میں اپنی رائے کو نظرِ ثانی کرنی پڑی اس کی کچھ وجوھات پیشِ خدمت ہیں۔

Read more

میٹرو بیس: جھلا کی لبھدا پِھرے

ویسٹ منسٹر برج لندن کے دریائے ٹیمز کے اوپر سے گزرنے والے 33 پلوں میں سے ایک پُل ہے۔ اور اسے مرکزی پل کی حیثیت بھی اختیار ہے کیونکہ بگ بین اس پل پر ہی واقع ہے۔ اگر آپ بگ بین (لندن پارلیمنٹ ہاؤس) کی طرف سے ایلیفنٹ اینڈ کاسل کی طرف پیدل سفر کریں تو پُل کے اختتام سے پہلے بائیں ہاتھ پر آپ کو سفید رنگ کے دو شیروں کے مجسمے نظر آتے ہیں اور ان مجسموں کے

Read more

یورپ میں آباد پاکستانی اور بکسہ سسرالی

یورپ میں ہر انسان کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں دینا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ دھائیوں سے یورپ میں رہنے والے پاکستانی بھی اکثرمقامی قانون سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ پیسے کے حصول کے لئے بلاوجہ انتھک محنت ہے۔ عمومی طور پر یہ سطحی یورپین پاکستانی یورپ میں بدحالی کا شکار ہوتے ہیں اور سال میں ایک دفعہ کپڑے خریدتے ہیں اور وہ بھی فروری کی سیل میں سردیوں کے اور نومبر کی سیل

Read more