کچرے سے چلی بات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی دنوں سے خبروں میں تواتر کے ساتھ کراچی کے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے ہونے والے اقدامات کی بازگشت سنائی جارہی تھی۔ بہت دن سے ذہن میں یہ موضوع کلبلا رہا تھا کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔ پھر کچھ دوستوں نے بہت طعنے دیے کہ ”اجی جس شہر میں رہتی ہیں اس کا بھی کچھ حق ہے کہ نہیں۔“ اور کچھ ظالموں نے تو یہ طعنے تک دے ڈالے کہ ”مانا کہ آپ چھاؤنی کے صاف ستھرے، ڈسپلن والے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ اس لیے سویلینز کا دکھ آپ سمجھ ہی نہیں سکتیں۔“

سچ پوچھیں تو ان باتوں کو ہم کراچی والوں کی بہترین حس ظرافت سمجھ کر لطف ہی لیتے رہے۔ کیوں کہ ہم گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے کو زیادہ فرحت بخش محسوس کرتے ہیں اور شہر کے ہنگاموں سے خود کو بہت پرے رکھے ہوئے ہیں۔

لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہمارے دل میں اس شہر کا درد نہیں۔ روزانہ خبروں کی زینت بنے کچرے کو غور سے دیکھنے کی تاب ہماری آنکھوں میں نہیں کیوں کہ ہم ایک نفسیاتی بیماری ”صفائی کا فوبیا“ کا شکار ہیں۔ اسی سبب ہم کچرے کی تصویر بھی نہیں دیکھ سکتے کجا کہ براہ راست اس عمل کا جائزہ لینا۔

کراچی شہر کی تاریخ سے تو زیادہ تر عوام الناس واقف ہیں۔ کب قائم ہوا، کیسے قائم ہوا، پرانا نام کیا ہے، نیا نام کیسے پڑا۔ مگر کراچی کے دکھوں سے باقی پاکستان کے لوگ کم ہی واقف ہیں اور کچھ جانتے بوجھتے انجان بنے بیٹھے ہیں۔

سمندر والا شہر اور سمندر جیسے دکھ۔ بڑے شہروں کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کی آبادی تو زیادہ ہوتی ہے اور اسی حساب سے ان کی ضروریات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ اور اگر صحیح اور مخلص لوگ نہ ملیں تو ان شہروں کے مسائل بوتل سے نکلے ہوئے جن کی طرح بے قابو ہو جاتے ہیں۔

کراچی شہر کے دعوے دار تو بہت سے پتلی تماشے کے ماہر بنے۔ مگر اسے اپنا حصہ سمجھ کر گلے سے لگانے والا نہ کل کوئی تھا نہ آج کوئی ہے۔ سیاسی میدان میں بھی یہ شہر یتیمی کا شکار رہا۔ اورجذباتی طور پر بھی یہاں کے اکثریتی باسی یتیم ہی رہے۔ شروع زمانے میں ہندوستان سے ہجرت کرکے آ نے کے باعث عرصہ دراز تک ہندوستانی کہلاتے رہے۔ کسی نے ایک بار بھی نہ سوچا کہ ہندوستان ہی کو تو چھوڑ کر آئے ہیں پاکستان کی محبت میں۔

پھر سر پھٹول کے بعد ایم کیو ایم بنی تو ایک درجہ ترقی پا کر مہاجر کہلائے۔ پھر جب یہ محسوس کیاگیا کہ لو جی یہ شہر تو ایک ہی مخصوص کمیونٹی کا ہو کر رہ جائے گا۔ اتنے زیادہ وسائل اور بندرگاہوں کے شہر کو ایسی اکثریت کے حوالے نہیں کیا جا سکتا جس کی وفاداری مشکوک ہو۔ جرم بے خطا اسے کہتے ہیں۔

بس جناب پھر پہلے یہ فرمان سامنے آئے کہ جناب کابل اور قندھار سے زیادہ پختون کراچی میں ہیں۔ یہ صورت حال بڑھتی محسوس ہوئی تو نعرہ ہائے مستانہ بلند ہوا کہ کراچی سندھ ہے۔ اور پھر یہاں کی اکثریت پناہ گزین کہلائی گئی۔ بھوکے ننگے لٹے پٹے لوگ جنہیں ہندوؤں نے مار مار کر بھگایا ان کو سندھ دھرتی اور اس دھرتی کے عظیم خاندان جو یہاں کا پشت در پشت حکمران ہے نے پناہ دی ان کو روٹی اور کپڑا دیا۔

بھئی بہت ہی اعلیٰ ایک ہی شہر کے ایسے ایسے رنگ شاید ہی کہیں اور ممکن ہوں۔ وہ سارے اصول جو باقی صوبوں اور شہروں پر با آسانی لاگو ہو سکتے ہیں کراچی پر نہیں ہو سکتے۔ جیسے صوبوں کے اختیارات سوائے کراچی پر ان کا اطلاق مشکل ہو جاتا ہے۔ ریونیو تو کراچی سے ہی چاہیے لیکن جب لگانے کی باری آئے تو اختیارات وڈیروں کے۔

بلدیاتی نظام باقی ملک میں مضبوط لیکن کراچی میں تو دل چاہتا ہے کہ اس بلدیہ عظمیٰ کو سرے سے نیست ونابود ہی کر دیا جائے۔

چاہے مخالفین کتنا ہی برا بھلا کہیں پرویز مشرف کو لیکن کبھی کوئی کراچی سے جا کر پوچھے تو کراچی والوں کے دل سے شکریہ ہی نکلے گا کہ وہ چند سال جو انہوں نے گزارے کراچی کے لیے بہت شاندار تھے۔ لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ پرو اسٹیبلیشمنٹ ہونے کا ہمیں اس پر فخر ہے کیونکہ کسی طرح بھی سہی وہ لوگ کام کروانے کے فن میں بلا کی مہارت رکھتے ہیں۔ اور اڑیل بیل کو بھی سیدھا کرنا جانتے ہیں۔ اور عوام صرف یہی چاہتے ہیں کہ ان کے کام کیے جائیں۔ ان کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ پانی، بجلی، گیس، صفائی ستھرائی، صحت، امن وامان، روزگار۔

بس اس سے زیادہ ایک عام آدمی کی ڈیمانڈ کچھ نہیں ہوتی۔ آپ انہیں ایمان داری سے یہ سہولیات دیں، وہ دل سے آپ کی تکریم کریں گے چاہے آپ کوئی بھی زبان بولتے ہوں، خواہ آپ کی قومیت کچھ بھی ہو۔ پھر چاہے آپ سیاست دان ہوں یا فوجی۔

جمہوریت، ووٹ، اظہاررائے، میڈیا کی آزادی، سویلین بالادستی، ووٹ کو عزت دو، مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں یہ سب چونچلے وہاں اچھے لگتے ہیں جہاں بقائے باہمی کے تحت کام کیا جاتا ہو۔ جہاں عوام الناس کو بنیادی انسانی سہولیات فراہم کی جائیں۔ جہاں کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے باہم دست وگریباں ہونے والی سو کالڈ جمہوری حکومتیں ہوں، وہاں کیسی سیاست اور کہاں کی جمہوریت۔

تو جناب یہ تو ہونا ہی تھا اسی لیے ہم اس کچرا موضوع کی طرف آنے سے اجتناب برتتے تھے کہ کہیں کسی کا کچرا ہی نہ کر بیٹھیں۔ مگر یہاں بھی مالکوں کی اپنی نا اہلیاں ہی ان کے آگے آئیں۔ جب کام نہیں کروگے تو کوئی تو کرے گا کب تک لوگوں کو مکھیوں، بیماریوں، اور کچرے کے ڈھیر پر بٹھا کر رکھنے کاعمل برداشت کیا جائے گا۔

اب اگر فروغ نسیم آرٹیکل 149 کی بات کریں تو وڈیروں کی چیخیں نکل گئیں۔ بات پہنچی تیری جوانی تک والا معاملہ کر بیٹھے۔ سندھو دیش، سرائیکی دیش، آزاد بلوچستان کے نعرے لگا دیے۔ ارے کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔ کوئی اخلاقیات ہوتی ہیں۔

بات کچرے سے چلی اور دھینگامشتی کرتی ہوئی آرٹیکل سے ہوتی ہوئی سندھو دیش پر آ گئی دیکھیں کہاں تک جاتی ہے۔ ویسے 149 بہترہے 111 سے۔ عددی تجزیہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •