میت کے گھر میں صحافی تاثرات کیوں پوچھتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”یہ خبر فلاں چینل نے نشر کی ہے ہمارے پاس کیوں نہیں؟“ یہ ہر دوسرے نیوز چینل میں بیٹھے ایک ایسے اعلیٰ افسر کا جملہ ہوتا ہے جسے مالکان سیاہ و سفید کا مالک بنادیتے ہیں۔ چاہے وہ خبر تصدیق شدہ ہو یا نہ ہو لیکن بیچارے مجبور صحافیوں کو نوکری بچانے کے لیے اس خبر کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔ اس پر ستم یہ ہوتا ہے کہ غیر تصدیق شدہ خبر دیر سے دینے پر اس سے اپنے سے بڑے تمام افسروں کو سارا دن وضاحتیں بھی دینا پڑتی ہیں۔

یہی نہیں بلکہ کسی کے گھر میں صف ماتم بچھی ہو، لوگوں کے پیارے کسی حادثے یا ناگہانی موت کا شکار ہوں تو یہ سیاہ و سفید کے مالک اتنی بے حسی دکھاتے ہیں کہ ان کے انسان نہیں بلکہ روبوٹ ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ کسی کا بچہ تالاب میں ڈوب کر مرجائے، کوئی ڈکیتی مزاحمت پر نشانہ بنے یا پھر کوئی ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں دنیا سے چلا جائے۔ ان خبروں پر یہ بے حس افسر فوراً حرکت میں آتے ہیں۔

یہ نمائندوں کو کہتے ہیں کہ مرنے والوں کے پیاروں کے آگے مائیک جاکے رکھو۔ اور ان سے پوچھو کہ ان کے اپنے جان سے گئے ہیں۔ اس پر ان کے کیا تاثرات ہیں؟ کسی کے گھر میت ہو اور آپ اس کے خیالات دنیا تک پہنچانے کے لیے سب سے پہلے کی دوڑ میں شامل ہوجائیں، یہ کہاں کی انسانیت ہے؟ جن کے گھر کوئی مرجاتا ہے کوئی ان سے ان کے دل کی حالت پوچھے۔ ایک قیامت ہوتی ہے لیکن ان بڑے افسروں کو تو بس ”ساٹ“ چاہیے ہوتا ہے۔ اگر کوئی صحافی مرنے والوں کے ورثا کا ساٹ لے آئے واہ واہ سمیٹتا ہے۔

اور جو نہ لے کر آئے۔ اس کے حصے میں لعن طعن آتی ہے۔ یا پھر کبھی کبھی تو نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ہم نے جو نصاب میں پڑھا ہے۔ نیوز چینلز کی دنیا اس سے یکسر مختلف ہے۔ کیا ہمارے اساتذہ نے جو صحافی اقدار پڑھائے ہیں وہ غلط ہیں؟ یا شاید ہر چینل ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں صحافتی اصولوں کو بھول بیٹھا ہے۔ کچھ دن قبل کراچی میں بارش ہوئی تو ہر چینل کو سب سے پہلے کی فکر ستارہی تھی۔

کئی علاقوں سے برسات کا پانی صاف ہوچکا تھا لیکن میڈیا صرف تصویر کا ایک رُخ دکھارہا تھا۔ اور وہ منفی رخ تھا۔ صحافیوں کو کہا جاتا ہے کہ آپ جاکر شہر میں بارش کا پانی تلاش کرو۔ اور دنیا کو صرف منفی رخ دکھاؤ۔ مثبت رخ سے آنکھیں پھیرلینا۔ ایسے میں اگر کوئی نمائندہ آکر کہے کہ اس بار بہت مشینری نے بہت جلد ہی اہم شاہراؤں سے برساتی پانی نکال لیا تھا۔ اس پر بھی اسے کہا جاتا کہ کچھ بھی کرو کہیں سے بھی برسات کا پانی تلاش کرو اور رپورٹنگ کرو۔ ایسے میں صحافیوں کو بڑے افسروں کی ہاں میں ہاں ملانی ہوتی ہے۔ نوکری جو بچانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مومل منظور کی دیگر تحریریں
مومل منظور کی دیگر تحریریں