تعلیم اور کیرئیر کے انتخاب کے لئے چند مشورے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسم گرما کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ میڑک اور انٹر میڈیٹ کے امتحان سے فارغ التحصیل طلباء کالجز اور یونیورسٹیزمیں داخلہ لینے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اچھے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے والدین کی جانب سے بچوں کومیڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبہ جات میں داخلہ دلوانے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے جبکہ ان کی امیدوں اور خوابوں کو پورا کر نے کے لیے پرائیوٹ کالجز کی جانب سے تحریک بھی اپنے عروج پر ہے۔ علم کے یہ بیوپاری شہر شہر گاؤں گاؤں اپنا چورن بیچنے میں مصروف عمل ہیں۔

پاکستان میں میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد والدین اور طلباء کی مناسب رہنمائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تعلیمی اداروں کے علاوہ باقی درسگاہوں میں کونسلرز کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ تعلیمی کیرئیر شروع کرنے سے قبل مناسب رہنمائی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے طالب علم کی ترجیحات کا باآسانی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ کیرئیر کونسلنگ کی سہولیات شہری علاقوں میں تو باآسانی حاصل ہو جاتی ہیں لیکن دوردراز کے گاؤں میں رہنے والوں کے لیے سائنسی بنیادوں پر رہنمائی حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس لیے چند رہنماء اصولوں کو زیر بحث لاؤں گا جن پر عمل کرتے ہوئے طلباء یا والدین خود بھی کسی بھی شعبے کا چناؤ کر سکتے ہیں۔

کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے سے قبل والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کی ذہنی صلاحیتوں کا بھرپور جائزہ لیں۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے آئی کیو ٹیسٹ آسان حل ہے، جس کی مدد سے ذہنی صلاحیتوں کو سائنسی بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کے حوالے سے زعم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے بچوں کی صلاحیتوں کا مکمل ادراک ہوتا ہے۔ والدین کا اس معاملے میں خود کو دھوکے میں رکھنے کے بجائے حقیقت پسند ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اکثر والدین اپنی اولاد کو دیگر بچوں سے ممتاز رکھنے کے لیے ڈھینگیں مارتے رہتے ہیں جس کے بچوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

شعبہ تعلیم کے انتخاب سے قبل طالب علم کی ذاتی دلچسپی کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ جیسا کہ تحریر کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے کہ والدین اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے زور وزبردستی سے مختلف شعبوں کا انتخاب کرواتے ہیں۔ والدین کی جانب سے بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے کئی منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔ میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلہ لینے والے کئی بچے ذہنی دباؤ کے باعث تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے پاتے اور ناکامی کی صورت میں خودکشی سمیت دیگر کئی جرائم کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ تعلیمی کیریئر کے انتخاب میں طلباء کے شوق، مرضی اوردلچسپی کا خیال رکھنا چاہیے، ورنہ ان کی تمام محنت ضائع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ معاشرے میں کئی افرادروپے کی ریل پیل ہونے کے باوجود بھی بے سکونی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ خوشی کا تعلق روپے سے نہیں بلکہ ذہنی سکون سے ہے۔

ہر گاؤں یا محلے میں کئی ایسے خاندان ہیں جن کی کوشش صرف اور صرف اپنے بچوں کوڈاکٹر بنانے کی ہوتی ہے۔ ہر سال پاکستان بھر سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے امتحانات دیتے ہیں جبکہ سرکاری میڈیکل کالجز میں سیٹوں کی تعدادانتہائی محدود ہے۔ والدین اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے ہر حد تک جانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب سرکاری کالجز میں داخلہ نہیں ملتا تو پرائیوٹ اداروں کا رخ کر لیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ڈاکٹر بننے کے بعد لاکھو ں روپے تنخواہ ہوتی ہے اس لیے جذبات، خواہشات کے ساتھ ساتھ ظاہری رعب و دبدبہ رقرار رکھنے میں قرضوں کا سہارا لیا جاتا ہے، یہ کاوشیں بعد میں سنگین مسائل کا باعث بنتی ہیں۔ واضح رہے میڈیکل کے شعبے میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی اتنی ہی محنت کی ضرورت ہوتی ہے جتنی کے کسی دیگر شعبے میں۔ اس لیے خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر حقیقت پسندی کو اپنائیے اور اپنے یا اپنے بچے کے لیے کسی بھی کورس کا انتخاب کرتے وقت معاشی حالات کو مدِ نظر رکھیے۔

ہمارے ہاں اکثر طالب علموں اور ان کے والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت کون کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر میرے ایک عزیز کوانٹرمیڈیٹ میں داخلہ لینے کے 5 ماہ بعد معلوم ہوا کہ اس کے مضامین کون سے ہیں اور مستقبل میں اس کی کیا افادیت ہے۔ عام طور پر ایف ایس سی میں دو شعبوں (میڈیکل اور انجینئرنگ ) کی جانب رجحان پایا جاتا ہے۔ شعبہ سائنس میں داخلہ لینے کے خواہشمند افراددیگر مضامین سے تقریباًلاعلم ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں تعلیم کا مقصد ایسے معاشرے کا قیام ہے جہا ں ہر فرد احسن طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دے سکے۔ ہر شخص کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور وہ اپنے ہر معاشرے کی بہتری کے لیے تگ و دو کرے لیکن پاکستانی معاشرے میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کا مقصد سرکاری نوکری کا حصول ہے کیونکہ کام کا بوجھ نہیں ہوتا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن بھی وصول ہوتی رہتی ہے۔ مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلباء کا پورا دھیان اپنا کاروبار شروع کرنے کی جانب ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں تعلیم سے فارغ التحصیل نوجوان سارا وقت انٹرنیٹ پر نوکریوں کی تلاش اور حکومت کو کوسنے میں گزار دیتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں نوجوان نسل کے لیے نوکری کا حصول سب سے زیادہ پریشان کن صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کے لیے ہر شہر میں کئی سرکاری کالجز ٹیکنیکل ایجوکیشن پر بھی کام کر رہے ہیں جہاں پر طلباء کو سائنسی بنیادوں پر روزمرہ زندگی کے کام سرانجام دینے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اگر والدین دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو ٹیکنیکل تعلیم کی جانب راغب کریں تو باعزت روزگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں درپیش دیگر کئی مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

پاکستانی قوم کا المیہ ہے کہ اگر کوئی نیا شعبہ متعارف کروایا جاتا ہے تو کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی لیکن اگر کسی عزیز کی اولاد کو اسی شعبے میں کامیابی ملتی ہے تو پورے خاندان کا جھکاؤ اسی جانب ہو جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی جانب سے مختلف شعبوں میں طلباء کا بیلنس رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے اس سے بے روزگاری کی شرح میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ شعبہ تعلیم کے انتخاب سے قبل والدین اور طلباء کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحتیوں، مالی وسائل اور ترجیحات کو مدنظر رکھیں تاکہ مستقبل میں کوئی دشواری پیش نہ آئے تو طالب علم باآسانی اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا جاری رکھ بہتر روزگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •