جب جون ایلیا اور مولانا فضل الرحمان میں تلخ کلامی ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جون ایلیا کی شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں انہیں آپ فلسفی کہیں یا شاعر یہ آپ کا اپنا انتخاب ہوگا مگر مجھ جیسے کئی لوگوں کے وہ مرشد ہیں، وہ ایک ایسا واحد شخص تھا جس نے اپنی ناکامیوں کو کھل کر بتایا اور اُن پر فخر بھی کیا۔

جون کی زندگی کے کئی واقعات مشہور ہیں، جن لوگوں کو اُن کے ساتھ بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا اُن سے اگر آپ پوچھیں تو وہ بتاتے بھی ہیں، مردار معاشرے میں اپنی ناکامیوں سے زندہ رہنے والے جون کا ایک ایسا واقعہ ہے جو بنفس نفیس مولانا فضل الرحمان سے ہوا۔

”شاعر حسن رضوی مرحوم کا تعلق جنگ گروپ سے تھا اور وہ مذاکرہ وغیرہ کرواتے تھے، انہوں نے 96 یا 97 میں جون ایلیا کے شیڈول کو دیکھتے ہوئے ادب اور مذہب کے نام پر ایک مذاکرے کا پروگرام ترتیب دیا جس کا عنوان “ادب اور مذہب ” تھا، اس میں مولانا فضل الرحمان بھی شریک تھے، تقریب میں اسلحہ بردار لوگ بھی موجود تھے جو اگلی نشستوں پر براجمان تھے، جون انہیں دیکھ کر کڑھ  رہے تھے“۔

”مولانا فضل الرحمان اپنے مسلح محافظوں کے ساتھ ہال میں تشریف لائے، تقریب کا باقاعدہ آغاز ہونے سے قبل مائیک ٹھیک ہو رہا تھا تو ہماری آپس میں باتیں شروع ہوئیں، انہوں نے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات کی جس کو سُن کر جون ایلیا بری طرح سے چڑ گئے“۔

”جون نے جواب دیا کہ اسلام تو میرے گھر کا مسئلہ ہے، میں نواسہ رسول ﷺ ہوں، میں اگر ہوتا اُس زمانے میں تو ہماری عمر 16، 17 سال ہوتی اور اسی طرح آوارہ گردی کرتے، جب پیسے ختم ہوجاتے تو وہاں جو ہماری اماں ہوتیں“ عائشہ ”ہم اُن کے پلّو سے پیسے نکالتے، اگر انہیں معلوم بھی ہوتا تو ہمیں وہ مارتیں، مگر مولانا آپ گھر میں داخل نہیں ہوسکتے تھے“۔

مولانا فضل الرحمان جون کی بات سُن کر غصے سے بھر گئے، حسن رضوی نے موقع کی نزاکت دیکھ کر پروگرام کو منسوخ کیا کیونکہ اگر یہ تقریب ہوتی تو شاید بہت کچھ عجیب ہوسکتا تھا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگار ذکا الرحمان بتاتے ہیں کہ جون ایلیا سن 1996 یا 1997 میں اُن کے پاس پہنچے، کئی لوگ ملنے آئے، وہیں فرحت عباس شاہ سے بھی اُن کے توسط سے ملاقات ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •