ملالہ یوسف زئی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے بارے میں حقائق سامنے لے آئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں ، انسانی حقوق کے وکلا اور طلبہ سے رابطے کیے اور حقیقی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے تین طالبات کی کہانی بیان کی ہے اور مقبوضہ وادی میں جاری مظالم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے امن کیلئے قدم اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے ٹوئٹر پر بتایا کہ گزشتہ ہفے کا زیادہ تر وقت انہوں نے کشمیر میں رہنے والے لوگوں سے رابطے کرنے میں گزارا ، ان لوگوں میں صحافی، انسانی حقوق کے وکلا اور طلبہ شامل ہیں۔ ’میں براہ راست کشمیر میں رہنے والی لڑکیوں سے بات کرنا چاہتی تھی اور کمیونیکیشن بلیک آﺅٹ کی وجہ سے اس مقصد میں بہت سے لوگوں کو بہت سا کام کرنا پڑا، اس وقت کشمیریوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے اور ان کی آواز کوئی نہیں سن سکتا۔‘

ملالہ یوسفزئی نے مقبوضہ کشمیر کی تین طالبات کی کہانی بیان کی ۔ ایک لڑکی نے ملالہ کو بتایا ’ اس وقت کشمیر کی صورتحال بتانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ مکمل خاموشی اختیار کرلیں۔ ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے اور اس کا حل کیا ہے، ہم صرف اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے فوجیوں کے بوٹوں کی آوازیں سن سکتے ہیں اور یہ بہت ہی ڈراﺅنی ہیں۔‘

ایک اور طالبہ نے ملالہ یوسفزئی کو بتایا کہ ’ میں سکول نہیں جاسکتی جس کے باعث مجھے اپنی زندگی بے معنی لگتی ہے اور میں شدید ذہنی تناﺅ کا شکار ہوں، میں 12 اگست کو ہونے والے امتحان میں شرکت نہیں کرسکی جس کے باعث مجھے اپنا مستقبل غیر محفوظ لگتا ہے، میں بڑی ہو کر لکھاری بننا چاہتی ہوں اور ایک آازد اور کامیاب کشمیری خاتون کے طور پر اپنی پہچان بنانا چاہتی ہوں لیکن موجودہ صورتحال کے باعث یہ مزید مشکل لگ رہا ہے۔‘

ایک اور کشمیری لڑکی نے نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ کو بتایا ’ جو لوگ ہمارے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اس کے باعث ہماری امیدیں برقرار ہیں، میں مدت سے اس گھڑی کا انتظار کر رہی ہوں جب کشمیر دہائیوں سے جاری اس المیے سے آزاد ہوگا۔‘

ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ انہیں کشمیر سے 4 ہزار لوگوں کو گرفتار کیے جانے کی خبروں پر تشویش ہے ، ’مجھے ان بچوں کے بارے میں بھی تشویش ہے جنہیں جیلوں میں بند کردیا گیا ہے، ان طلبہ کیلئے بھی پریشان ہوں جو گزشتہ 40 روز سے سکولوں میں نہیں جاسکے اور ان لڑکیوں کیلئے بھی تشویش ہے جو اپنے گھر سے باہر نکلنے پر خوفزدہ ہیں۔‘

ملالہ یوسفزئی نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں قیام امن کیلئے کام کریں ، کشمیری لوگوں کی آواز سنیں اور بچوں کو حفاظت کے ساتھ سکول پہنچانے میں مدد کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •