اعلیٰ عدلیہ سے آنے والی خبر، حکومت کے لئے بد شگونی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افتخار عارف ایک مرتبہ شاید ایک عجیب سی گھڑی میں الجھ گئے تھے۔

عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑ میں پڑی تھی

گر پڑی تھی یا کسی نے اٹھا کر پھینک دی تھی۔

بالکل ہماری سبز کتاب کی طرح جس پر اکثر عنان اقتدار پر مسلط، ملک کو ضیا بخشنے کے دعویٰ دار ”اپریشن فئیر پلے“ کھیلتے کھیلتے اتنا کیچڑ ملتے رہے ہیں کہ اصل معانی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے تھے۔ اب انوکھے لاڈلے نے اسی کتاب میں سے صرف ایک ہی قرطاس کو قابل عزت سمجھا ہے، وہی صفحہ جس پر پاکستانی طاقت کے سارے منبع اکٹھے رونق افروزہیں۔ اس صفحہ کے دوسری طرف صرف ایک ہی نعرہ درج ہے، ”احتساب۔“ ان کا حرف مدعا اسی ایک مرکز ثقل کے گرد ہی گھومتا ہے۔ سال گزر گیا، قوم کو اسی ایک لٹو پر بٹھا کر گھمایا جا رہا ہے۔

راولپنڈی میں ایک گنجان آباد لیکن صاف ستھرا قدیم علاقہ ہے، جسے ”لاٹو محلہ“ کہتے ہیں، اس محلہ میں لٹو تیار ہوتے رہے ہیں۔ لکڑی کے، پتھر کے، مختلف سائزوں کے، رنگ برنگے۔ مملکت خداداد میں جب یہ کام بڑھ گیاتو راولپنڈی کا یہ محلہ بازار بن گیا اوربہت سے قیمتی ہیرے، پورے ملک سے، خود ہی ادھر آکر لٹو ہونا شروع ہو گئے اور ماہر کھلاڑی ان کو چابک مار مار کر تیزی سے گھماتے رہے۔ یہ کھیل بڑا صبر طلب ہے۔ دل کھلا اور دماغ حاضر رکھ کر اونچی نیچی راہوں سے بچ بچا کر گھومنا یا گھمانا پڑتا ہے۔ اس کھیل پر بھی ذوق کا مصرع لاگو ہو سکتا ہے۔

طریق عشق جدا ہے جہاں سے

لیکن اب دور بدل گیا ہے۔ طرح طرح کے لٹو ختم، صرف ایک ہی قسم اور رنگ کاضروری ہے۔ احتساب کے رنگ کالٹو۔ یہ رنگ ایسا چڑھایا گیا کہ دوسرے سب رنگ الجھ گئے، بکھر گئے۔ اور بکھر کر بدصورت ہوتے چلے گئے۔ اب چابک والے، مار مار کے، خود تھک کر چور ہو چکے ہیں۔ چابک کی ڈوری بھی ٹوٹنا شروع ہو گئی اور اس کے دھاگے معیشت کی طرح الجھنا شروع ہو گئے۔ وزارت خزانہ کا ٹائٹینک اسد عمر کو تو ساتھ لے کر ڈوبا ہی تھا، ایک سال میں اقتصادیات کا منظر ایسا گنجلک ہو چکا ہے کہ عالمی منڈی سے لائے گئے باقر اور شیخ جیسے کینڈے کے لوگ بھی بوکھلائے نظر آتے ہیں۔

جب مختلف رنگ الجھتے ہیں تو کالا رنگ بنتا ہے۔ کالا رنگ جو روشنی جذب کرلیتا ہے اور اندھیرے بڑھتے جاتے ہیں۔ اب یہی اندھیرا ہر طرف پھیل رہا ہے، کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ وعدہ و دعویٰ سب الجھ گئے ہیں۔ یو ٹرن شروع ہوئے تھے اور جاری ہیں، آرزو یں اور امید یں بھی ختم ہوگئی ہیں۔ ٖفیض صاحب ایسے موقع پر بہت یاد آتے ہیں۔

وہ تیرگی ہے راہ بتاں میں، چراغ رخ ہے نہ شمع وعدہ
کرن کوئی آرزو کی لاؤکہ بام و در سب بجھے بجھے ہیں۔

امید کی کرن تو کوئی دکھائی نہیں دیتی۔ اب کشمیر کی آگ بڑھکا کر کچھ دیر کے لئے راستہ کھوٹا کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام آباد کی طرف کشمیر کمیٹی کے سابق سربراہ کے بڑھتے قدموں کو پابند سلاسل کیا جا سکے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ مشکل حالات میں حکمرانی کے شب و روز تمکین و ضبط سے گزارتے اور صرف کام پر توجہ دے کر نا ا میدی اور بے یقینی کی کیفیت دور کرتے۔ ملکی معیشت سنبھالنے پرتوجہ دیتے۔ کچھ بھی نہ کر سکے۔ اب دفتر اور کابینہ سے بھی نا امید ہو گئے ہیں اور چھٹی نہ کرنے والے، کام کام اور صرف کام کا نعرہ لگانے والے، آفس بھی دیر سے آتے ہیں۔

ساتھی بھی نا امید ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ میں متمکن موجود ہ بندوبست کے بڑے حامیوں نے بھی احتساب کو انتقام کا ہم معنی کہنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک نئی بد شگونی ہے۔

آئیے افتخار عارف کی نظم ”بد شگونی“ کے کچھ اور اشعار پڑھیں۔

نئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظروں سے کٹ گیا ہوں
نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں
صلہ جزا خوف نا امیدی
امید امکان بے یقینی
ہزار خانوں میں بٹ گیا ہوں
اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے، یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •