شہباز شریف ۔  فضل الرحمن ملاقات میں اہم نکات پر اتفاق ہو گیا


پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے درمیان اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف آزادی مارچ کے حوالے سے اہم نکات پر اتفاق ہو گیا۔ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کا اعلان مشترکہ طور پر کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کے بعد جے یو آئی کے رہنماؤں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ جے یو آئی اور مسلم لیگ ن میں مکمل یکجہتی ہے۔ حکومت ملک کے لئے معاشی خطرہ بن چکی ہے۔ حکومت کا مزید اقتدار میں رہنا خطرناک ہو گا۔ مہنگائی کی سطح بیس سال میں سب سے زیادہ ہے۔ ہمارے دور میں پولیو ختم ہونے کے قریب آ گیا تھا مگر اب پولیسو کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ گورننس کے بدترین بحران کے باعث دنیا پاکستان سے متعلق فکر مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی طاہر القادری کی طرح سیاست چھوڑنے کا آبرو مندانہ فیصلہ کریں۔ 30 ستمبر کو ن لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔ جے یو آئی اور ن لیگ مشترکہ طور پر آزادی مارچ کا اعلان کریں گے۔

اکرم خان درانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہبازشریف کی دعوت پر ملنے آئے تھے۔ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے پاس بھی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں ن لیگ کی شرکت سے متعلق شکوک وشبہات دور ہوگئے ہیں۔ ہم مل کر آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ بار کونسل اور تاجر بھی ہمارا ساتھ دیں گے۔ مسلم لیگ کی سی ای سی کے اجلاس میں دونو ں پارٹیاں مل کر فیصلہ کریں گی۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف کی ملاقات میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے علاوہ راجہ ظفر الحق، احسن اقبال، سردارایاز صادق، انجینئرخرم دستگیر، چوہدری برجیس طاہر، رانا تنویرحسین اور مریم اورنگزیب شریک ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن کے وفد میں اکرم خان درانی۔ مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا اسعد محمود، مولانا محمد امجد خان اور دیگر رہنما شامل تھے۔ ملاقات میں آزادی مارچ کے ممکنہ شیڈول پر بھی مشاورت ہوئی۔ جمعیت علماء اسلام (ف) 18 ستمبر کو مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں تاریخ کا اعلان کر دے گی۔ مسلم لیگ ن سے اس بارے میں مشاورت کر لی گئی ہے۔ ستمبر کے تیسرے ہفتے میں آل پارٹیز کانفرنس کا بھی امکان ہے۔ اگلے مرحلے میں مولانا فضل الرحمن بلاول بھٹو زرداری سے ملیں گےاور رواں ماہ کے آخر تک اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں کی مشاورت سے آزادی مارچ کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

Facebook Comments HS