انسان خطا کا پُتلا ہے اور باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے


یہ دو ضرب الا امثال ہیں۔ الگ الگ تو ہم سب نے سنی ہیں۔ ذرا ان کو اکٹھا کر کے ان کے مفہوم کا تجزیہ کیجیے ٔ اور اس اجتماعی نتیجہ کے اثرات کا جائزہ لیجئیے۔ پھر قومی اداروں کی پالیسیوں، ان کی کارکردگی اور دونوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے دور رس نتائج کا جائزہ لیجئیے۔

ارسطو کی منطق کے اصولوں کے مطابق، کوئی دو قضایا (جملے یا بیانات) سے نتیجہ نکلنے کی شرطِ اوؔل یہ ہے کہ دونوں قضایا کے مابین کوئی وجہ مشترک ہو، جس کی بنا پردو قضایا میں کسی نقطہ اتصؔال کی بنیاد پہ نتیجہ اخذ کیا جا سکے۔ مثلاً:

مقدمہ اول: تمام انسان فانی ہیں۔

مقدمہ دوم: احمد ایک انسان ہے۔

۔ نتیجہ: احمد فانی ہے

دونوں قضایا میں قدرِ مشترک ’انسان‘ ہونا ہے۔ اگر ’انسان‘ کی بنیادی خاصیت ’فانی‘ ہونا ہے اور ’احمد‘ کی بنیادی شرط ’انسان‘ ہونا ہے تو ’احمد‘ کی بنیادی صفت ’فانی‘ ہونا بھی لازماً ہو گا۔

اپنی ضرب الامثال کا تجزیہ کیجئے۔

مقدمہ اول: ’انسان خطا کا پُتلا ہے‘ ۔ یعنی ’انسان‘ کا بنیادی وصف ’خطا‘ کا پُتلا ہونا ہے۔

مقدمہ دوم: ’باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے‘ ۔ یعنی ’باس‘ کی بنیادی خاصیت ہمیشہ ’ٹھیک‘ ہونا ہے۔

ارسطو کی منطق کے اصولوں کے مطابق، ان دو قضایا سے کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا، کیونکہ دونو قضایا میں کوئی قدرِ مشترک ہے ہی نہیں جو کہ نتیجے کے لئے نقطہ اتصؔال کا کام دے سکے۔

تو ارسطو کی منطق کے مطابق ان دو مقدمات یعنی ’انسان خطا کا پُتلا ہے‘ ۔ اور ’باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے‘ ۔ میں کوئی قدرِ مشترک ہے ہی نہیں۔ لہذا نہ تو ’انسان‘ اور ’باس‘ میں کوئی قدرِ مشترک ہے نہ ہی کوئی استدلال قائم کر کے کوئی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔

اب ذ را فھمِ عامہ کے حوالے سے ان دو مقدمات یا امثال کا تجزیہ کیجئے۔

مقدمہ اول: ’انسان خطا کا پُتلا ہے‘ ۔

مقدمہ دوم: ’باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے‘ ۔

کسی بھی انسانی ذ ہن میں، ان دو امثال کے اس اجتماعی مفہوم کا سب سے پہلا اور فوری تاثرتو یہی بنتا ہے کہ یا ’تو باس انسان نہیں‘ یا پھر ’باس بھی غلطی کا ارتکاب کر سکتا ہے‘ ۔ (کیونکہ غلطی کرنا انسان ہونے کی شرط اوؔل ہے ) ۔ یا پھر انسان باس نہی ہو سکتا۔ کیونکہ انسان تو خطا کا پُتلا ہے اور باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے۔

اب اپنے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کی ترقی کے حوالے سے ’باس‘ کی حیثیت کا جا ئزہ لیجیے۔ یہ تو طے شدہ امر ہے کہ دونوں شعبوں میں ’باس‘ کی حیثیت ”عالی مرتبت، ما فوق الانسان، عقل کُل“ کی ہوتی ہے جبکہ ادارے کے امور سر انجام دینے والے افراد بالعموم صرف ”غلام، بے عقل، چند کاغذی ٹکڑوں کے حامل، گھریلو تعلقات سے عاری، لطیف احساسات سے ماورا، اغلاط کے مجسمؔے اور نا قابل“ افراد ہوتے ہیں کیونکہ اگر قابل ہوتے تو وہ بھی افسر ہوتے۔ قابل نہیں اسی لئے باس کی سرزنش، بیعزتی و حقارت آمیز جملے سن کر بھی نوکری کرتے رہتے ہیں اور ”باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے“ کو مانتے رہتے ہیں۔

پرائیویٹ اداروں میں کام زیادہ لیا جاتا ہے۔ تنخواہ بھی زیادہ دی جاتی ہے (قابل افسوس کہ سوائے تعلیمی اداروں کے ) ، تنخواہ کا اضافہ بھی کام سے مشروط ہوتا ہے، حالات کے ساتھ نوکری چھوڑی یا تبدیل بھی کی جا سکتی ہے۔ جب کہ سرکاری اداروں میں بھی عام ملازمین کے ساتھ افسران کا رویہؔ ذلت آمیز ہوتا ہے۔ صرف وہی ملازم عزت سے نوکری کر سکتا ہے جس کے سیاسی تعلقات ہوں، یا وہ افسر کی کمائی کا ذریعہ ہو یا افسر کے راز و نیاز کا شریکِ کار ہو۔ اس کے علاوہ تمام افراد بیوقوف، کام چور، اور نا لائق ہوتے ہیں، بُرا ترین ملازم وہ ہے جو اپنے کام سے کام رکھے، افسر کو فرشی سلام نہ پیش کرے، بے جا ستائشِ و تعریف کرنے سے گریز کرے۔

سرکاری اداروں کی انتہائی ناقص کارکردگی کی بنیاد بھی یہی رویؔہ ہے۔ افسر کی خوش نودی کے حامل افراد کام نہیں کرتے۔ ’افسر خوش تے جگ خوش‘ ۔ جن کی سیاسی وابستگیاں ہیں وہ بھی کام سے ماورا ہیں۔ جو بد تمیز ہیں ان سے خود افسر دور رہتے ہیں، جو افراد صرف ٹوہ میں رہتے ہیں وہ بلیک میلنگ کے ذریؔے کام سے دور رہتے ہیں۔ اب کام کرنے والے صرف دو قسم کے افراد باقی رہ جاتے ہیں، اوؔل وہ جو کہ کام کے عوض گفٹ، نذرانے، ڈ نر (جو محض مل بیٹھنے کا بہانہ ہوتا ہے ) یا کچھ چائے پانی لے لیتے ہیں۔

دُوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو کام کرتے ہیں۔ جن کی فطرت میں کام کرنا ہو اور ان کا والی وارث کوئی نہ ہو، نہ سیاسی وابستگی، نہ پیسہ، نہ زمین، نہ افسر کی ستائشِ بے جا، نہ کمائی اور ہو۔ اگر ہو تو بس صرف ذمہ داریوں کے پہاڑ، مجبوریاں اور محرومیاں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن سے سرکاری ادارے چل رہے ہیں۔ مگر ایسے لوگ ہیں ہی کتنے۔ تنخواہ تو لیں سو افراد اور کام کریں چند لوگ۔ اور یہی وہ راندہٗ درگاہ، متعوب لوگ ہیں جو افسر سے ذِلت بھی برداشت کرتے ہیں، دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کی دھمکیاں بھی سہتے ہیں۔ سالانہ خفیہ رپورٹ کی خرابی سے ترقی میں روکاوٹ سے بھی یہی لوگ ڈرتے ہیں۔ ذرا سوچیے، جب سرکاری اداروں میں کام ان حالات میں اور چند مجبور لوگ کر رہے ہوں تو اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ ملک و قوم ترقی کیوں نہی کر رہے جب کہ اسی ملک میں پرا ئیویٹ ادارے کامیاب ہو رہے ہیں۔

تعلیمی اداروں کا احوال بھی مختصراً بیان کرتا چلوں۔ تعلیم کا شعبہ مقدس جانا جاتا ہے، لیکن ہے تو یہ بھی اسی معاشرے کا حصہؔ۔ اگرچہ اس کا کام، اسی معاشرہ میں رہ کر اسی کی تعمیر کرنا ہے لیکن یہی ادارہ اس معاشرے کے زوال کے ذمہ داروں میں بھی ہے۔ اور اس زوال کے بہت سے عوامل میں سے اہم وجہ تعلیمی اداروں کے سربراہان کی ذاتی حیثت بھی ہے۔ یہ سربراہان با العموم اپنی عمر کے آخری سالوں میں ہوتے ہیں۔ اور خود کو جہاں دیدہ گردانتے ہیں۔

اس عمر میں خود گھریلو ذمہ داریوں سے تقریباً فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ گھر میں با العموم تنہائی کی اذیت سے بچنے کے لئے سارا وقت تعلیمی ادارہ میں حاکمِ اعلی کی حیثیت سے گزارنے کے لئے ایسے اقدامات کرتے ہیں کہ نوجوان لیکچرر اور پروفیسر صاحبان کا اک مستقل حلقہ ان کے گِرد جمع رہے، ان کے ہر قدم کی تعریف و ستائش کرتا رہے، اور اس ’حلقہ بازی‘ کے لئے لا تعداد کمیٹیاں بناٰ کر خود ستائشی اور صحبت کے شعوری یا غیر شعوری اقدامات پر زور دیتے ہیں، اس عمل میں وہ یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ ان کے زمانے میں، محض اک ماسٹر ڈگری کافی تھی پر فی زمانہ ایم فل اور ڈاکٹریٹ بھی کافی نہیں، ریسرچ بھی ضروری ہے جس کے لئے وقت اور ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور وقت تو جناب اعلی کی خوش نودی کے حصول میں صرف ہو جائے تو ریسرچ یا علمی بہتری کیسے ہو۔ گورنمنٹ کالجز میں اس تعلیمی زوال اور یونیورسٹی اساتذہ کے مقابلہ میں کالج اساتذہ کی کم علمی اور ریسرچ کے میدان میں صفر کارکردگی کی ذمہ دار، سربراہان کی یہ پالیسیاں بھی ہیں۔

تعلیم کی تباہی میں بھی ’افسر‘ کا خود کو ”ما فوق الانسان اور غلطی سے ماورا“، سمجھ کر اپنی ذاتی پسند و نا پسند، کو ”طلبا اور ادارہ کے بہترین مفاد میں“ قرار دے کر اہلِ علم پروفیسر صاحبان کواپنی علمی مصروفیات سے ہٹا کر اپنی مرضی کے مطابق چلانا، دُوسری صورت میں، ’مس کنڈکٹ‘ ، ’مس بی ہے و‘ ، ’نان کو پرے ٹِو‘ قرار دے کر نوٹس کی دھمکیاں دینا، سالانہ خفیہ رپورٹ خراب کرنا، ادارہ سے ٹرانسفر کی دھمکی دینا، یہ وہ عوامل ہیں جو کالج کے تعلیمی ماحول کی ترقی میں مانع ہیں۔

اگر ہم یہ جان لیں کہ افسر بھی غلطی کا ارتکاب کر سکتا ہے اور افسر بننے سی قبل وہ بھی انسان اور غلطی کا پُتلا تھا اور آئندہ اس کی جگہ جس نے بھی سربراہ بننا ہے وہ آج غلطی کا پتلا سہی، تو کل کا افسر بھی ہیاور ا نسان ہونے کے سبب غلطی وہ بھی کرے گا اور ہمیشہ ٹھیک نہی ہو سکتا تو حالات بہتر ہو سکنے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔

عظیم سربراہ اور لیڈر وہ ہوتا ہے جو غلطی اور ناکامی کا ذمہ خود اور اپنی پالیسیوں کو قرار دیتا ہے اور کامیابیوں کو اپنے ماتحتوں کی شب و روز محنت کو سمجھتا ہے۔ لیکن من حیث القوم ہمارا کردار یہ ہے کہ غلطی ہو جائے تو ذمہ دار ماتحت ہے، اگر کامیابی نصیب ہو تو اس کا سہرا سربراہ کے سر ہے، یہی وجہ ہے کہ عام انسان ذمہ داریوں سے بچتے ہیں کیونکہ وہ تو صرف خطا کے پُتلے ہیں اور افسران اس لئے افسری اور افسرگردی کی سیٹ کے لئے کوشاں رہتے ہیں کہ کامیابی ملی تو سہرا ان کے سر تو ہے ہی اور ناکامی کی صورت میں الزام ماتحتوں کی ہڈ حرامی کے سر جانا ہے کیونکہ افسر تو ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے۔

صاحبان یہ تو تھیں فلسفیانہ موشگافیاں۔ اور بقولِ غالب۔ اور اپنی دُعا کے ساتھ، :

؎ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئ

Facebook Comments HS