سر برہنہ مائیں رستہ دیکھتی ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج آپریشن کرنے کا دن تھا!

نہ جانے کیوں من چاہ رہا ہے کہ آپ کو ان روز مرہ کی کہانیوں میں شامل کروں جو ہمارے دل پہ احساس اور درد کے رنگ بن کے انمٹ نقوش بناتی ہیں۔

آپریشن تھیٹر تیار تھا، بے ہوشی والے ڈاکٹر نے آغاز کیا۔ آج کل دنیا بھر میں سیزیرین زچگی کے لئے مریض کو مکمل بے ہوش نہیں کیا جاتا۔ کمر میں ایک انجکشن لگا کے کمر سے نچلا دھڑ سن کر دیا جاتا ہے اور مریض اپنے قائم ہوش و حواس کے ساتھ جاگ رہی ہوتی ہے، سماعت و گویائی پہ کوئی اثر ہوۓ بغیر۔ شاید آپ اس عمل کو عجیب خیال کریں لیکن یہ اسی جدید ٹیکنالوجی کا حصہ ہے جس کی کرامات آج ہر طرف موجود ہیں۔

ہم نے آپریشن کا آغاز کیا۔ بطن کی بہت سی پرتیں کاٹتے، خون کا خروج روکتے بالآخر رحم تک پہنچے۔ رحم میں سوراخ بنایا اور اسے اتنا بڑا کیا کہ بچے کو باہر نکال سکیں۔ بچے کی تھیلی کسی غبارے کی طرح سامنے تھی۔ اسے پھوڑا، پانی کا فوارا نکلا اور ہمیں حرکت کرتی ہوئی زندگی نظر آئی۔ ہاتھ اندر ڈالا، بچہ الٹا تھا سو ٹانگیں ہاتھ میں آئیں۔ کھینچ کے باہر نکالا اور اب ہمارے ہاتھ میں ایک ننھا سا روتا ہوا فرشتہ تھا۔ آپریشن تھیٹر اس کی سسکیوں سے بھرا تھا اور ہم خوش تھے۔

ہم اکثر یہ بات اپنے دوست احباب کو کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے شعبے کی سب سے پسندیدہ بات زچگی کے عمل کے دوران نوزائیدہ کو اپنے ہاتھوں میں محسوس کرنا ہے، چڑیا کے بچے کی طرح تھرتھراتے دل اور حیران نگاہوں کے ساتھ۔ مستقبل کے ذی شعور انسان کو اس دنیا کا پہلا لمس دینے کا افتخار ہمیں ایک مسرت میں مبتلا کرتا ہے۔

ہم نے آنول کاٹی اور بچے کو نرس کے حوالے کیا۔اور اب رحم میں ایک اور تھیلی سامنے تھی۔ اس کو کھولا اور ہاتھ ڈال کے دیکھا تو یہ بچہ ترچھا تھا۔ بچے کی بطن میں مختلف پوزیشنز کے لحاظ سے ڈلیور کرنے لئےمختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اگر احتیاط نہ برتی جائے تو بچے کا بازو یا ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے۔ اب پیدا ہونے والی بچی تھی سسکیاں لیتی، ہاتھ پاؤں مارتی۔ وہی عمل دہرایا گیا اور وہ نرس کے حوالے ہوئی۔ ایک اور زندگی جنم لے چکی تھی۔

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، ابھی بھی کچھ باقی تھا۔ ابھی ایک اور تھیلی تھی جسے کھول کے تیسرے پرندے کو باہر نکالنا تھا۔ وہی عمل پھر سے دہرایا اور اب تین ننھے فرشتے، اپنی اپنی ٹرالی پہ ہاتھ پاؤں مارتے، حلق سے آوازیں نکالتے نظر آتے تھے۔ ہمارے لئے یہ آوازیں کائنات کے سب سروں سے زیادہ مسحور کن تھیں، سمندر کی لہروں کے شور، ہوا کی سرسراہٹ، خزاں کے بکھرتے پتوں اور بارش کے گرتے قطروں کی آوازوں سے ہم آہنگ!

اور اب مرحلہ تھا ماں سے بچوں کی ملاقات کا۔ یہاں دستور یہ ہے کہ ماں چونکہ جاگ رہی ہوتی ہے سو اسے آپریشن ختم ہونے سے پہلے ہی بچہ دکھا دیا جاتا ہے اور بعض دفعہ تو ماں کا دودھ پلانے کا آغاز بھی کر دیا جاتا ہے۔ ہم رحم کو ٹانکے لگا رہے تھے اور تینوں نرسیں اپنی گود میں بھرے بچے ماں کے چہرے کی طرف لے جا رہی تھیں۔ ہم ہمہ تن گوش تھے کہ اس مریض کو پچھلے پانچ سال سے جانتے تھے۔

حلیمہ سے میری پہلی ملاقات پانچ سال پہلے ہوئی جب ہم اپنا ہفتہ واری بانجھ پن کا کلینک کر رہے تھے۔ مجھے پہلی ہی نظر میں وہ اچھی لگی، خوبصورت اداس آنکھوں کے ساتھ۔ شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے اور وہ حاملہ نہیں ہو پائی تھی۔ میاں بیوی کے تمام ٹیسٹ ہو چکے تھے اور دونوں ہر طرح سے نارمل تھے۔ کافی علاج کروانے کے بعد وہ تھک کے مایوس ہو چکی تھی کہ آرزو کا چاند اب تک جھولی میں نہیں اتر سکا تھا۔ اس نے دلگیر آواز میں پوچھا تھا

” کیا کبھی میں ماں بن سکوں گی”

اور ہم نے اس کے ہاتھ میں امید کی شمع پکڑا دی تھی۔

وہ unexplained infertility کا شکار تھی اور کافی عرصے سے زیر علاج تھی۔ اس کی فائل پڑھ کے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اب اسے Ivf یا عرف عام میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا طریقہ آزمانا چاہیے۔ اس طریقہ علاج میں دنیا کے بہترین مرکز بھی تیس سے پینتس فیصد سے زیادہ کامیاب نہیں ہیں، اور پھر یہ کافی مہنگا بھی ہے۔ وہ ششں و پنج کا شکار تھی مگر ہم نے اس کی ہمت بندھائی تھی۔

علاج شروع ہوا!

بے تحاشا انجکشن، انڈے کی بڑھوتری، انڈے کو اووری سے نکالنا، سپرم سے میل کروانا، ایمبریو کا بننا، واپس رحم میں منتقلی اور پھر انتظار کہ رحم اس اس نطفے کو قبول کرتا ہے یا وہیں ختم کر دیتا ہے۔ وہ اس جاں لیوا عمل اور انتظار سے تین دفعہ گزری۔ پہلی دونوں دفعہ زندگی نے جواب دے دیا تھا اور وہ زرد چہرے کو بھگوتے آنسوؤں کے ساتھ رخصت ہوئی تھی۔ تیسری دفعہ شاید آسمان مہربان تھا یا ہمیں ان آنکھوں کو ہنستا دیکھ کے مسحور ہونا تھا۔ اس کی بے تاب تمنا کے ثمر آور ہونے کا آغاز ہو چکا تھا۔

جس دن اسے پتہ چلا کہ رحم میں تین پھول کھلے ہیں، اس کی بےتابی قابل دید تھی۔ چوتھے مہینے میں الٹرا ساؤنڈ پہ تین اچھلتے کودتے بچے دیکھ کے وہ بے ساختہ ہنسی بھی تھی اور روئی بھی۔ جیسے برسات کی رم جھم کی جھڑی ہو اور دھوپ نکل آئے

وقت گزرتا رہا، اس کی بے چینی بڑھتی گئی۔ ہر گزرتا پل اس کی حرکت مشکل بنا رہا تھا کہ تین بچوں کو بطن میں رکھنا آسان بات نہیں۔ جنس کا تعین ہو چکا تھا، وہ دو بیٹوں اور بیٹی کی ماں بننے جا رہی تھی۔ وہ ہر دفعہ مجھے اپنی شاپنگ اور بچوں کے نام سوچے جانے پہ کی جانے والی بحث کی تفصیلات بتاتی۔

 جب میں نے اس کے سیزیرین کی تاریخ ٹھہرائی تو وہ بولی، ڈاکٹر میں چاہتی ہوں کہ میرا آپریشن تم کرو۔ میری یہ خواہش ہے کہ ہم یہ بچے پہلی دفعہ ساتھ میں دیکھیں، جیسے ہم نے الٹرا ساؤنڈ پہ دیکھے تھے۔

پہلے بچے کو لئے نرس حلیمہ کی طرف جھکی اور ہم ہمہ تن گوش تھے

” تمیم! میرے بچے تو کہاں تھا اب تک؟ کیا معلوم ہے تجھے؟ ماں برسوں سے تیری راہ تک رہی تھی” وہ آنسوؤں سے اپنے بیٹے کا منہ دھو رہی تھی۔

اب دوسری نرس کی باری تھی۔ اس نے بچی کو ماں کی طرف بڑھایا” مریم ، میری شہزادی! ماں صدقے جائے تم پہ میری بیٹی میری راج دلاری “

عام طور پہ مریض آپریشن کے دوران زیادہ بات نہیں کرتے سو سب سٹاف کے لئے حلیمہ کے الفاظ اور رویہ مختلف تو تھا ہی، دل بھی پگھلاتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ کائنات کچھ اور نہیں بس تین بچوں کی قلقاریاں اور ان پہ دیوانہ وار نثار ہوتی ماں کا نام ہے۔

اب تیسرے بچے کی باری تھی” میرے چھوٹے لاڈلے خالد، میرے قریب آ، تجھے بوسہ دوں” وہ محبت کی مہر ثبت کر رہی تھی۔

اور مجھے اپنی ماں یاد آ گئی۔ وہی گرم جوشی، وہی بےقراری، وہی نثار ہو جانے والی محبت! میری ماں نے بھی ایسے ہی میرا بوسہ لیا ہو گا۔ ایسے ہی مجھے پکارا ہو گا، ایسے ہی دل ہمکا ہو گا۔ اور پھر ایک اور یاد آئی دور دیس میں بسنے والi ی بیٹیوں کی۔ وہ بھی کبھی ایسے ہی آغوش میں بسیرا کرتی تھیں اور ممتا پر پھیلائے انہیں ہر سختی سے بچاتی تھی۔ ان تتلیوں کا اپنی ہتھیلی پہ رکھا لمس یاد تو آیا ہی، دل کو بھی بھگو گیا۔ شاید دنیا کی ہر ماں کا خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھا ہے، بے لوث محبت، قربانی اور آنسوؤں سے گندھی مٹی!

بچے نرسری جا چکے تھے، حلیمہ مطمئن نیند میں تھی۔ آپریشن ختم ہونے کو تھا ہم آخری ٹانکے جلد کو لگا رہے تھے۔ لیکن کچھ آنسو تھے جو پلکوں سے بہہ نکلنے کو بےتاب تھے کہ حلیمہ کی ممتا نے دل مضطرب کو بے قرار کرتے ہوئے ڈاکٹر کی ممتا کے تار بھی چھیڑ دیے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •