فوجی انکل کی شاباشی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کا چہرہ جذبات کی حدت سے تمتا رہا تھا اور مسکراتی آنکھوں میں کچھ فتح کر لینے کی روشنی تھی۔ دانت کھلے پڑ رہے تھے مگر آواز کی مضبوطی ظاہر کر رہی تھی کہ وہ جو کچھ کہہ رہی ہے اس پر بھر پور اعتماد بھی رکھتی ہے۔ نپی تلی باتوں کے دوران کھلکھلاتے جملے ایک حسین امتزاج پیش کر رہے تھے۔

” جیسے ہی سگنل کھلا، میں نے اسکوٹی آگے بڑھائی تو چوک میں کھڑے فوجی انکل نے ہاتھ ماتھے پر لے جا کر مجھے سلوٹ کیا اور ٹریفک کے بے پناہ شور میں بھی میں نے ان کی شاباشی کی صدا واضح سنی تھی۔ وہ کافی دیر سے مجھے دیکھ رہے تھے اور حوصلہ افزا انداز میں مسکرا رہے تھے“۔ وہ جم کر بیٹھی ہوئی تھی اور ہمیں اپنے تجربات سنا رہی تھی۔

کل اتفاق سے ہمارا ایک عزیز کے ہاں جانا ہوا تو پورچ میں کھڑی لیڈیز اسکوٹی نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی استفسار پر معلوم ہوا کہ ان کی چھوٹی صاحبزادی کو آج کل یہ شوق چرایا ہے۔

اور اب وہ بیٹھی بڑی ہی محویت اور ذوق و شوق سے ہمیں ان چند دنوں کے تجربات سنا رہی تھی۔ اس کے لئے شاید یہ سب کچھ بہت نیا نیا اور دلچسپ تھا۔ سڑکوں پر دھواں اگلتی گاڑیوں کی ہارن بازیاں، موٹر سائیکلوں پر سوار منچلوں کی شعبدہ بازیاں، اور رکشہ والوں کی ٹیڑھی چالیں تو وہ شاید بچپن سے ہی دیکھتی آئی تھی مگر ایک بے جان جسم کی طرح گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر سڑکوں کا نظارہ کرنے اور اسی ٹریفک کا ایک متحرک اور جاندار کردار ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

وہ جس سڑک پر سے گزرتے ہوئے ایک بے اختیار وجود کی حثیت سے ٹریفک کے دریا میں مچلنے والی زندگی کی لہروں کو تکا کرتی تھی، اب اسی سڑک پر ان لہروں کو چھو بھی سکتی ہے بلکہ وہ خود بھی انہی لہروں میں سے ایک لہر ہے جس کو اپنی منزل کا بہ خوبی علم ہے اور منزل تک جانے والے راستوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مکمل اختیار بھی ہے۔ اس احساس نے اس کے انگ انگ میں تمکنت پیدا کر دی تھی۔

اور اس کی تمکنت میں ایک مان چھلک رہا تھا، ایک فخر تھا۔ اس اعتماد کا مان جو اس کے معاشرے نے، اس کے خاندان نے اور اس کے باریش باپ نے اس کو دیا تھا۔ آج اس کی گفتگو اور اس کی ہنسی مجھے کچھ خاص محسوس ہو رہی تھی۔ ایک مکمل شخصیت کی مکمل ہنسی کا احساس مجھے یقین دلا رہا تھا کہ ابھی سب کچھ تلپٹ نہیں ہوا ہے معاشرے میں بہت سی طاقت اور بہت سی انرجی باقی ہے۔ وہ جو کچھ سنا رہی تھی اس میں میرے لئے کچھ بھی نیا نہیں تھا۔

ایک مرد کی حثیت سے ان سڑکوں، اس ٹریفک اور اس ڈرایونگ کے تجربے سے میری آشنائی بہت پرانی ہے۔ مگر مجھے سب کچھ نیا نیا سا لگ رہا تھا، کسی اور دنیا کی کہانی! شاید میں نے کبھی اس نکتہ نظر سے اپنے آس پاس نظر نہ کی ہو یا شاید میں کبھی ایک عرصے تک مفلوج رہنے کے بعد حرکت کرنے کے تجربے سے گزرا ہی نہیں اس لئے اس کے لہجے کی وارفتگی میرے لئے عجیب ہے۔

وہ کہہ رہی تھی کہ اسے معاشرے کے ردعمل پر مسرت آمیز حیرت ہوئی ہے۔ منفی خبروں نے اس کے ذہن پر کئی قسم کے خوف طاری کر دیے تھے۔ وہ تو اپنے لئے تعجب خیز نظروں اور نفرت انگیز جملوں کی توقع اور ان سے مقابلے کرنے کی ہمت لئے سڑک پر نکلی تھی مگر یہاں تو صورتحال اس کی توقعات اور وسوسوں سے بالکل ہی مختلف نکلی۔ اسے چوراہے پر کھڑے ٹریفک وارڈن سے لے کر اسے کے کالج کے بوڑھے چوکیدار تک سب نے اپنی بھرپور مدد اور تعاون کا یقیں دلایا تھا۔ اور اس کی جانب اٹھنے والی بہت سی نگاہوں میں تحسین اور شاباشی کے تاثرات تھے۔ ایک ٹریفک سگنل پر اس کے برابر کھڑی گاڑی میں سے ایک سفید ریش بابا جی نے سر نکال کر اس سے اسکوٹی کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ وہ بھی اپنی بیٹی کو ایسی ہی اسکوٹی لے کر دینا چاہتے تھے۔

سوسائیٹی کے اس رد عمل سے وہ بہت مطمئن اور شاد کام معلوم ہوتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں حوصلہ کی چمک اعلان کر رہی تھی کے میں ان آنکھوں میں اس ”مردوں کے معاشرے“ کی جانب سے ودیعت کی گئی ہوں۔ وہ واضح گفتگو کر رہی تھی کہ سب برا نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت میں برا تو بہت کم ہے، ہاں مگر برائی کے تاجروں نے اپنا مال بیچنے کے لئے اس کی اشتہاری مہم خوب چلائی ہے۔ کہ یوں معلوم پڑتا ہے سڑکوں اور چوراہوں پر ہر جانب برائی ہی دانت نکوسے بیٹھی ہے۔ مگر وہاں تو اچھائی غالب ہے، ہر سڑک ہر چوراہے پر اچھائی کے چمکتے بدنوں والے سپاہی برائی کے آگے ڈٹے کھڑے ہیں۔

میں نے اس سے استفسار کیا کے کیا واقعی آج تک اس کے ساتھ ایک بھی برا تجربہ نہیں ہوا؟ تو اس نے مضبوط مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا علی بھائی جہاں اتنی اچھی باتیں اور حوصلہ افزا جملے یاد رکھنے کے لئے ہوں وہاں گھٹیا تبصروں کو یاد رکھنے کی کیا ضرورت ہے جب کے مجھے یہ اعتماد بھی ہے کے میری سوسائیٹی کا ہر فوجی سپاہی، ہر وارڈن اور ہر بوڑھا چوکیدار میری ہی جانب پر اعتماد نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ مجھے ان کو مایوس تو نہیں کرنا نا! اور ویسے بھی میں نے ہیلمٹ کے نیچے سکارف لے رکھا ہوتا ہے اسی لئے مجھے تو آگے پیچھے کی آواز ہی نہیں سنائی دیتی وہ کھلکھلاتے ہوئے بولی تو نشست گاہ میں ایک قہقہہ پڑا۔

مجھے معلوم تھا یہ ہنستے ہوئے افراد ایک ہی بات سوچ رہے ہیں۔ کہ اگر ہیلمٹ اور سکارف کی وجہ سے وہ ناشائستہ جملے نہیں سن پاتی تو بے پناہ ٹریفک کے شور میں اسی ہیلمٹ اور سکارف کی موجودگی میں فوجی انکل کی شاباشی کی صدا کیسے اس کے کانوں تک پہنچی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •