مودی اقلیتوں کے حق میں کتنا موذی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 2019 کے الیکشن میں دوبارہ منتخب ہونے کے لئے نریندر مودی نے وہی کیا جو وہ لیڈر کرتے ہیں جن کے پاس صرف ہوائی قلعے فراہم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ مودی نے پاکستان پر فضائی حملہ کر کے جنگی جنون پیدا کیا اور دیش بھگتی کے نام پر ووٹ سمیٹے۔ پاپولسٹ سیاست دانوں کی طرح اس نے ان لوگوں کو فوکس کیا جو اکثریت میں تھے۔ ان کے تعصبات کو خوب ابھارا۔

مودی نے چند سال سے اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لئے گائے کو مسئلہ بنا لیا۔ ہزاروں سال سے ہندوستان میں گائے کاٹنے والوں کے خلاف مہم چل پڑی۔ حالانکہ حالت یہ ہے کہ اس وقت بھی دنیا بھر میں بیف برآمد کرنے والے ممالک میں بھارت کا دوسرا نمبر ہے۔

ایسا نہیں تھا کہ ہندو مت میں بیف ہمیشہ حرام تھا۔ ویدوں میں دیوتاؤں اور گائے بیل کی قربانی کا ذکر موجود ہے۔ بھارتی آئین کے خالق ڈاکٹر امبیدکر اپنی کتاب ”اچھوت: کون تھے اور وہ کیسے اچھوت بنے“ میں بتاتے ہیں کہ پہلے برہمن خود سب سے بڑے بیف خور تھے، مگر جب بدھ مت سے مذہبی کشمکش شروع ہوئی تو خود کو بالادست کرنے کے لئے انہوں نے بیف کی حرمت کا حکم دیا اور گائے کی پوجا کرنے لگے۔ اب برہمن تو بیف سے پرہیز کرتے ہیں، لیکن مسلمانوں کے علاوہ دلت بھی گائے کو کاٹنے کھانے پر یقین رکھتے ہیں۔

اس کے باوجود گائے کا گوشت کھانے یا اس کی نیت کرنے کے الزام میں مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔ سنہ 2015 میں یوپی کے علاقے دادری میں ایک مندر سے اعلان ہوا کہ علاقے کا واحد مسلمان گھرانا بیف کھا رہا ہے۔ اعلان سنتے ہی بے شمار ہندو انتہاپسند جمع ہو گئے۔ انہوں نے کسی بھی قسم کی تصدیق کے بغیر محض ایک افواہ پر ہی اخلاق احمد کے گھر پر حملہ کر دیا اور اسے مار ڈالا۔ اس کا بیٹا دانش شدید زخمی ہوا۔ بلوائیوں کو گھر میں فرج سے کچھ گوشت ملا تھا۔ اخلاق کی فیملی نے دعوی کیا کہ وہ مٹن تھا۔ کسی کو پتہ نہیں چلا کہ مندر سے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کس نے کیا تھا۔ ہمسایوں نے اخلاق کے گھر والوں کو بچانے کی کوشش کی مگر بلوائیوں نے ایک نہ سنی۔ پولیس کو بلایا گیا مگر وہ ایک گھنٹے بعد اس وقت تک پہنچی جب بلوائی قتل و غارت سے فارغ ہو چکے تھے۔ یہ ایک عالمی خبر بنی تو پولیس نے کارروائی شروع کی۔ پولیس نے چند افراد کو گرفتار کیا تو شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے۔

رفتہ رفتہ گائے کشی کے معاملے میں حالات اتنے بگڑے کہ جون 2019 کے اوائل میں نریندر مودی نے خود بھی کہا تھا کہ ”گاؤ بھکتی کے نام پر لوگوں کو قتل کرنا قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس قوم میں کسی شخص کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے“۔ یہ حکومتیں کہتی کچھ ہیں کرتی کچھ ہیں۔

محض ایک الزام لگا کر لوگوں کو مشتعل کرنا اور کسی کمیونٹی کے خلاف قتل و غارت کی مہم چلانا بہت شرمناک بات ہے۔ ہم اس پر انتہا پسند نریندر مودی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ کسی ایک شخص پر الزام لگے تو ہجوم کو اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ قتل و غارت گری شروع کر دے۔ پولیس تحقیق کرے اور قانون کے مطابق جرم ثابت ہونے پر اسے سزا دے ورنہ باعزت بری کر دے۔ یہ نریندر مودی کبھی انسان بنے گا یا موذی ہی رہے گا؟

شکر ہے پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ نہ موذی کے بھارت کی طرح کسی نوجوان کو چوری کے الزام میں کھمبے سے باندھ کر گھنٹوں تشدد کیا جاتا ہے اور انجام کار جان سے مار دیا جاتا ہے، نہ محض ایک الزام لگتے ہی فسادات شروع کر کے اقلیت کا جلاؤ گھیراؤ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں نہ تو انڈیا کے مندروں کی طرح لاؤڈ سپیکر پر جلاؤ گھیراؤ کے اعلانات کیے جاتے ہیں، نہ ہی کوئی ہجوم محض کسی افواہ کو سن کر بلا تصدیق لوگوں کو قتل کرنے اور املاک جلانے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ ہم ملزم کو بھی اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیتے ہیں اور جرم ثابت ہو تو قانون کے ذریعے اسے سزا دلواتے ہیں۔

نریندر مودی، کان کھول کر سن لو، تم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ بہتر ہے کہ تم انسان بن جاؤ اور اپنی قوم کے مذہبی انتہاپسندوں کو بھی ٹھیک کرو۔ ورنہ تمہارا ملک مذہبی انتہاپسندوں کی جنونیت کی گرفت میں آ کر تباہ و برباد ہو جائے گا اور اس کے کروڑوں لوگوں کو دنیا میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1192 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar