ہم سب درباری ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"jawwad-bin-khalil-2\"جب سے صاف چلی شفاف چلی ہے نہ جانے کیوں وہ گند صاف کرنے کی بجائے اس میں اضافے کا ہی موجب بنی ہے۔ چلی ہے رسم کہ کوئی” مخالف“ سر اٹھا کر نہ چلے۔ شاہینوں کو بال و پر عطا کرنے کیلئے دشنام کا جہاں عنایت کر دیا گیا ہے۔ واضح صف بندی کر دی گئی ہے۔ سچ پر ہو تو ہمارے ساتھ آجاو، سپاہ حسین کا حصہ بنو نہیں تو انبوہ یزید میں جا مرو۔ اگر آ گئے تو اجلے ورنہ غلاظت تمہارا مقدر۔ صدیوں سے جاری انسانی مکالمہ بند۔ اگر تو ہمارے کہنے پر لبیک کہا تو تم انقلابی، تم سچے ورنہ تم پٹواری، تم جاہل اور اب اس میں حالیہ اضافہ تم ”درباری “۔

 دلچسپ امر یہ ہے کہ ان درباریوں کی فہرست میں وہ بھی شامل ہیں جن کو ماضی میں خان صاحب خود اجلا قرار دے چکے ہیں لیکن جب منشا کے خلاف کوئی قدم، کوئی فیصلہ تو وہی شخصیات درباری ٹھہریں۔ ان درباریوں کی ایک لمبی لسٹ ہے جس میں نون لیگ سے تعلق یا ہمدردی رکھنے والا کوئی بھی شخص، بے داغ ماضی رکھنے والے باعزت صحافی، سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج، چیئرمین نیب، چیئرمین ایف بی آر تو پہلے سے شامل تھے لیکن اس فہرست میں جناب ”عطا الحق قاسمی“ صاحب کو شامل کر کے خان صاحب نے ملک کے ادب پرور، علم دوست اور مہذب حلقوں میں غصے اور صدمے کی ایک شدید لہر دوڑا دی ہے۔ مملکت کے ہر شخص کو خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ اگر قاسمی صاحب جیسی اجلے، شفاف اور مرنجان مرنج ہستی کی عزت محفوظ نہیں تو پھر کس کی ہے؟

قاسمی صاحب کی پوری زندگی ایک ایسے شیشے کی مانند ہے جس کے آر پار دیکھا جا سکتا ہے۔ ستر کی دہائی سے لیکر آج تک ”روزن \"mv9f-qasmi\"دیوار سے“ جھانکتے ان کے چٹکلے زندگی کی اداسی کو گلرنگ کرنے کا ہی موجب بنے ہیں۔ اپنی مٹی سے ایسا ٹوٹ کر عشق کرنے والا شخص جو کہ موچیوں، نائیوں، کوچوانوں کی بات کرتے ہوے نہ صرف کوئی جھجک مھسوس نہ کرے بلکہ ان سے مل کر دلی مسرت حاصل کرے۔ ان کے دفتر سے اٹھتے واشگاف قہقہے اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ آج ان کا کوئی خاص مہمان (کوچوان، مزدور، رکشے والا) تشریف فرما ہے۔ امریکہ کی پر تعیش زندگی، وہاں کی چمکتی دمکتی کاروں کو لات مار کر قاسمی صاحب عنفوان شباب میں لاہور کی سڑکوں پر اپنے لمبریٹا سکوٹر پر اپنے ”شوق آوارگی“ کو پورا کرتے پائے جاتے تھے۔ اپنے آبائی شہر وزیرآباد سے جسمانی تعلق تو ٹوٹ گیا لیکن اس سے جذباتی تعلق کو انہوں نے ہمیشہ ہر موقعے پر مقدم رکھا۔ لاہور میں اردو کی پروفیسری وسیلہ روزگار تھی لیکن شاعری اور کالم نویسی نے ان کے جوہر نمایاں کئے۔ ان کی شاعری بھی اہل وطن کیلئے وقف تھی جس کا اندازہ ان کے سب سے مقبول عام شعر سے لگایا جا سکتا ہے۔

ولیم، پیٹر، ڈکسن تھامس سے کیا لینا

ہمیں تو اپنے ماجھے، ساجھے، گامے اچھے لگتے ہیں

ان کی اس ساری شاعری اور ادبی علمی مصروفیات سے قطع نظر ان کی بلندی کردار کی پورا معاشرہ گواہی دیتا ہے۔ لیکچرار سے لیکر بڑے بڑے عہدوں تک ا ن پر ایک پائی بھی کرپشن کا کبھی الزام نہیں لگا۔ ان کی اپنی مٹی سے محبت ہی ان کو نواز شریف کے قریب لانے کا موجب بنی۔ قاسمی صاحب کو یہ سری پائے کا شوقین، اندرون لاہور باسیوں سے قریبی روابط رکھنے والا، لاہوری لطیفوں پر کھلکھلا کر ہنسنے والا نوجوان بھلا لگا۔ یہ آج کی بات نہیں، اسوقت وہ نوجوان ابھی وزارت عظمی سے کوسوں دور ایک نوجوان سیاستدان تھا۔ نواز شریف ترقی کرتے وزیر اعظم ہو گئے لیکن قاسمی صاحب ان کی قریبی دوست ہوتے ہوے بھی ایک متوسط کالونی میں دس مرلے کے مکان میں ہی رہے۔ دوست کے پورے دور میں انہوں نے کوئی مالی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی نہ کسی کی بے جا سفارش کی۔ نوے کی دہای میں حکومت تبدیل ہونے کے ساتھ ہی کالم نگاروں کا قبلہ تبدیل ہونے کی روایت تھی لیکن قاسمی صاحب ڈٹ کر اپوزیشن میں بھی دوست کے ساتھ رہے۔ نواز شریف 1997  میں جب دوبارہ وزیر اعظم بنے تو قاسمی صاحب کو انہوں نے ناروے میں سفیر لگانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ قاسمی \"darbar\"صاحب نے فوراً انکار کر دیا۔ مجیب الرحمٰن شامی صاحب کو اس کا معلوم ہوا تو دوڑے چلے آئے۔ ان کی دلیل تھی کہ اگر قاسمی صاحب نے اس سفارت سے انکار کر دیا تو مستقبل میں کسی ادیب کی کبھی تکریم نہیں ہو سکے گی۔ ان کے اصرار پر قاسمی صاحب نے سفارت قبول تو کر لی لیکن ویاں سفیر کا ایک الگ ہی رنگ جما دیا۔ ناروے کے پاکستانی سفارت خانے میں جہاں صرف وزرا،  بیورو کریٹ، سفارتکاروں کا آنا جانا تھا، وہاں کھاریاں، گجرات کے نیم خواندہ کسانوں کیلئے دروازے کھل گئے۔ وہ غلام گردشیں جہاں صرف خاموشیوں کا ڈیرہ ہوتا تھا، وہاں ہموطنوں کی چہل پہل شروع ہو گئی۔ اپنے دو سالہ دور سفارت میں ایک دھیلے کی کرپشن کا الزام بھی قاسمی صاحب کے دامن پر نہیں لگا۔ مشرف کے ملٹری ٹیک اوور کے بعد جہاں راتوں رات برطرفی کی تقریر لکھنے والے بھی وداع دے گئے، وہاں قاسمی صاحب کے لکھے گئے کالم تاریخ کا حصہ ہیں۔ انسانی اخلاقی پیمانوں سے تو اسے کردار کا اعلیٰ ترین نمونہ کہا جاتا ہے لیکن جن معاشروں میں کردار کے پیمانے کسی سیاستدان کی زبان سے نکلے ہوں وہاں کردار کے معنی کون سمجھائے۔ ہاں ہم لوگ، کبیدہ خاطر، اتنا تو دست بدستہ عرض کر سکتے ہیں کہ اگر کسی شخص کا برے بھلے وقت میں ساتھ دینا درباری ہونا ہے تو سب سے پہلے مجھے ان درباریوں کی فہرست میں شامل کر لیں۔ اگر سیاسی مکالمے میں مختلف رائے رکھنا درباری ہونے کی نشانی ہے تو وہ ڈیڑھ کروڑ افراد بھی درباری ہوئے جنہوں نے آپ کے حواسوں پر سوار نواز شریف کو ووٹ دیا۔ اگر مالی معاملات میں شفاف ہونے سے درباری ہونا مراد ہے تو پھر تو واقعی قاسمی صاحب بہت بڑے درباری ہیں۔ اگر آپ کی رائے سے اختلاف درباری کرتے ہیں تو پھر تو حضور آپ کے اپنے شہر پشاور کے لوگ بھی درباری ہوے جنہوں نے حال ہی میں صوبای اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں نون لیگ کو جتوایا۔ اگر درباری کا لقب ان کیلئے مخصوص ہے جنہوں نے معاشرے کے دکھیاروں کو اپنے الفاظ کے ذریعے دلجوئی کی، انہیں مسکرانے اور زندگی کی طرف پلٹنے کی ترغیب دی تو پھر مجھے خدشہ ہے کہ قبر سے اٹھا کر چراغ حسن حسرت سے لیکر شقیق الرحمن تک اور زندوں میں مشتاق احمد یوسفی سے لیکر انور مسعود تک سب درباری لپیٹ میں رگید دیئے جایئں گے۔ کیوں نہ آپ کا کام آسان کر دیا جائے خان صاحب اور ہم آواز ہو کر یہ نعرہ مستانہ لگا دیا جائے ”ہم سب درباری ہیں“۔

پس تحریر۔ مصنف قاسمی صاحب کا ایک ایسا ”درباری“ ہے جو آج تک ان سے نہیں ملا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •