جوکر – فلم ریویو

کبھی یوں بھی ہوتا ہے، کہ معاشرہ ایسے انسان کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے، جو بظاہر کسی بیماری میں مبتلا ہے، مگر اس کے اندر احساسات، محسوسات کا وہی جوار بھاٹا ہوتا ہے، جو کسی نارمل انسان میں۔ ٹوڈ فلپس کی لکھی اور ڈائریکٹ کی گئی اس فلم ’’جوکر‘‘ نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ…

Read more

فلم ریویو: فلم کتاکشا

پچھلی ایک دہائی سے پاکستانی فلم انڈسٹری کی از سرِ نو بحالی کے بعد، گو ٹیکنا لوجی میں بہت بہتری دیکھنے میں آئی لیکن کہانی کے اعتبار سے بہت کمی محسوس کی گئی۔ کچھ فارمولا رومانٹک کامیڈی کی کامیابی سے ایک عجیب بھِیڑ چال شروع ہو گئی اور کامیڈی کے نام پر پھکڑ بازی کا…

Read more

آئنہ نما: فریب کار بانسری سے عشق ممنوع تک

افسانہ اردو ادب کا ایک خاصہ رہا ہے۔ اپنی بے پناہ مقبولیت کے باعث اردو افسانے ہر زمانے اور عمر میں باعث تکریم ٹھہرا۔ چھہ عشروں کے بعد بھی اشفاق احمد کا گڈریا اور منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ آج بھی اردو ادب کی شان سمجھے جاتے ہیں۔ زمانے میں ہونے والی انقلابی سائنسی تبدیلیوں نے کسی حد تک اردو ادب کی اس صنف کو بھی متاثر کیا اور کافی عرصے سے کوئی معیاری افسانوں کا مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا۔ اس خلا کو ہم سب کے جانے پہچانے مصنف ظفر عمران نے ایک دھواں دار انٹری کے ذریعے ”آئنہ نما“ سے پر کیا ہے۔

Read more

تبصرہ کتب ,کتاب۔ پریشاں سا پریشاں

ڈاکٹر مجاہد مرزا ہم سب کے قارئین کے لئے ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ اپنی کاٹ دار تحریروں اور متنوع موضوعات کے باعث ممتاز ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کی آپ بیتی ہے جس میں انہوں نے جگر کھول کر رکھ دیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں ایک کثیرالعیال گھرانے میں پیدا ہوے۔ چھوٹے ہونے کے باعث قدرے لاڈلے لیکن والد کی عدم توجہی کا شکار ایک حساس بچہ جو کبھی اس ضد پر آ جاتا کہ اللہ میاں کو ”دیکھنا“ ہے تو کبھی کمہاروں کے ساتھ بیٹھا گھنٹوں مٹی کے برتن بنتے دیکھتا ہے۔مطالعے کے رسیا مجاہد نے لڑکپن میں جب علی پور کا ایلی نامی کتاب دیکھی تو بڑے عرصے تک اسے غلط فہمی کا شکار رہا کہ یہ اسی کے شہر کے کسی علی کی داستان ہے۔ والد جنگلی لکڑی کا کام کرتے تھے اور شہر کے متمول افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ایک کاروباری دھوکے سے ان کی مالی حالت خراب ہو گئی جس سے ننھے مجاہد کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا کم عمری میں ہی ادراک ہونا شروع ہو گیا۔ مجاہد ویسے بھی بہت حساس اور زودرنج طبیعت کے مالک تھے۔

Read more

میں خمیازہ ساحل کا

علی سجاد شاہ جو سوشل میڈیا پر ابوعلیحہ کے نام سے متعارف ہیں، ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں۔ بنیادی طور پر صحافت سے وابستہ علی بلاگر، اینکر، کامیڈی سکرپٹ رائٹر، فلم رائٹر وڈایریکٹر تو تھے ہی، اب ”میں خمیازہ ساحل کا“ ذریعے انہوں نے اردو افسانے کی پرخار وادی میں بھی قدم رکھ دیے ہیں۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ان کی کچھ افسانوں اور ایک طویل ناولٹ کے علاوہ ان کی کچھ ذاتی تحریروں پر مشتمل ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل کی تھی۔

Read more

حنیف کے سرخ پرندے

محمد حنیف بھی کیا عجیب شخص ہے۔ جہاں پاکستانی انگریزی مصنفین اشرافیہ کے لیے لکھتے ہیں، ان کے ماحول میں اپنے کردار رکھتے ہیں، تا کہ ان کی کتاب زیادہ پڑھی جاے۔ حنیف نے اپنی پہلی کتاب A case of exploding mangoes ہی مرحوم جنرل ضیا کے طیارہ حادثے کے پس منظر میں لکھی تھی۔…

Read more