ڈاکٹر مجاہد مرزا ہم سب کے قارئین کے لئے ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ اپنی کاٹ دار تحریروں اور متنوع موضوعات کے باعث ممتاز ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کی آپ بیتی ہے جس میں انہوں نے جگر کھول کر رکھ دیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں ایک کثیرالعیال گھرانے میں پیدا ہوے۔ چھوٹے ہونے کے باعث قدرے لاڈلے لیکن والد کی عدم توجہی کا شکار ایک حساس بچہ جو کبھی اس ضد پر آ جاتا کہ اللہ میاں کو ”دیکھنا“ ہے تو کبھی کمہاروں کے ساتھ بیٹھا گھنٹوں مٹی کے برتن بنتے دیکھتا ہے۔مطالعے کے رسیا مجاہد نے لڑکپن میں جب علی پور کا ایلی نامی کتاب دیکھی تو بڑے عرصے تک اسے غلط فہمی کا شکار رہا کہ یہ اسی کے شہر کے کسی علی کی داستان ہے۔ والد جنگلی لکڑی کا کام کرتے تھے اور شہر کے متمول افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ایک کاروباری دھوکے سے ان کی مالی حالت خراب ہو گئی جس سے ننھے مجاہد کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا کم عمری میں ہی ادراک ہونا شروع ہو گیا۔ مجاہد ویسے بھی بہت حساس اور زودرنج طبیعت کے مالک تھے۔
Read more