کراچی لندن کو دکھ سناتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے لندن،

تمہارا خط ملا، پڑھ کر کچھ دیر کو میرا موسم بھی سہانہ ہوگیا۔ شاہراہوں پر لگے دلوں کو گرماتے گرم بلب، دھول اور مٹی سے پاک سڑکیں، صوتی آلودگی سے پاک فضا، مسکراتے چہرے، طرح طرح کی ثقافتوں اور زبانوں کے حامل مسکراتے انسان، کھیلتے کودتے بچے۔ میل ملاپ کرتے نوجوان۔ پیارے بھائی تمہارے خط نے مجھ پر عجب کیفیت طاری کردی۔ میں ماضی میں کھو گیا۔ جوانی کے دن یاد آگئے۔ جب یہاں کراچی میں چڑیاں چہچہاتی تھیں۔ رنگین تتلیاں ماحول کو چار چاند لگاتی تھیں۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوا شہر میں اے سی کی ضرورت محسوس نہیں ہونے دیتی تھی۔ ہائے! وہ بھی کیا دن تھے۔

پیارے لندن میں آج کل خاصا پریشان ہوں۔ ایک تو حالات کی ستم ضریفی ہے کہ میرا کچرا کوئی ٹھکانے لگانے تو تیار نہیں۔ دوسرا حال ہی میں ہونے والی بارشوں نے میرا خاصہ نقصان کردیا ہے۔ بہت سی سڑکیں برباد ہوگئیں ہیں اور صرف کرنٹ لگنے سے ہی پچاسیوں لوگ جاں بحق ہوگئے ہیں۔ تمہاری طرف تو بارش شہر بھر کو دھو ڈالتی ہے۔ ہمارے یہاں بارش کسی سزا سے کم نہیں۔ اس قسم کے زخم دل میں دبائے بیٹھا تھا کہ پیرس کا خط موصول ہوا۔

اس نے انکشاف کیا ہے کہ مجھ پر قبضہ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ وفاق مجھے اپنے کنٹرول میں کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ذرا تحقیق کی تو معلوم ہوا۔ پیرس نے درست خبر دی ہے۔ میں تو ہمت ہار چکا ہوں۔ اب مزید برداشت نہیں کرسکتا۔ تم تو جانتے ہو وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور تحریک انصاف نے پشاور میں میٹرو کے نام پر کس قدر نا اہلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لاہور کو بھی تحریک انصاف ہی کے لگائے گئے بزدار نامی وزیر اعلی کا سامنا ہے۔

سنا ہے لاہور کا حال بھی خراب ہونے لگا ہے۔ ایسے میں مجھ پر اگر تحریک انصاف مسلط ہوگئی تو کیا ہوگا؟ تم اندازہ کرسکتے ہو۔ پہلے تو لاہور کو شہباز شریف نے خوب سنبھال رکھا تھا۔ لاہور کی بھی شوخیاں ہی ختم نہیں ہوتی تھیں۔ اب نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے۔ ہوسکے تو تم لاہور کا بھی حال معلوم کرلینا۔ اسے میرا بھی سلام دینا۔

پیارے لندن، میرے زخموں کی فہرست طویل ہے۔ مجھ پر قبضے کی اس جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومت مدمقابل آگئی ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے وزیراعلی مراد علی شاہ نے بیان دیا ہے کہ کراچی پاکستان کے دیگر شہروں سے بہتر ہے۔ حیران ہوں کوئی اس قدر سفید جھوٹ کیسے بول سکتا ہے؟

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول نے مجھ (کراچی) پر وفاق کی جانب سے یلغار کی صورت میں سندھو دیش بنانے کی دھمکی دی ہے۔ جانتے ہو سندھ دھرتی کا ”بیٹا“ بلاول سندھی زبان تک سے واقف نہیں۔

میرا خیال ہے حالات مزید خراب ہونے جارہے ہیں۔ کہ اس وقت صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں کا مقصد محض مجھ پر حکومت کرنا ہے اور اختیارات کے لیے لڑنا جھگڑنا ہے۔ اگر میرے ساتھ مخلص ہوتے تو باتیں بنانے کی بجائے کام کرتے نظر آتے۔

اس سے پہلے کہ خط کے جواب میں تم میئر بارے سوال اٹھاو، کیوں نہ خود ہی بتادوں۔ میئر نامی عیاشی تم جیسے خوش نصیب شہروں کو میسر آتی ہے۔ ہم جیسے بد نصیبوں کو نہیں۔ میئر کراچی ابھی دو تین روز پہلے ہی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں یہ ثابت کرنے پیش ہوئے تھے کہ ان کا دہشتگردوں سے کوئی تعلق نہیں۔ سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی ہوگئی۔ اور معزز جج نے اگلی تاریخ دے دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •