میخائیل گورباچوو: روس کی تعمیر نو کے آئینے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلکس کے پہلے اور آخری صدر میخائیل گورباچوو کو یقین ہے کہ وہ ملک میں آزادی اور جمہوریت لائے ہیں لیکن سابق سوویت یونین کی بیشتر آبادی ایسا نہیں سوچتی۔ کمیونزم کے حامی تو انہیں غدّار کہتے ہیں۔ انہوں نے سرد جنگ کو تمام کیا اور سوویت یونین کو دفن کر دیا۔ مغرب میں انہیں سراہا جاتا ہے اور مشرق میں ان کو پسند نہیں کیا جاتا۔ ہمارا آج کا موضوع میخائیل گورباچوو اور ان کا عہد ہے :

میخائیل گورباچوو کو اپنی اہلیہ سے بے تحاشا محبت تھی۔ سوویت سیاسی ثقافت میں رہنماؤں کی بیویوں میں سے کسی نے بھی اتنا قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا تھا جتنا کہ ان کی اہلیہ نے، وہ ایک نابغہ شخصیت تھیں۔ گورباچوو وہ پہلے سوویت رہنما تھے جو پہلی سوویت خاتون اوّل کو دنیا کے سامنے لائے تھے۔ ملک کے تمام رہنماؤں کے برعکس گورباچوو نے تمام غیر ملکی دورے اپنی اہلیہ کے ہمراہ کیے تھے۔ ٹیلی ویژن کے کیمرہ مینوں نے ان مواقع کو بڑا بڑا کرکے خاتون اوّل کی ملاقاتوں کو دکھایا تھا۔

اس میں ایک مثبت پہلو تھا۔ بہت جلد لاکھوں عورتیں سیاست میں دلچسپی لینے لگی تھیں۔ وہ ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے ملبوسات اور انداز گفتگو پر اور ساتھ ہی دکھائے جانے والے اجلاسات کے نتائج پر جوش و خروش سے بحثیں کرنے لگی تھیں۔ آج کچھ تو اس کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ رئیسہ گورباچووا نے عورتوں کی سیاست کے بڑے دھارے میں آنے میں مدد کی تھی۔

ان کے اس عمل میں ایک منفی پہلو بھی تھا۔ کہا جانے لگا تھا کہ گورباچوو اپنی اہلیہ کے زیر اثر ہیں۔ حتٰی کہ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ سوویت یونین کی قیادت وہ نہیں بلکہ ان کی ذہین اور عقلمند زوجہ رئیسہ کرتی ہیں۔ آج اس رائے کی صد بصد توثیق ہو چکی ہے کہ میخائیل گورباچوو ملک کے اعلٰی ترین عہدے پر ہوتے ہوئے بھی ”جورو کے غلام“ ہی رہے تھے۔

بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ میخائیل گورباچوو پندرہ سال تک ہارویسٹر کمبائن چلانے کی مشقت کرتے رہے تھے۔ وہ روس کے ایک جنوبی صوبے میں کسان خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد بہت زیادہ لوگوں کے مارے جانے کی وجہ سے ملک میں ہاتھوں سے محنت کرنے والوں کی کمی تھی۔ انہیں بھی بہت سے دوسرے نوجوانوں کی طرح سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کام بھی کرنا پڑا تھا لیکن اپنے جیسے لاکھوں نوجوانوں کے برعکس مقدر کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی تھی۔

سترہ سالہ مشقت کی کامیابی کے بعد انہیں تمغہ ودیعت ہوا تھا۔ ان کی زندگی کے اس درخشاں لمحے نے، زرعی صوبے کے اس نوجوان کے سامنے خواب کے سے امکانات کھول دیے تھے۔ گورباچوو اب بھی ادبی روسی زبان میں بات نہیں کرسکتے بلکہ دیہاتی کسانوں کے سے انداز میں باتیں کرتے ہیں۔ جب ان کی کہی باتوں کو دوسری زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو اس کا احساس نہیں ہوتا لیکن روس میں ان کے لہجے کا بہت سے لوگ اکثر ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔

گورباچوو اپنے باپ کے فرمان کے مطابق ماسکو چلے گئے تھے جہاں انہوں نے ماسکو یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں داخلہ لے لیا تھا۔ وہ طاقتور اور خوبصورت نوجوان تھے چنانچہ ان پر شعبہ فلسفہ کی رئیسہ نام کی ذہین طالبہ کا دل آ گیا تھا۔ نوجوان جوڑا جلد ہی بیاہ کے بندھن میں بندھ گیا تھا۔ بعد کے تمام سالوں میں اپنی اہلیہ کے ساتھ محبت اور ولولے کا اظہار کرتے رہے تھے۔ رئیسہ گورباچوو نے تیس سال بعد خاتون اوّل کی حیثیت پالینے کے باوجود بھی اپنی علمی سرگرمیوں سے منہ نہیں موڑا تھا۔

وہ انسانیت پرستی اور جمہوریت کی حامی تھیں۔ زیادہ تر اپنی بیوی کے ہی زیر اثر میخائیل گورباچوو نے سوویت کمیونزم کے اعمال بارے نئی طرح سے سوچنا شروع کیا تھا۔ رئیسہ گورباچووا نے ہی اپنے شوہر کی طویل اور اکتا دینے والی رپورٹوں کو نئی اصطلاحات سے دلچسپ بنایا تھا جیسے کہ ”انسانیت کے چہرے والا سوشلزم“ ”نئی فکر“ اور ”انسانی اقدار۔“

ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد گورباچوو نے وکیل کے طور پر کل تین روز کام کیا تھا۔ انہیں کمیونسٹ پارٹی کا پرچار کرنے پر مامور کر دیا گیا۔ ان کا یہ زبردست کام پہلے کسی صوبے میں اور پھر ماسکو میں براہ راست پارٹی کے تحت رہا۔ 1985 میں انہیں سوویت کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا جنرل سیکریٹری چن لیا گیا تھا جو اپنے آپ ملک کے سربراہ کا عہدہ بن جایا کرتا تھا۔ معمر نسل کو ان سے توقعات تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ پارٹی کے متزلزل بالادست عہدوں کا وقار بحال کر سکیں گے۔ کام بہت مشکل تھا کیونکہ ملک میں ترقی کی رفتار بہت سست ہو چکی تھی۔ محنت کے لیے مہیج کم ہو چکا تھا، ساتھ ہی لوگوں کا کمیونسٹ مثالی افکار پر سے یقین ڈگمگانے لگا تھا۔

گورباچوو نے ملک کی ترقی کو سریع کرنے کی راہ اختیار کی تھی۔ انتہائی ضروری اصلاحات کا آغاز کیا گیا تھا جو سست رو، بے اثر اور متضاد تھیں۔

گورباچوو خود بھی روسی وادکا پینے کے شوقین تھے لیکن انہوں نے بیوی کے زیر اثر وسیع پیمانے کی الکحل مخالف مہم شروع کر دی۔ شراب کی قیمت بہت زیادہ اور فروخت کو محدود کر دیا گیا تھا۔ وادکا مخصوص اوقات پہ ہی خریدی جا سکتی تھی۔ تین سو تیس گرام (ملی لیٹر) کی ایک چھوٹی بوتل سامنے آئی تھی، جس کو لوگ ملک کے رہنما کی بیوی کے نام پر ”رائسکی“ کہنے لگے تھے۔ لوگوں کو یہ کام پسند نہیں آیا تھا۔ لوگ اپنے طور پر شراب بنانے لگے تھے۔ دکانوں سے شکر غائب ہو گئی تھی کیونکہ لوگ اسے دیسی شراب بنانے کی خاطر استعمال کرنے لگے تھے۔ گورباچوو کے متعلق بہت زیادہ لطیفے بننے لگے تھے جن میں مثال کے طور پر ایک یہ بھی تھا:

”ایک بین الاقوامی سمٹ کے اجلاس کے بعد دوپہر کا کھانا شروع کیا گیا۔ ویٹرز نے تمام ملکوں کے سربراہوں کے سامنے رکھے فنجانوں میں شراب انڈیلی لیکن میخائیل گورباچوو کا فنجان خالی رہنے دیا گیا۔ انہوں نے ناپسندیدگی سے استفسار کیا، ’ایسا کیوں؟‘ تو انہیں جواب دیا گیا: ’آپ کو صرف دو بجے سہ پہر تا سات بجے شام شراب دی جا سکتی ہے۔‘“

تاہم گورباچوو کی الکحل مخالف مہم کے باعث نشہ کم ہونے لگا تھا، ملک میں جرائم میں کمی آ گئی تھی لیکن گورباچوو کا بحیثیت ملک کے رہنما کے وقار کو زور دار بٹہ لگا تھا۔

گورباچوو کی اصلاحات کو، چاہے وہ کتنی ہی معقول کیوں نہ تھیں، افسرشاہی کے بہرے پن اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گورباچوو، ان کی اہلیہ اور ان کے حامی سمجھ گئے تھے کہ بغیر اصلاحات کے پورے سیاسی نظام کی کامیابیوں تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جلد ہی ماسکو اور دوسرے شہروں میں پہلے سے موجود پارٹی کی قیادت کو ہٹا دیا گیا۔ تعاونی کاروبار اور ذاتی جائیداد کی حوصلہ افزائی کی جانے لگی تھی۔ سرکاری پابندیاں ختم ہو گئی تھیں۔ آزادی اظہار اور پریس کی آزادی شروع ہو گئی تھی۔ ان سب جمہوری اصلاحات کے ساتھ ساتھ خود گورباچوو میں بھی ان کی معقول اہلیہ کے طفیل ارتقا ہو رہا تھا اور انہوں نے بہت سے نظریاتی عقائد کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

بین الاقوامی معاملات میں گورباچوو نے ”نئی فکر“ پر مبنی پالیسیاں اپنائیں جن کے باعث امن کے ضمن میں بہت سی پہل قدمیاں کیں۔ 1986 میں دورہ ہند کے موقع پر انہوں نے راجیو گاندھی کے ساتھ میثاق دہلی پر دستخط کیے تھے۔ اس دستاویز میں ایک نئی سیاسی اصطلاح ”جوہری ہتھیاروں سے آزاد اور غیر متشدد دنیا“ استعمال کی گئی تھی۔ تصور زبردست تھا۔ اس نے بین الاقوامی تعلقات کو صحت مند بنانے میں مدد دی تھی۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوویت یونین کی عسکری طاقت امریکہ کی عسکری طاقت کے مساوی ہو چکی تھی۔

گورباچوو نے اس مساوی پن کو ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے سوویت یونین کے فوجی بجٹ کو یک لخت بہت زیادہ کم کر دیا تھا۔ تمام ملکوں سے سوویت یونین کے فوجی اڈّے ختم کر دیے تھے۔ مشرقی یورپ میں کمیونسٹ نظام زمین پر آرہا تھا۔ دنیا یک قطبی ہو چکی تھی۔ صرف ایک بڑی طاقت بچ رہی تھی یعنی امریکہ۔ کیا ایسا ہونے سے دنیا بہتر ہو گئی تھی؟ اس سوال کا جواب آج ہر ایک اپنے مطابق دیتا ہے۔

مغرب میں گورباچوو کو بطور ہیرو لیا جانے لگا تھا۔ ان کو نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی مغرب کے تجزیہ نگاروں نے یہ بھی کہا تھا کہ سوویت یونین دسیوں سال مقابلہ کر کے بالآخر سرد جنگ میں ہار گیا۔

سوویت یونین میں گورباچوو نے سیاسی اصلاحات کرنا شروع کر دی تھیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے ملک کی قیادت میں کردار بارے آئین کی شق تبدیل کر دی گئی تھی۔ ملک کے لیے ایک نئے عہدے صدر کا انتخاب ہوا تھا۔ میخائیل گورباچوو جیت گئے تھے۔ وہ سوویت یونین کے پہلے اور جیسے کہ جلد پتہ چل گیا تھا آخری صدر رہے۔

گورباچوو کی 1991 کی ان معاشی اصلاحات کے باعث جن کی پیروی نہیں کی گئی تھی، معیشت بند گلی میں پھنس کر رہ گئی تھی۔ دکانوں کے شیلف خالی ہو گئے تھے۔ غذائی سامان کی کمی ہو گئی تھی۔ کچھ سامان تو راشن پہ دیا جانے لگا تھا۔ بحران کے دوران لبرل اور کنزرویٹیو لوگوں میں شدید آویزش شروع ہو گئی تھی۔ ایسے حالات میں، سیاسی مبصرین نے، اشیاء کے ناکافی پن کا ذمہ دار خود گورباچوو کو ٹھہرایا تھا۔

1991 کے موسم گرما میں جب حالات حد سے زیادہ خراب تھے، گورباچوو اپنی اہلیہ کے ہمراہ بحیرہ اسود پہ تفریح کرنے کی خاطر چلے گئے تھے۔ اس وقت پہ اعلٰی سطح کے کچھ لوگوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کمیٹی برائے ہنگامی حالات بنا دی تھی اور ملک کو ماضی کی جانب واپس لانے کا سوچا تھا تاکہ آزادی اظہار، کئی پارٹیوں کے سیاسی نظام اور نئے تجارتی ڈھانچے کو ختم کر دیں۔ ماسکو میں ہنگامی حالات کے ضمن میں فوج بلا لی گئی تھی۔ کئی دنوں تک پرہجوم مظاہروں کے بعد یہ کمیٹی ختم ہو گئی تھی اور اقدام بغاوت کے ذمہ دار افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ صاف بات ہے عوام نہیں چاہتے تھے کہ وہ ماضی کو لوٹ جائیں۔ تاہم ان کشیدگی کے دنوں کے دوران استراحت میں مصروف رہنے والے گورباچوو کے وقار کو شدید دھچکہ پہنچا تھا۔

بغاوت فرو ہونے جانے کے بعد گورباچوو ماسکو پہنچے تھے اور قطع نظر اس کے کہ ان کا وقار پامال ہو چکا تھا وہ تین ماہ تک سوویت یونین کے صدر کی کرسی پہ بیٹھے رہے تھے۔ اس عرصے میں کئی ریاستیں سوویت یونین سے نکل گئی تھیں۔ دسمبر 1991 میں منسک کے نواح میں نئی ریاستوں روس، بیلا روس اور یوکرین کے صدور کا اجلاس ہوا تھا۔ انہوں نے سوویت یونین کو ختم کر دینے اور ”کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس“ بنانے سے متعلق سمجھوتہ کر لیا تھا۔ 25 دسمبر 1991 کو میخائیل گورباچوو نے عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ اگلے ہی روز سوویت سوشلسٹ ری پبلکز یونین کو ختم کر دیے جانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا تھا۔

مستعفی ہونے کے بعد گورباچوو اکثر غیر ملکوں کے دروں پر جاتے رہے اور وہاں لیکچر دیتے رہے۔ انہوں نے سماجی، معاشی اور سیاسی تحقیق کے لیے ایک فاؤنڈیشن بنائی۔ انہیں انٹرنیشنل گرین کراس کا صدر چنا گیا۔ انہوں نے دستاویزی اور اشتہاری فلموں میں رول کیے۔ 1996 میں انہوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا لیکن ایک فیصد سے کچھ ہی زیادہ ووٹ حاصل کر سکے۔ 2004 میں انہیں صوفیہ لارین اور بل کلنٹن کے ساتھ ”بیسٹ سپوکن ورڈ البم فار چلڈرن“ کے لیے ”گریمی ایوارڈ“ ملا۔

رئیسہ گورباچووا 1999 میں خون کے سرطان کے باعث وفات پا گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ انہیں روس میں پسند نہیں کیا جاتا، انہوں نے ایک روز تلخی کے ساتھ کہا تھا، ”مجھے اتنی شدید بیماری میں مبتلا ہو کر ہی مرنا تھا تاکہ لوگ مجھے سمجھ سکیں۔“ 2009 میں میخائیل گورباچوو نے روس کے راک گلوکار آندرے مکاریوچ کے ساتھ مل کر ”رئیسہ کے لیے گیت“ ریکارڈ کرایا تھا جس میں اپنی پیاری اہلیہ کے نو عدد پسندیدہ رومانی گیت گائے تھے۔ اس ڈسک کو لندن میں ایک نیلامی کے دوران سترہ لاکھ ڈالر میں فروخت کیا گیا تھا۔

مغرب میں آج بھی گورباچوو کو آزادی دلانے والا ہیرو سمجھا جاتا ہے جنہوں نے سرد جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔ روس میں ان کے بارے میں آراء قطعی بھی یکساں نہیں ہیں۔ بہت زیادہ لوگ ایسے ہیں جو اپنے پرانے گھر یعنی سوویت یونین کے ڈھے جانے پر متاسف ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •