سوسائٹی میں مدغم نہ ہونا! انٹگریشن اور مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگلینڈ سلاؤسے لیبر پارٹی کے منتخب رکن تن من جیت سنگھ، جنہیں 4 ستمبر سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔ پارلیمان کے وقفہ سوالات کے سیشن میں تن من جیت نے اپنے جذباتی انداز میں وزیرِ اعظم بورس جانسن سے مخاطب ہو کر انہیں یاد دلایا کہ انہوں نے ماضی میں برقع پہننے والی مسلمان خواتین کو ’لیٹر بکس‘ اور ’بینک چور‘ کہا تھا جس پر نہ تو انہوں نے اور نہ ہی ان کی جماعت نے معافی مانگی اور نہ ہی ملک میں اسلاموفوبیا کے متعلق کوئی قدم اٹھایا ہے۔

جیت سنگھ کا یہ کہنا بھی تھا کہ ’اگر میں پگڑی پہننے یا کراس پہننے، یا کپا یا ٹوپی پہننے کا فیصلہ کرتا ہوں، یا وہ خواتین حجاب یا برقع پہننے کا فیصلہ کرتیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس اسمبلی کے معزز اراکین کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ حلیے کے بارے میں توہین آمیز اور باعثِ تفریق بیان دیں۔ ہمارے ملکوں یعنی انڈیا پاکستان میں مختلف ڈی گریڈناموں سے پکارا جانا ایک معمول کی بات ہے۔ مگر جن کو ان ناموں سے پکارا جاتا ہے ان کے لئے برداشت کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمان خواتین کو کتنا دکھ اور تکلیف ہوتی ہو گی۔ جیت سنگھ کے ان الفاظ پر درالعوام تالیوں سے گونج پڑا اور وزیرِ اعظم پریشان دکھائی دیے۔ انھوں نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی تحقیقات کے پیچھے چھپنے کے بجائے وہ آخر کار کب اپنے توہین آمیز اور نسل پرستانہ الفاظ پر معافی مانگیں گے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ وزیرِ اعظم کے ان الفاظ کی وجہ سے ملک میں نفرت پر مبنی جرائم میں صرف ایک ہفتے میں 375 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

تن من جیت سنگھ جو آل پارٹیز پارلیمانی گروپ آف برٹش مسلمز کے وائس چیئر مین بھی ہیں کہتے ہیں کہ بورس جانسن کے اخبار میں اس کالم کے چھپنے کے بعدکئی مسلمان خواتین کے حجاب اتارنے کی کوشش کی گئی۔ کئی ایک کو برا بھلا کہا گیا اور کئی ایک پر انڈے اور ٹماٹر پھینکے گئے۔ ’تن من جیت سنگھ کی جرات اور سنگھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے کے باوجود مسلمان کمیونٹی کے لئے آواز اٹھانا ان کی وجہ ِ شہرت بن گیا۔ بورس جانسن نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ د راصل ان کا کہنے کا مقصد کچھ اور تھا مگر ان کی زبان سے نادانستہ نکل جاتا ہے۔

دوسرے بورس جانسن کے اس بیان کو میڈیا نے کچھ زیادہ اچھال دیا۔ اس کے پس منظر میں دیکھا جائے تو برقعے کے غلط استعمال نے اس کی افادیت کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ یہاں تک کہ اب عدالتیں بھی برقعے میں بیان دینے کی اجازت نہیں دیتیں۔ ڈاکٹر کوبرقعے میں مریضہ کو دیکھنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ درست صحیح مگر جیت سنگھ کی تقریر نے مسلمز کو فائدہ پہنچا یا۔ وہ اس لئے بھی کہ جب کوئی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والا آپ کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو بات کا اثر دوگنا ہو جاتا ہے اوریقیناً اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ مگراس کے ساتھ ساتھ بہت سے سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔

1960 کی دہائی سے بہت سے پاکستانی انگلینڈ، یورپ، امریکہ، اور ترقی یافتہ ممالک میں آباد ہیں۔ ہجرت کا یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ 60 سال کا لمبا عرصہ گزرنے، اپنے ملک کو خیرآباد کہنے اور یہاں کی شہریت حاصل کرنے کے باوجود نہ صرف پا کستانی مسلم بلکہ اور کئی مذاہب اور دسرے ممالک سے ہجرت کرکے آئے ہوئے لوگ اس سوسائٹی یا معاشرے میں خود کو انٹگریٹ یعنی مدغم نہیں کر سکے۔ جس کی وجہ سے آج وہ بے شمار مسائل کا شکا ر ہیں۔

اپنی شناخت برقرار رکھنا اچھی بات ہے لیکن جب بھی کسی ملک یا نئی سوسائٹی میں ہجرت کی جاتی ہے تو وہاں کی بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ وہاں کی سوسائٹی، کلچر، زبان، اس کے قوانین اورادب و آداب کو انفرادی یا اجتماعی طور پر قبول کرنا پڑتا ہے۔ اوراس ملک کا وفادار رہنا پڑتا ہے۔ مگر یہاں المیہ یہ ہے کہ دوسرے ممالک میں آ کر بھی ہم نے دوسروں سے الگ تھلگ آبادیوں میں رہنے کے علاوہ اپنے ہم مذاہب کے ساتھ اکٹھے رہنے اور اپنی رسومات اور کلچر اور لباس و زبان کو ہی ترجیح دی۔

ہم جس ملک میں رہتے ہیں اسی کو برا بھلا کہتے ہیں۔ تمام سہولیات حاصل ہونے کے باوجود اپنی مذہبی، مشرقی، سماجی اورمعاشرتی اقدار کو ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ سوسائٹی اور کلچر کو اپنانے کی بجائے ہم نے اپنے لڑکے لڑکیوں کو دوسروں میں مکس ہونے نہیں دیا۔ بچوں کواچھی تربیت دینے کی بجائے ہم انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ وہ غیر قوم لڑکوں اور لڑکیوں کو دوست نہ بنائیں اور نہ ہی انہیں گھرلائیں۔ حالانکہ اس کا فائدہ اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔

یہاں بھی یہود و نصاری جیسے معاملات کوہم طول دیتے ہیں جس سے دوسرے مذاہب سے پیار و محبت کی بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ شرعی لاء کی با ت بھی کرتے ہیں۔ ملک سے وفا داری کی بجائے ہم مذہب چاہیے وہ سمندر پار ہی کیوں نہ ہو جہاد کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ سابق میئر رگبی ڈاکٹر جیمس شیرا، صادق خان لندن کے میئر، اور موجودہ وزیر خرانہ ساجد جاوید اورسعیدہ وارثی جیسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جنہوں نے برطانیہ میں مذغم ہونے کی تمام شرائط پوری کیں۔

معاشرتی اور مذہبی سطح پر ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ دوسری طرف انہوں نے خود کو اس معاشرے میں مدغم کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانیوں کو اپنی روش تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے ورلڈٹریڈ ٹاور پر دہشت گردی اور اس کے بعد شام و عراق کی جنگ میں جہادی دلہن اور جہاد کرنے کے حالات پیدا ہونے سے تعصب اور ایذارسانی کا سامنا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صرف پاکستانی مسلمان ہی مسائل کا شکار ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کہیں ایسا ہوا ہو مگر بحیثیت پاکستانی چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو، رنگ، شکل، زبان، پہناوا اورعادات کی واضح پہچان نے ان کے لئے مسائل و مشکلات پیدا کی ہوئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم یکسر بدل جائیں۔ مگر کوشش تو ہونی چاہیے۔ رہتے ہم انگلینڈ میں ہیں اور سوچتے سمجھتے اب بھی ہم پاکستان ہی کے بارے میں ہیں۔ انہی وجوہات  سے دنیا میں آج نیشنل ازم اور مذہبی انتہا پسندی نے طاقت پکڑ لی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •