ڈنمارک کی دوشیزہ، فلسطینی نوجوان اور اسرائیلی ایجنٹ


احمد سعید کی وجہ سے مجھے بھی فلسطینیوں کی زندگی کے کئی پیچ و خم سمجھ میں آئے۔ اس نے مجھے بتایا کہ کس طرح سے جنگ عظیم دوم کے بعد راتوں رات ہزاروں فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور اپنی زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔ ہٹلر کے ستائے ہوئے یہودیوں نے اپنے مقصد کے لئے سینکڑوں انسانوں، عورتوں، بچوں، بوڑھوں، جوانوں کو موت کے گھاٹ اُتاردیا۔ کان یونس، سفاف، زیتون، اور نہ جانے کتنے دیہات آبادیوں سمیت یہودیوں نے تباہ کردیئے۔

اس وقت جب ہٹلر کو مرے ہوئے دس سال بھی نہیں ہوئے تھے، اس ہٹلر کو جس نے یہودیوں کو جرمنی سے نیست و نابود کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ حال ہی میں شتالی کے کیمپ میں اسرائیلی جنرل شیرون نے جو خون کی ہولی کھیلی تھی وہ کس سے چھپی ہوئی ہے۔ نازیوں سے بدتر کام کیا شیرون نے۔ یہودیوں نے اسے اپنا وزیراعظم بناڈالا۔

”میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا یہودی اندھے ہوگئے تھے جب وہ یورپ چھوڑ کر اسرائیل آئے اور ان کے سامنے آہستہ آہستہ فلسطینیوں کو بے گھر کیا جارہا تھا، ان کی عورتوں کو پامال کیا جارہا تھا، ان کے بچے ظلم و ستم کا شکار ہورہے تھے۔ انہیں ختم کیا جارہا تھا ایک اور نسل کا خاتمہ ایک اور زمین پر قبضہ، صیہونیت سے مجھے شکایت نہیں ہے۔ ان کا تو نظریہ ہی نسلی امتیاز پر مبنی ہے مجھے تو دنیا بھر کے ان یہودیوں سے شکایت ہے جو امن و انصاف اور آزادی کے نعرے لگاتے ہیں جن کو سمجھدار سمجھا جاتا ہے۔ ووڈی ایلن سے لے کر اسپل برگ تک اور لیری کنگ سے لے کر ایلزبتھ ٹیلر تک ان سب کا اجتماعی ضمیر سویا ہوا ہے۔“ ایک دن باتوں باتوں میں احمد سعید نے مجھ سے کہا تھا۔

”ہاں یہ بات تو ہے مگر میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بے شمار یہودی ہیں جو اسرائیل کی صیہونی طرز عمل کو ناپسند کرتے ہیں اس کے خلاف اخبارات میں لکھتے ہیں۔ ان میں صحافی بھی ہیں، ناول نگار بھی اور سیاستدان بھی جو اسرائیل میں رہ کر صیہونیت کی مخالفت کررہے ہیں۔“ میں نے اس سے کہا کہ اسرائیلی کمیونسٹ پارٹی جس طرح سے فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرتی ہے ویسے تو مصر اور سعودی حکومتیں بھی نہیں کرتی ہیں۔

وہ ہنس دیا تھا۔ ”تم صحیح کہہ رہے ہو، ایک محدود تعداد ہے یہودیوں کی جو صیہونیت کے خلاف ہیں جو اقبال احمد، ایڈورڈ سعید اور نوم چومسکی کی طرح بات کرتے ہیں جو رابرٹ فسک جیسے صحافیوں کی حمایت کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم ہے اور وہ اس یہودی لابی کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں جن کا وہائٹ ہاؤس اور ڈاؤننگ اسٹریٹ پر اثرونفوذ ہے۔ جو دنیا کی قسمت سے کھیلتے ہیں جہاں ہم لوگوں کی طرز زندگی، موت و حیات کا فیصلہ ہوتا ہے جہاں تک مصر، کویت، سعودی عرب، اردن اور دوسری عرب حکومتوں کا تعلق ہے وہ فلسطینیوں کے لئے کیا کریں گے یا کرسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عوام کے حقوق کو پامال کیا ہوا ہے ان پر وہی جبر کررہے ہیں جو اسرائیلی ہم پر کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے یہ کہ کعبہ کے سوداگر ہیں اور مسجد نبوی کے تاجر۔ یہ امریکہ کی گود میں بیٹھے ہوئے دوسری طرف کے اسرائیلی ہیں ان سے تو شکایت بھی نہیں کرنی چاہیے۔“ اور اس کے لہجے میں نفرت عیاں تھی۔

”مگر مسئلہ فلسطینیوں کا بھی ہے۔“ شارلیٹ بیچ میں بولی تھی۔ ”فلسطینیوں کی مختلف تنظیمیں ایک دوسرے سے لڑتی رہتی ہیں۔ ایک طرف مذہبی انتہا پسندی ہے تو دوسری جانب بدعنوانی کے گھناؤنے کردار ہیں فلسطینی حکمران۔ قیمت وہ غریب فلسطینی دے رہے ہیں جن کی زندگی میں نہ چند لمحوں کی خوشی ہے نہ ہی عزت کی زندگی ہے اور نہ چین اور سکون۔“

اس کے لہجے میں بلاکی مایوسی تھی اور خوبصورت نیلی آنکھوں میں اُداسی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ مجھے وہ اچھی لگی تھی اور میں دل ہی دل میں احمد پر رشک کررہا تھا۔

باتوں باتوں میں سال گزرگیا۔ احمد سعید اور شارلیٹ ڈبلن میں اپنا کام ختم کرکے لندن چلے گئے۔ کورائی ڈن کے علاقے میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہ کراپنے اپنے تحقیقی موضوعات پر کام نمٹانے میں لگ گئے۔ کچھ ایسا ہوا کہ چھ مہینے میں دو دفعہ مجھے بھی لندن جانا پڑا۔ ایک دفعہ تو مجھے لندن یونیورسٹی کے ایک مذاکرے میں شرکت کی دعوت دی گئی اور دوسری طرف امی جان کی علالت کی وجہ سے پاکستان جانا پڑا تو لندن سے ہوتا گیا۔ واپسی میں میں نے ایک رات ان دونوں کے پاس گزاری۔

دونوں دفعہ وہ دونوں بڑی گرمجوشی سے ملے۔ رات کا کھانا ہم لوگوں نے ساتھ کھایا۔ میں نے انہیں پاکستانی سیاست کے لطیفے سنائے اور پاکستانی عوام کی جہالت کا رونا رویا اور پاکستانی حکمرانوں کی تنگ نظری، بدعنوانی اور غنڈہ گردی کی داستانیں سنائیں۔ انہوں نے مجھے اسرائیل کی دہشت گردی کے ایسے واقعات سنائے کہ مجھے یقین نہیں آیا کہ آج کے زمانے میں بھی کوئی ریاست اپنے نہتے شہریوں کے ساتھ ایسا کرسکتی ہے۔ یہ بہت دنوں بعد سمجھ سکا تھا کہ مذہبی جنونی اور کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

مجھے اندازہ ہوگیا کہ اسرائیل کچھ بھی کرسکتا ہے۔ فلسطینیوں کی زندگی میں محرومیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ دونوں میرے ساتھ ایئرپورٹ تک آئے جہاں سے میں ڈبلن واپس آگیا تھا۔
پھر واقعات بڑی تیزی سے ہوئے۔ ایک دن شارلیٹ کا فون آیا کہ اسرائیلیوں نے احمد سعید کو اغوا کرلیا ہے۔

مجھے یقین نہیں آیا کہ لندن شہر میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ اس نے بتایا کہ رات ایک بجے وہ دونوں سورہے تھے کہ کمرے میں لائٹ جل گئی۔ چھ مسلح آدمی کھڑے تھے، میری نظروں کے سامنے انہوں نے احمد کو انجکشن لگایا اور ٹرالی پر ڈال کرباہر لے گئے۔ ان سب نے ایمبولینس کے پیرامیڈیکس کی وردی پہنی ہوئی تھی۔ یہ سب کچھ منٹوں میں ہوگیا مجھے خاموشی سے ایمبولینس میں بیٹھنا پڑا اور ایمبولینس تیزی سے نکلتی چلی گئی۔ چاروں طرف سے بند ایمبولیس نہ جانے کن راستوں اور کن علاقوں سے گزرتے ہوئے اس بڑے سے مکان میں پہنچی، مجھے کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔

یہ کہہ کر اس کی آواز روہانسی سی ہوگئی تھی۔
”تم کہا ں ہو؟ پولیس کوبتایا ہے۔“ میں نے سوال کیا تھا۔

”میں اپنے گھر پر ہوں۔ دو دن تک وہ میرے سامنے احمد سے اس کے بھائی کے بارے میں پوچھتے رہے اور جو کچھ اسے پتہ تھا وہ بتاتا رہا مگر ان کی تسلی نہیں ہوئی تھی۔ پھر اس کے سامنے انہوں نے کہا تھا کہ ’تمہیں آخری چانس دے رہے ہیں، اپنی بیوی سے مشورہ کرلو۔ اگر بات مانو گے تو اس سے ملاقات ہوگی۔ اگر نہیں مانوگے تو خدا حافظ کہہ دو۔‘ “

بند کمرے میں احمد نے میرے کان میں کہا تھا کہ ”یہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے لوگ ہیں۔ لگتا ہے مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے جو یہ مجھ سے پوچھنا چاہ رہے ہیں وہ مجھے پتہ نہیں ہے اگر پتہ ہوتا بھی تو میں مرجاتا پر نہیں بتاتا۔ تم اپنا خیال رکھنا۔ تمہیں یہ لوگ کچھ نہیں کریں گے۔ تم ڈینش ہو یورپین ہو۔ تمہیں ٹھکانے لگانا مشکل ہوگا۔“ یہ کہہ کر اس نے مجھے گلے لگالیا، آخری دفعہ میں اس کے گلے لگی تھی۔

آدھے گھنٹے کے بعد وہ لوگ آئے اور احمد کو لے کر چلے گئے۔ پھر مجھے نہ جانے کیسے نیند آ گئی۔ جب آنکھ کھلی تو میں اپنے اپارٹمنٹ میں تھی۔ میں نے فوراً ہی پولیس کو فون کرکے بلایا۔ رپورٹ لکھوائی ہے مگر لگتا ہے کہ پولیس کو میری بات کا یقین نہیں ہے۔ ہمارے اپارٹمنٹ میں احمد کی کوئی بھی چیز نہیں ملی۔ نہ کاغذ، نہ پاسپورٹ اور نہ کپڑے۔ اپارٹمنٹ ایسا لگا تھا جیسے میں برسوں سے یہاں اکیلی رہ رہی ہوں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4